حضرت حسن بصریؒ کو حضرت علیؓ سے خِرقہ ملنے کی روایت

ایک مشہور روایت ہے کہ حضرت حسن بصریؒ کو حضرت علی ؓ نے خرقہ عطا فرمایا تھا اور یہ تمام طرق فقر حضرت علیؓ سے شروع ہوتے ہیں ۔ اس وقت میرے سامنے ملا علی قاریؒ کی موضوعات کبیر ہے۔ روایت خرقہ کے متعلق موصوف کی تحقیق ملاحظہ فرما کر آپ اس پر مدلل تبصرہ فرمائیں ۔ عبارت یہ ہے:
حَدْیثُ لَبْس الْخِرقْۃَ لِلْصْوفِیَّۃِ وَکَوْنِ الْحَنَ الْبصَرِیْ لَبسَہَا مِنْ عَلِیؓ، قَالَ ابْنُ دِحْیَۃَ و ابْنُ الصَّلَاحِ اِنَّہٗ بَاطَلٌ، وَکَذَا قَالَ الَعَسْقَلَانیِ: اِنَّہ لِیْسَ فِی شَئیِ مَنْ طُرُقِھَا مَایُثبْتُ وَلَمْ یَرِدْفِی خَیَرٍ صِحْیَح وَلَا حَسَنٍ وَلَا ضَعِیْفٍ اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم أَلْبْسَ الْخِرْقَۃَ عَلَی الصُّورَۃِ الْمُتَعارَفَۃِ بِیْنَ الصُّوْفِیۃ لِأحَدٍ مِنْ الصَّحَابَۃِ وَلاَ أمَرَ أَحَداً مِنْ الصَّحَابَۃِ یَفْعَلْ ذَالِکَ وَکُلُّ مَا یُرْوَیٰ مِنْ ذَالِکَ صَرِیْحاً فَبَاطلٌ۔ قَالَ: ثُمَّ اِنَّ مِنْ الْکَذِبِ الْمفُتْرِیٰ قَوْلُ مَنْ قَالَ:إ نَّ عَلِیّاً أَلبْسَ اَلْخِرْقَۃَ لِلْحَسَنِ الْبَصْریِ فَاِنَّ اَئِمَّۃَ الْحَدِیثِ لَمْ یُثْبِتُوْالِلْحَسَنِ مِنْ عَلِیّ سَمَاعاً فَضْلاً عَنْ اَنْ یّلُبِسْہٗ الْخِرْقَۃَ۔ ({ FR 1571 })
’’صوفیہ کے خرقہ پہننے کی حدیث اور یہ قصہ کہ حسن بصریؒ کو حضرت علیؓ نے خرقہ پہنایا تھا، ابن دِحیہ اور ابن صلاح کہتے ہیں کہ یہ باطل ہے اور ] اسی طرح [ ابن حجر عسقلانی ؒکہتے ہیں کہ جن طریقوں سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں ہے اور کسی صحیح یا حسن بلکہ ضعیف روایت میں بھی یہ بات نہیں آتی ہے کہ نبی ﷺ نے صوفیہ کے متعارف طریقے پر صحابہ میں سے کسی کو خرقہ پہنایا ہو یا کسی صحابی کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہو۔ اس سلسلے میں جو کچھ روایت کیا جاتا ہے وہ باطل ہے۔ پھر ابن حجرؒ کہتے ہیں کہ یہ بات بھی جھوٹ ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت حسن بصریؒ کو خرقہ پہنایا تھا۔ ائمۂ حدیث کے نزدیک تو حضرت حسنؒ کا حضرت علیؓ سے سماع تک ثابت نہیں ہے کجا کہ ان سے خرقہ پہننا۔‘‘

تصوّف کی اصطلاحات

سلسلۂ تصوّف میں چند اصطلاحات معروف و مروج ہیں ۔ قطب، غوث، اَبدال اور قیوم۔ قرآن و حدیث میں ان کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس کے متعلق جناب اپنی ذاتی تحقیق سے آگاہ فرمائیں ۔

کیا تصوّف مفید ہے؟

تصوّف جس کی دوسری تعبیر احسان وسلوک بھی ہے،جس کی تعلیم اکابر نقش بندیہ،چشتیہ،سہروردیہ، قادریہ، وغیرہ نے دی ہے،جیسے حضرت شیخ شہاب الدین محمد نقش بند، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی، حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی اس تصوّف کو آپ حضرات دین کے لیے مفید سمجھتے ہیں یامضر؟

آپ نے تھوڑی سی بدگمانی سے کام لے کر یہ سمجھا کہ شاید میں اختلاف اور مخالفت میں فرق نہیں کرتا۔ الحمد ﷲ مولانا… نے ایسی تربیت دی کہ ہم دونوں میں فرق کریں ۔ اصلاح باطن کے بارے میں جو کچھ آپ نے لکھا ہے،بعینہٖ یہی نصیحت ہم اپنے متعلقین کو کرتے ہیں ۔ ہم میں اور آپ میں شاید کوئی لفظی اختلاف ہورہا ہو۔مثلاً شوافع ] کذا! شافعیہ[ وحنابلہ سے ہم اختلاف کرتے ہیں مگر ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ امام شافعی ؒ کی راے غیر صحیح یا باطل ہے۔ مزید آپ فرماتے ہیں کہ وہ طریقے صحیح نہیں ہیں جو بعد کے ادوار میں صوفیہ کے مختلف گروہوں نے ایجاد کیے یا دوسروں سے لیے۔ میں ان کی کچھ مثالیں دریافت کرنا چاہتا ہوں ۔ نیز یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جو شخص صحیح کے خلاف طریقے پر ہے، اس کو آپ کیا فرمائیں گے؟ میں تو اس کے ساتھ صرف اختلاف نہیں بلکہ مخالفت بھی رکھتا ہوں ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ ایک شخص کو صحیح کے خلاف طریقے پر بھی سمجھیں اور پھر اس کے ساتھ مخالفت بھی نہ رکھیں ۔
جو طریقہ کتاب وسنت سے ہٹ کر نہ ہو،بلکہ اس کی روح اور مغز تک پہنچنے کے لیے ایجاد کیا گیاہو،اس کو غالباً آپ اپنے اصول کے مطابق اجتہاد فرمائیں گے (بدعت نہیں فرمائیں گے)۔ اسے قبول کرنے نہ کرنے کا آپ کو اختیار حاصل ہے مگر اسے باطل یا غیر صحیح نہیں فرما سکتے۔اگر فرمائیں گے تو پھر اس سے نہ صرف اختلاف راے ہوگا بلکہ مخالفت ضروری ہوگی۔
ان امور کے بارے میں تصریح فرماویں تو بحث ختم ہوجائے گی۔

