میری پھوپھی کا ابھی حال میں انتقال ہوا ہے۔ ان کے ذاتی اکاونٹ میں کچھ رقم تھی۔ اس کی تقسیم کیسے عمل میں لائی جائے؟ واضح رہے کہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کے شوہر اور دو بہنیں حیات ہیں ۔ بھائیوں کا انتقال ہوچکا ہے، البتہ بھتیجے اور بھانجے ہیں ۔
جواب
قرآن میں ہے کہ ’’اگر کسی عورت کا انتقال ہوجائے تو اس کے شوہر کو اولاد ہونے کی صورت میں ایک چوتھائی اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں نصف میراث ملے گی۔‘‘ (النساء: ۱۲) اسی طرح قرآن میں یہ بھی مذکور ہے کہ اگر ورثاء میں دو بہنیں ہوں تو وہ دو تہائی میراث کی حق دار ہوں گی۔ (النساء: ۱۷۶) بھتیجے عصبہ ہیں ۔ میراث اصحاب الفرائض میں تقسیم ہونے کے بعد اگر کچھ بچے گی تو پائیں گے، ورنہ محروم رہیں گے۔ مذکورہ بالا صورت میں میراث برابر تقسیم نہیں ہو پا رہی ہے، اس لیے کہ شوہر کا حصہ نصف اور بہنوں کا حصہ دو تہائی ہے۔ اسے فقہ کی اصطلاح میں ’عول‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں حسابی قاعدہ کے مطابق تقسیم کا خلاصہ یہ ہے کہ کل میراث کے سات حصے کیے جائیں گے۔ ان میں سے تین حصے شوہر کو اور دو دو حصے بہنوں کو ملیں گے۔

Leave a Comment