بیمہ کا جواز وعدم جواز

انشورنس کے مسئلے میں مجھے تردد لاحق ہے،اور صحیح طور پر سمجھ میں نہیں آسکا کہ آیا بیمہ کرانا اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہے یا ناجائز؟اگر بیمے کا موجودہ کاروبارناجائز ہو تو پھر اسے جائز بنانے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں ۔اگر موجودہ حالات میں ہم اسے ترک کردیں تو اس کے نتیجے میں معاشرے کے افراد بہت سے فوائد سے محروم ہوجائیں گے۔دنیا بھر میں یہ کاروبار جاری ہے۔ہر قوم وسیع پیمانے پر انشورنس کی تنظیم کرچکی ہے اور اس سے مستفید ہورہی ہے۔مگر ہمارے ہاں ابھی تک اس بارے میں تأمل اور تذبذب پایا جاتا ہے۔آپ اگر اس معاملے میں صحیح صورت حال تک راہ نمائی کریں تو ممنون ہوں گا۔

بندوق کے شکار کی حلّت وحرمت

آپ نے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں تکبیر پڑھ کر چھوڑی ہوئی بندوق کے مرے ہوئے شکار کو حلال لکھ کر ایک نئی بات کا اختراع کیا ہے({ FR 1427 }) جس پر مندرجہ ذیل سوالات اُٹھ رہے ہیں ۔مہربانی فرما کر جواب دے کر مشکور فرماویں ۔
۱۔ چاروں امام متفق ہیں کہ بندوق سے مرا ہوا شکار بوجہ چوٹ سے مرنے کے ناجائز اور حرام ہے، پھر آپ نے کن دلائل کی بِنا پر اس کو جائز لکھا ہے۔
۲۔ بندوق کی گولی میں دھار نہیں ہوتی بلکہ اس کی ضرب شدید سے جانور مرتا ہے۔ کارتوسوں پر عام طور پر لکھا ہوتا ہے کہ اس کی طاقت اتنے پونڈ ہے، یہ نہیں ہوتا کہ اس کی دھار اتنی تیز ہے۔ضرب سے مرا ہوا شکار قطعی ناجائزہے اور یہ مسئلہ متفق علیہ ہے۔
۳۔ ’’تفسیر حقانی‘‘ میں لکھا ہے کہ قاضی شوکانی نے بندوق کے مارے ہوئے کے حرام ہونے میں اختلاف کیا ہے لیکن قاضی صاحب کا اختلاف حجت نہیں ہوسکتا، کیوں کہ وہ مجروح احادیث بیان کرنے والا ہونے کے علاوہ اہل تشیع کی طرف میلان رکھتا ہے۔
۴۔ اس مسئلے کو فروع کہنا عوام کو دھوکا دینا ہے۔ کیا حرام کو حلال کرنا بھی فروع ہی رہے گا؟

استمناء بالید masterbation کا شرعی حکم

ایک شخص کا شباب عروج پر ہے۔نفسانی جذبات کا زور ہے۔اب ان جذبات کو قابو میں رکھنے کی چند ہی صورتیں ہوسکتی ہیں :
یہ کہ وہ نکاح کرے۔ مگر جس لڑکی سے اُس کی نسبت ہے وہ اتنی چھوٹی ہے کہ کم ازکم تین چار سال انتظار کرنا ہوگا۔
یہ کہ وہ اپنے خاندان سے باہر کہیں اور شادی کرلے۔مگر ایسا کرنے سے تمام خاندان ناراض ہوتاہے، بلکہ بعید نہیں کہ اُس کا اپنے خاندان سے رشتہ ہی کٹ جائے۔
یہ کہ وہ اس نیت سے کوئی عارضی نکاح کرلے کہ اپنی خاندانی منسوبہ سے شادی ہوجانے کے بعد پہلی بیوی کوطلاق دے دے گا۔مگر اس میں اورمتعہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
یہ کہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل روزے رکھے۔مگر وہ ایک محنت پیشہ آدمی ہے جسے تمام دن مشغول رہنا پڑتا ہے۔اتنی محنت روزوں کے ساتھ سخت مشکل ہے۔
آخری چارۂ کار یہ ہے کہ وہ زنا سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھ سے کام لے۔کیا ایسے حالات میں وہ اس طریقے کو اختیا ر کرسکتا ہے؟

