ہمارے ایک عزیز کا ابھی حال میں انتقال ہوا ہے۔ ان کی جائداد ان کے وارثوں میں کس نسبت سے تقسیم کی جائے گی؟ وہ لا ولد تھے۔ ان کی اہلیہ اور ماں باپ کا انتقال پہلے ہوچکا ہے۔ ایک بھائی اور دو بہنیں اور ایک ماں شریک بہن تھیں ۔ وہ سب بھی فوت ہوگئے ہیں ۔ پس ماندگان میں صرف چار بھتیجے، چھے بھتیجیاں ، نو بھانجے اور دو بھانجیاں زندہ ہیں ۔ مرحوم نے اپنی زندگی میں ایک لڑکی کو گود لے لیا تھا، جس سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے۔ اس کے حق میں ایک تہائی سے کم کی وصیت موجود ہے۔ براہ کرم مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق وراثت کی شرعی تقسیم سے مطلع فرمائیں ۔
جواب
شریعت نے میراث کی تقسیم سے قبل قرض کی ادائی اور وصیت کے نفاذ کا حکم دیا ہے: مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِہَآ اَوْ دَیْْنٍط (النساء: ۱۲) مستحقین میراث کے تین درجات ہیں : (۱) ذوی الفروض (۲) عصبہ (۳)ذوی الارحام۔ ذوی الفروض میں میراث تقسیم ہونے کے بعد اگر کچھ بچے گا تو وہ عصبہ میں تقسیم ہوگا اور عصبہ نہ ہوں تو ذوی الارحام کو ملے گا۔ آپ کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق میت کے چار بھتیجے، چھے بھتیجیاں ، ان کے علاوہ متعدد بھانجے بھانجیاں ہیں ۔ ان میں سے صرف بھتیجے عصبہ ہیں ۔ بھتیجیاں ، بھانجے اور بھانجیاں ذوی الارحام میں سے ہیں ۔ اس بنا پر میت کی وصیت نافذکرنے کے بعد بقیہ ترکہ اس کے چاروں بھتیجوں میں برابر برابر تقسیم کردیا جائے گا۔

Leave a Comment