میرے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس کے بعد بڑے بھائی کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ ہم تین بھائی، تین بہنیں تھیں۔ اب دو بھائی اور تین بہنیں حیات ہیں۔ بڑے بھائی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ صرف بیوہ زندہ ہیں۔
برائے کرم واضح فرمائیں کہ مرحوم بھائی کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ ان کی کل پراپرٹی ان کی بیوہ کو ملے گی یا ان کے بھائیوں اور بہنوں کا بھی حصہ ہوگا؟ ان کی بیوہ اپنے سسر کی پراپرٹی میں بھی حصہ مانگ رہی ہیں۔ کیا شریعت ِ اسلامی میں بہو مستحق ِوراثت ہے؟
جواب
(1) والدین کے انتقال کے وقت ان کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں زندہ تھیں۔ ان کے درمیان وراثت اس طرح تقسیم ہوگی کہ کل پراپرٹی کے نو(۹) حصے کیے جائیں گے۔ دو دو حصے ہر بیٹے اور ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو ملے گا۔ بہ الفاظ دیگر ہر بیٹے کا حصہ 22.2% اور ہر بیٹی کا حصہ 11.1% ہوگا۔
(2) بڑے بھائی کے ورثہ میں بیوہ، دو بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوہ کو شوہر کے مالِ وراثت میں سے ایک چوتھائی ملے گا۔ باقی مال بھائیوں اور بہنوں کے درمیان 2.1 کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔ بھائی کو بہن کے مقابلے میں دوگنا ملے گا۔ فی صد میں تقسیم کے اعتبار سے بیوی کا حصہ 25%، ہر بھائی کا حصہ 21.4% اور ہر بہن کا حصہ 10.7% ہوگا۔
(3) بہو کو سسر کی وراثت میں براہ راست حصہ نہیں ملتا۔ البتہ اس کے شوہر کا اپنے باپ کی وراثت میں سے جو حصہ بنتا ہے اور اس کے علاوہ شوہر نے خود اپنا جو بھی مال ترکے میں چھوڑا ہو، اس سب کو شوہر کا ترکہ مان کر اس پورے کا چوتھائی حصہ (% 25 )وہ پائے گی۔
(4) بڑے بھائی کو اپنے باپ کی وراثت میں سے 22% ملا تھا، وہ ان کے ورثہ کے درمیان یوں تقسیم ہوگا: بیوہ 5.6% ہر بھائی کو 4.8% ہر بہن کو% 2.4۔
April 2024