حضرت ابراہیم ؈ کا دَورِ تفکُّر

آپ نے تفہیم القرآن میں سورۂ الانعام کے رکوع ۹سے تعلق رکھنے والے ایک توضیحی نوٹ میں لکھا ہے کہ:
’’وہ (حضرت ابراہیم ؑ) ھٰذَا رَبِّیْ کہنے سے شرک کے مرتکب نہیں ہوئے، کیوں کہ ایک طالب ِحق اپنی جستجو کی راہ میں سفر کرتے ہوئے بیچ کی جن منزلوں پر غور وفکر کے لیے ٹھیرتا ہے،اصل اعتبار ان کا نہیں بلکہ اس سمت کا ہوتا ہے جس پر وہ پیش قدمی کررہا ہے۔‘‘
سوال یہ ہے کہ اگر نبوت وہبی ہوتی توحضرت ابراہیمؑ کو عام انسانوں کی طرح خدا کے الٰہ ہونے یا نہ ہونے کے مسئلے میں شک اور تحقیق کی ضرورت نہ ہوتی۔اگر انھوں نے عام انسانوں کی طرح دماغی کاوشوں اور منطق وفلسفہ ہی سے اﷲ کی الوہیت کو پایا تو نبوت ایک کسبی معاملہ ہوا اور ایک فلاسفر اور نبی کے حصولِ علم میں کوئی فرق نہ ہوا۔

حضرت نوح ؈ کے ساتھ کشتی میں سوار لوگ

ثانیاً آپ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ دنیا کی موجودہ انسانی نسل ان سب لوگوں کی ہے جو کہ حضرت نوح ؈ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔آپ نے ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ (بنی اسرائیل:۳ ) سے اس کی دلیل اخذ کی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ،کیوں کہ نوح ؈ کے ساتھ ان کے تین بیٹے بھی کشتی میں سوار تھے۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ سے مراد حضرت نوح؈ کے بیٹے ہیں نہ کہ کچھ اور لوگ۔دوسری جگہ اس کی تفسیر خود قرآن کے یہ الفاظ کرتے ہیں کہ وَجَعَلْنَا ذَرِیَّتَہٗ ھُمْ الْبٰقِیْن (الصافات:۷۷) کتنے کامل حصر کے الفا ظ ہیں !

طوفانِ نوح کی عمومیت

آپ نے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں ایک جگہ اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ طوفانِ نوح عام نہیں تھا۔لیکن ظاہری قرائن اس بات کے خلاف ہیں ۔ اوّل کشتی کس لیے بنائی گئی تھی؟کیوں نہ حضرت نوح ؈ کو ہجرت کرنے کا حکم دیاگیا؟دوم کشتی میں حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا لینا بھی اس بات کا مؤید ہے کہ طوفان نہایت عام تھا۔حضرت نوح ؈ کی بددُعا میں بھی اس عمومیت کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ ہے کہ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا ( نوح:۲۶)

تفہیم القرآن جلد۱، سورۂ النساء، حاشیہ نمبر۱کے تحت آپ نے لکھا ہے کہ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا کے بارے میں عام طور پر جو بات اہلِ تفسیر بیان کرتے ہیں اور جو بائبل میں بھی بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آدمؑ کی پسلی سے حوّا کو پیدا کیا گیا۔ لیکن کتاب اللّٰہ اس بارے میں خاموش ہے۔ اور جو حدیث اس کی تائید میں پیش کی جاتی ہے اس کا مفہوم وہ نہیں ہے جو لوگوں نے سمجھا ہے۔‘‘ اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ حدیث جس کا حوالہ آپ نے دیا ہے یہ تو بخاری و مسلم کی ہے۔

حضرت حوا کی پیدائش

حضرت حوا کی پیدائش کے متعلق تفہیم القرآن جلد۱، صفحہ۳۱۹ میں جناب نے تصریح کی ہے کہ آدم ؈ کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ حدیث بخاری خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعِ آدَمَ کا کیا جواب ہوگا؟

حضرت آدم ؈ کی تخلیق اور تربیت

قرآن مجید نے حضرت آدم ؈ کا ذکر جس انداز سے کیا ہے،وہ اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ نوع بشری کے یہ سب سے پہلے رکن بڑے ہی مہذب تھے۔اس سلسلے میں جو چیز میرے ذہن میں خلش پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس متمدن انسان کی صلب سے وحشی قبائل آخر کس طرح پیدا ہو گئے۔ تاریخ کے اوراق پر نگاہ ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ یہ قبائل اخلاق اور انسانیت کی بالکل بنیادی اقدار تک سے ناآشنا ہیں ۔ نفسیات بھی اس امر کی تائید کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ وحشی انسانوں اور حیوانوں کے مابین کوئی بہت زیادہ فرق نہیں سواے اس ایک فرق کے کہ انسان نے اپنی غور وفکر کی قوتوں کو کافی حد تک ترقی دے دی ہے۔ یہ چیز تو مسئلۂ ارتقا کو تقویت پہنچاتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری اس معاملے میں راہ نمائی فرما کر میری اس خلش کو دور کریں گے اور اس امر کی وضاحت فرمائیں گے کہ ابتدائی انسان کی تخلیق کی نوعیت کیا تھی اور اس کے جبلی قویٰ کس سطح پر تھے؟

حضرت آدم ؈ کے دور کا تعین

حضرت آدم ؈ تاریخ کے کس دور میں پیدا ہوئے؟اس ضمن میں مذہب جو معلومات ہمیں فراہم کرتا ہے،نفسیاتی اور ارضیاتی حقائق ان کی تائید نہیں کرتے۔کیا آدم ؈ اور حوا کا یہ قصہ ایک تمثیل اور مجازی چیزنہیں ؟

کبائر میں جھوٹ کا درجہ

کبائر میں جھوٹ کا کیا درجہ ہے؟کتاب وسنت میں اس کی جس قدر مذمت آئی ہے اور اس کے مرتکب کے لیے جتنی وعیدیں آئی ہیں ،بیان فر مایئے۔کیا بعض حالات ایسے بھی ہیں جن میں جھوٹ بولنا مباح ہوجائے۔

غیبت کی جائز اور ناجائز صورتیں

غیبت گناہ ہے مگر بعض اوقات کسی انسان کے ایسے اخلاقی معائب بیان کرنے ناگزیر ہوتے ہیں جن سے اس کی سیرت کی تصویر کشی ہو، مثلاً وہ جلد باز ہے، غصیلا ہے وغیرہ۔ کیا ضرورۃً بھی ایسا نہیں کیا جاسکتا؟

نیکی کی راہ میں مشکلات کیوں ؟

آج سے ایک سال قبل دنیا کے جملہ افعال بد سے دوچار تھا،لیکن دنیا کی بہت سی آسانیاں مجھے حاصل تھیں ۔میں نہ کسی کا مقروض تھا اور نہ منت کش۔ اور اب جب کہ میں ان تمام افعال بد سے تائب ہوکر بھلائی کی طرف رجوع کرچکا ہوں ،دیکھتا ہوں کہ ساری فارغ البالی ختم ہوچکی ہے اور روٹی تک سے محروم ہوں ۔سوال یہ ہے کہ اچھے اور نیک کام کرنے والوں کے لیے دنیا تنگ کیوں ہوجاتی ہے،اور اگر ایسا ہے تو لوگ آخر بھلائی کی طرف کاہے کو آئیں گے؟یہ حالت اگر میرے لیے آزمائش ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے، تویہ منزل میں کس طرح پوری کروں گا؟