میری اہلیہ کا چند دنوں قبل انتقال ہوگیا ہے۔ اس کے بینک اکاؤنٹ میں کچھ رقم ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ شرعی اعتبار سے اس کی تقسیم ہوجائے۔ ہمارا ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہیں ۔ لڑکے اور بڑی لڑکی کی شادی ہوچکی ہے۔ چھوٹی لڑکی ابھی زیر تعلیم ہے۔ اہلیہ کے والدین کا انتقال ہوچکا ہے۔ بہ راہ کرم مطلع فرمائیں کہ بینک کی رقم کو کس طرح تقسیم کیا جائے؟
جواب
میراث کے احکام قرآن کریم میں مذکور ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُنَّ وَلَدٌج فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِہَآ اَوْ دَیْْنٍط (النساء: ۱۲) ’’اور تمھاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو، اس کا آدھا تمھیں ملے گا، اگر وہ بے اولاد ہوں ، ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی تمھارا ہے، جب کہ وصیت جو انھوں نے کی ہو، پوری کردی جائے اور قرض جو انھوں نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے۔‘‘ اور اس سے اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلاَدِکُمْق لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنثَیَیْْنِج (النساء: ۱۱) ’’تمھاری اولاد کے بارے میں اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔‘‘ اول الذکر آیت سے معلوم ہوا کہ اگر بیوی کا انتقال ہوجائے اور اس کی اولاد ہو تو شوہر کو ترکے کا ایک چوتھائی ملے گا اور موخر الذکر آیت سے معلوم ہوا کہ اولاد میں اگر لڑکے لڑکیاں دونوں ہوں تو بقیہ ترکہ ان کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ ایک لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ ملے۔ فرض کیجیے، آپ کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں چار لاکھ روپے ہیں تو اس کا چوتھائی، یعنی ایک لاکھ روپے آپ کو ملیں گے، بقیہ تین لاکھ میں سے ڈیڑھ لاکھ لڑکے کا اور پچہتر پچہتر ہزار روپے دونوں لڑکیوں کا حصہ ہوگا۔ میراث کی تقسیم کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔ (النساء: ۷) عموماً اس حکم پر عمل کرنے میں کوتاہی کی جاتی ہے، یا صحیح تقسیم نہیں کی جاتی۔ قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جو تقسیم میراث کو بھی حکمِ الٰہی سمجھ کر اس کی صحیح تقسیم کرتے ہیں اور حق داروں تک ان کا حق پہنچاتے ہیں ۔

Leave a Comment