صوفیہ کے بعض طریقے ،شریعت کی روشنی میں

میں دعوت الی اﷲ اور اقامت دین اﷲ کے کام میں آپ کا ایک خیر خواہ ہوں ،اور مل کر کام کرنے کی ضرورت کا احساس رکھتا ہوں ۔ میں آپ کی طرف سے لوگوں کے اس اعتراض کی مدافعت کرتا رہتا ہوں کہ آپ تصوّف کو نہیں مانتے۔آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نے میرے ایک سوال کا جواب یہ دیا تھا کہ میرے کام میں اہل تصوّف اور غیر اہل تصوّف سب کی شرکت کی ضرورت اور گنجائش ہے۔باقی میں جب صوفی نہیں ہوں تو مکار تو نہیں بن سکتا کہ خواہ مخواہ تصوّف کا دعویٰ کروں ۔آپ کا یہ جواب سیدھا سادا اور اچھا تھا، مگر قلم کی لغزش انسان سے ہوسکتی ہے۔ آپ اپنے رسالے ہدایات( ص ۳ا) میں لکھتے ہیں :
’’ذکر الٰہی جو زندگی کے تمام احوال میں جاری رہنا چاہیے،اس کے وہ طریقے صحیح نہیں ہیں جو بعد کے ادوار میں صوفیہ کے مختلف گروہوں نے خود ایجاد کیے یا دوسروں سے لیے۔‘‘
یہ چوٹ اگر آپ جمیع صوفیہ پر نہ کرتے تو آپ کی دعوت کو کیا نقصان پہنچتا؟اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو واقعی صوفیہ کا حا ل معلوم نہیں یا آپ صوفیہ سے نفرت ظاہر کرکے تحریک اسلامی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ اس لیے ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔امید ہے کہ آپ اپنی اس عبارت میں تبدیلی کردیں گے۔

تصوّف اور تصوّر ِشیخ

میں نے پورے اخلاص ودیانت کے ساتھ آپ کی دعوت کا مطالعہ کیا ہے۔ باوجود سلفی المشرب ہونے کے آپ کی تحریک اسلامی کا اپنے آپ کو ادنیٰ خادم اور ہم درد تصور کرتا ہوں ، اور اپنی بساط بھر اسے پھیلانے کی جدوجہد کرتا ہوں ۔ حال میں چند چیزیں تصوّف اور تصورِ شیخ سے متعلق نظر سے گزریں جنھیں پڑھ کر میرے دل ودماغ میں چند شکوک پیدا ہوئے ہیں ۔آپ عجمی بدعات کو مباح قرار دے رہے ہیں ۔حالاں کہ اب تک کا سارا لٹریچر ان کے خلاف زبردست احتجاج رہا ہے۔جب کہ ہماری دعوت کا محور ہی فریضہ اقامت دین ہے تو اگر ہم نے خدا نخواستہ کسی بدعت کو انگیز کیا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ساری بدعات کو تحریک میں گھس آنے کا موقع دے دیا گیا۔آپ براہ کرم میری ان معروضات پر غور کرکے بتایئے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں تصوّف اور تصورِ شیخ کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں اور فی نفسہٖ یہ مسلک کیا ہے؟

صحابہ کرامؓ اور تزکیۂ نفس

کیا صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین بھی آج کل کے صوفیہ کی طرح تزکیۂ نفس کیا کرتے تھے اور عالم بالا کے مشاہدات ہوتے رہتے تھے؟

تزکیۂ نفس کی حقیقت

تزکیۂ نفس کی صحیح تعریف کیا ہے؟اس بارے میں رسول اﷲﷺکی تعلیم کیاتھی؟متصوفین کا اس سلسلے میں صحیح عمل کیا رہا ہے؟ نیز ایک مسلمان کو اپنی زندگی کے اس شعبے میں کیا صورت اختیار کرنی چاہیے؟

حقیقی توبہ

اس سے قبل میں مبتلاے کبائر تھا مگر اس کے بعد توبہ نصوح کرلی ہے اور اب آپ کی تحریک سے متاثر ہوکر اﷲ کا شکر ہے کہ ایک ’’شعوری مسلمان‘‘ ہوگیا ہوں ۔ لیکن دن رات اپنے اخروی انجام سے ہراساں رہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آخرت کے بجاے دنیا ہی میں اپنے کیے کی سزا بھگت لوں ۔ مگر افسوس کہ اسلامی سزا کا قانون ہی رائج نہیں ہے ، لِلّٰہ آپ میری مدد فرمائیں اور کوئی مناسب راہ متعین فرمائیں ۔