تنخواہ کا تقرر
ملازمین کی تنخواہ کس اُصول پر مقرر کی جائے؟
ملازمین کی تنخواہ کس اُصول پر مقرر کی جائے؟
ایام بیماری کی تنخواہ ملے گی یا نہیں ؟
اتفاقی رخصتیں باتنخواہ کس قدر لینے کا حق ہے؟
یہاں کے ایک ادارے نے مجھ سے دریافت کیا ہے کہ ملازمین کے معاوضہ جات اور دیگر قواعد ملازمت کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر کیا ہے۔جہاں تک قرآن وحدیث اور کتب فقہ پر میری نظر ہے،اس بارے میں کوئی ضابطہ میری سمجھ میں نہیں آسکا۔اس لیے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں کہ کتاب وسنت کی روشنی اور عہدِ خلافت ِ راشدہ اور بعد کے سلاطین صالحین کا تعامل اس بارے میں واضح فرمائیں ۔ چند حل طلب سوالات جو اس ضمن میں ہوسکتے ہیں ، وہ حسب ذیل ہیں ۔
سال بھر میں کتنی رخصتیں باتنخواہ لینے کا استحقاق ہر ملازم کے لیے ہے؟
میں جماعت اسلامی کا لٹریچر پڑھ کر کافی متاثر ہوں ،ذہن کا سانچا بدل چکا ہے اور یہ سانچا موجودہ ماحول کے ساتھ کسی طرح سازگار نہیں ہورہا۔مثلاً ایک اہم اُلجھن کو لیجیے۔ہمار ا آبائی پیشہ زمین داری ہے اور والد صاحب نے مجھے اسی پر مامور کردیا ہے۔ زمین داری کا عدالت اور پولیس وغیرہ سے چولی دامن کا ساتھ ہوگیا ہے۔عدالت اور پولیس سے بے تعلقی کا اظہار زمین دار کی کامل معاشی موت ہے۔ حدیہ کہ عدالت اور پولیس کی پُشت پناہی سے بے نیا زہوتے ہی خود اپنے ملازمین اور مزارعین پر زمین دار کا کوئی اثر نہیں رہ جاتا۔خود پولیس جب یہ دیکھتی ہے کہ کوئی زمین دار اس کی ’’بالائی آمدنی‘‘ میں حائل ہورہا ہے تو وہ اسی کے مزارعین اور ملازمین کو اُکسا کر اس کے مقابلے پر لاتی ہے۔اسی طرح عدالتوں کا ہوّا جہاں کارندوں کے سامنے سے ہٹا، پھر ان کو ضمیر کی آواز کے سوا کوئی چیز فرائض پر متوجہ نہیں رکھ سکتی، اور حال یہ ہے کہ ان لوگوں کے لیے مادّی فائدے سے بڑھ کر کسی شے میں اپیل نہیں ہے۔مزید وضاحت کے لیے ایک مثال کافی ہوگی۔ ہمارے ہاں دستور تھا کہ کارندوں کے کام میں نقص رہے یا وہ کسی قسم کا نقصان کردیں تو ان سے تاوان وصول کیا جاتا تھا۔ہم نے یہ تاوان وصول کرنا بند کردیا،کیوں کہ پولیس کی مدد کے بغیر یہ سلسلہ چل نہیں سکتا۔رویے کی اس تبدیلی کے ساتھ معاً کاشت کاروں نے نقصان کرنا شروع کردیا اور کارندوں نے بھی جرمانے کی رقم میں سے جو حصہ ملنا تھا،اس سے مایوس ہوکر چشم پوشی اختیار کی۔ اب حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ میں زمین داری کو سرے سے ختم کرنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہورہا ہوں ۔آپ کی راے میں چارۂ کار کیا ہے؟
میاں ممتاز دولتانہ اور دیگر وزرا کی حالیہ تقاریر سے متاثر ہوکر مالکان زمین اس بات پر آمادہ ہورہے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کو محفوظ کرانے کے لیے شریعت کے قانون کے نفاذ کا مطالبہ کریں اور دوسری کسی ایسی ویسی اسکیم کو تسلیم نہ کریں جو ان کے حقوق کو سلب کرنے والی ہو۔چنانچہ کیمبل پور میں ایسے ہی لوگوں نے مل کر’’طالبان قانون شریعت‘‘ کے نام سے ایک انجمن کی بنیاد ڈالی ہے جو کیمبل پور کے ضلع میں اس مطالبہ کو اُٹھائے گی اور دوسرے اضلاع میں بھی اس کو حرکت میں لانے کی کوشش کرے گی۔ اس انجمن نے اس غرض کے تحت ایک ہینڈ بل بعنوان’’انجمن طالبان قانون شریعت کا مطالبہ‘‘ اور ایک اور مراسلہ بنام ممبران پنجاب اسمبلی طبع کرایا ہے۔ موجودہ حالات میں ہمیں توقع ہے کہ یہ لوگ ہمارے نصب العین یعنی نفاذ قانون شریعت سے دل چسپی لیں ۔اس بارے میں آپ ہمیں ہدایت فرمائیں کہ آیا ہم ان کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں ؟
ایک عالم نے یہ سوال کیا ہے کہ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہان کی نعمتوں سے ہر فر د بشر کو منتفع ہونا چاہیے۔ اب انتفاع عامہ کے لیے اگر ملکیتوں کو نظام حکومت کے سپرد کردیا جائے تو یہ قرآن کا منشامعلوم ہوتا ہے۔
زرعی اصلاحات کے سلسلہ میں جاگیروں کی واپسی میں واجبی حدود سے زائد واپس لینے کی دلیل بیان فرمائیں ، جب کہ حضرت زبیر رضی اللّٰہ عنہ کو حضور ﷺ نے گھوڑے اور چابک کی جو لان گاہ تک کی زمین دی تھی۔
مزارعین کی بے دخلی کے سلسلہ میں یہ تو واضح ہے کہ فصل کی برداشت سے پہلے بے دخلی نہیں ہوسکتی۔لیکن اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ بے دخلی روکی جائے۔اگر کوئی اور صورت ہو تو مع دلیل بیان کریں ۔
آپ نے فرمایا ہے کہ میں اپنی ملکیت کو اس وقت شرعی وارثوں میں (جو موجود ہوں ) تقسیم کردوں ۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ میرے باپ پر جو حصے ازروے شریعت واجب الادا تھے تو یہ ان کے ذمے تھے۔میرے نام مرحوم والد نے اپنی زندگی میں ہر قسم کی ملکیت بروے ہبہ منتقل کردی تھی اوریہ واقعہ ان کی فوتگی سے چھ سال قبل کا ہے۔اندریں حالات مجھ پر صرف میرے اپنے ہونے والے ورثا کا حق واجب ہوگا یا والد مرحوم کے پس ماندگان کا بھی؟ اگر والد مرحوم کے پس ماندگان کو میں ان کا حق ادا کرنا بھی چاہوں تو میرے دوسرے بھائی اس معاملے میں ساتھ نہ دیں گے اور میں اکیلا ان کے حقوق پورے کر ہی نہیں سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ والد مرحوم کے ذمے داری سے متعلق تھا نہ کہ مجھ سے۔