آلات کے ذریعے سے توالد وتناسل

کیمیاوی آلات کے ذریعے سے اگر مرد کا نطفہ کسی عورت کے رحم میں پہنچا دیا جائے اور اس سے اولاد پیدا ہو، تو یہ عمل مضرت سے خالی ہونے کی وجہ سے مباح ہے یا نہیں ؟ اور اس عمل کی معمولہ زانیہ شمار کی جائے گی اور اس پر حد جاری ہوگی یا نہیں ؟ اس امر کا خیال رکھیے کہ آج کل کی فیشن دار عورت مرد سے بے نیاز ہونا چاہتی ہے۔وہ اگر سائنٹی فِک طریقوں سے اپنے حصے کی نسل بڑھانے کا فریضہ ادا کردے تو پھر اس کے خلاف کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔امریکا میں اس طرح پیدا ہونے والی اولاد کو ازرُوئے قانون جائز اولاد تسلیم کیا گیاہے۔

) ڈاکٹر کی فیس

ڈاکٹر کے لیے فیس کا تعین یا اس کا مطالبہ جائز ہے یا اسے مریض کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے؟

دواؤں میں شہد کا استعمال

’’تفہیم القرآن‘‘ میں آپ نے ایک مقام پر یہ لکھا ہے کہ مسلمان اطبا دو ا سازی میں الکوہل کے بجاے شہداستعمال کرتے تھے۔نیز آپ نے وہاں یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ شہد کی مکھی کو خاص جڑی بوٹیوں سے رس حاصل کرنے کی تربیت دے کر اس سے دوا سازی میں مدد لی جاسکتی ہے۔({ FR 1555 })ترقیِ فن کے موجودہ دورمیں آپ کا شہد کو الکوہل کا بدل تجویز کرنا اور شہد کی مکھی کی تربیت کا مشورہ دینا میر ی سمجھ میں نہیں آسکاہے۔

دواؤں میں حرام اشیا کی ملاوٹ

بعض دوائوں کے اجزا انسانی یا حیوانی پیشاب،خون یا گوشت سے حاصل کیے جاتے ہیں ،اور بعض دوائیں وہیل مچھلی کے غدود سے نکالی جاتی ہیں ۔ایسی دوائوں کا استعمال شرعاًجائز ہے یا نہیں ؟

الکوہل کے مختلف مدارج واشکال کا حکم

آپ نے ترجمان القرآن میں ایک جگہ الکوہل کے خواص رکھنے والی اشیا کی حلت وحرمت پر بحث کی ہے۔اس سلسلے میں بعض اُمور وضاحت طلب ہیں ۔طبعی اور قدرتی اشیا میں الکوہل اس وقت پائی جاتی ہے جب کہ وہ تعفین و تخمیر کے منازل خاص طریق پر طے کرچکی ہوں ۔بالفاظ دیگر جس شے سے الکوہل حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے،اسے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ اس میں الکوہل پیدا ہوجائے۔جب تک اس میں یہ صلاحیت پیدا نہ ہوجائے،اس وقت تک اس میں الکوہل کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ یہ بات دوسری ہے کہ بعض اشیا میں الکوہل کی صلاحیت زیادہ ہے،،بعض میں کم اور بعض میں بالکل نہیں ۔ جن اشیا سے شراب تیار کی جاتی ہے،ان میں یہ صلاحیت بدرجۂ اتم موجود ہوتی ہے۔اگر ایسی صلاحیت رکھنے والی قدرتی اشیا میں تخمیر وتعفین کی وجہ سے الکوہل یا سکر پیدا ہوجائے تو کیا وہ سب حرام ہوجائیں گی؟

بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں الکوہل کی تھوڑی بہت آمیزش ہوتی ہے یا ہوسکتی ہے۔ان کا استعمال جائز ہوسکتا ہے یا نہیں ؟