والدین کی مشتبہ جائدا د اور کمائی سے استفادہ

مدت سے جماعت ِاسلامی میں شامل ہونے کے لیے اپنے آپ کو تیار کررہا ہوں مگر رزقِ حرام سے اپنے آپ کو بچانے اور حلال اورطیّب طریقوں سے ضروریاتِ زندگی حاصل کرنے میں کام یاب نہیں ہو رہا ہوں ۔ ہمارا آبائی ذریعۂ معاش زمین داری ہے اور مجھے یہ معلوم ہے کہ مدتوں سے ہماری زمینیں نہ تو شرعی ضابطے کے مطابق وارثوں میں تقسیم ہوئی ہیں اور نہ ان میں سے شرعی حقوق ادا کیے جاتے رہے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ مجبوراً میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے والدین سے روپیا لیتا ہوں ۔ اس کا لینا اور استعمال کرنا جائز ہے یانہیں ؟نیز یہ کہ آئندہ جو میراث مجھے ان سے پہنچنی ہے وہ مجھے لینی چاہیے یا نہیں ؟

اسلامی اُصولوں پر بنکنگ کی ایک اسکیم

اسلامی اُصولوں پر ایک غیر سودی بنک چلانے کے لیے ایک اسکیم بھیجی جارہی ہے۔ اس کو ملاحظہ فرما کر ہماری راہ نمائی کیجیے کہ کیا شرعاً یہ اسکیم مناسب ہے؟یا اس میں کسی ترمیم واضافہ کی ضرورت ہے؟
اسکیم کا خلاصہ
مسلما ن زمیں دار،تجار اور اہل حرفہ مدتوں سے ساہوکاروں کے پنجے میں پھنستے جارہے ہیں اور۲۵،۲۵ فی صدی تک سود ادا کرتے کرتے تباہ ہورہے ہیں ۔بڑے تاجر اور زمیں دار تو خیر بری بھلی طرح پنپ بھی رہے ہیں لیکن کم استطاعت مسلمانوں کا حال سودی قرضوں نے بہت ہی پتلا کردیا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ایک مسلم بنک مسلمانوں کو غیر سودی قرض دینے اور زکاۃکی وصولی کا انتظام کرنے کے لیے قائم ہو۔ ابتداء ً ایک ضلع میں اس کا تجربہ کیا جائے اور پھر ملک بھرمیں اسے پھیلا دیا جائے۔مجوزہ بنک کے لیے ذیل میں چند اُصول ومبادی درج کیے جاتے ہیں :
(۱) یہ بنک قانونِ شریعت کا پورا پورا پابند ہوگا اور مفرد اور مرکب ہر طرح کے سود سے دامن پاک رکھ کے کاروبار کرے گا۔ اس بنک سے حاجت مند مسلمانوں کو جائدادی کفالتوں پر اور تجارت پیشہ لوگوں کو مضاربت کے اُصولوں پر کاروبار چلانے کے لیے سرمایہ فراہم کیا جائے گا۔قرض دارکو ازرُوئے معاہدہ اس امر کا پابندہونا پڑے گا کہ وہ اپنے اموال اور کاروباری سرماے پر ایک خاص عرصے تک باقاعدگی سے بنک کو زکاۃادا کرے۔اس طریقے سے ایک تو بلا سود سرمایہ حاصل کرکے مسلمان تاجر یا صناع اپنا کاروبار بخوبی چلا سکے گا اور اپنے سرماے پر سود ادا کرنے والے غیر مسلم حریفوں کا بخوبی مقابلہ کرنے کے قابل ہوجائے گا، اور دوسری طرف نظامِ زکاۃ کے احیا میں وہ حصہ دار بنے گا جس کے مٹ جانے کی وجہ سے ہمارے عوام کی غریبی اور بے روزگاری لاعلاج ہوکے رہ گئی ہے۔
(۲) یہ بنک چوں کہ بہت ہی سادہ اور پاکیزہ طریق پر عوام سے معاہداتی معاملہ کرے گا،اس لیے یہ بآسانی ممکن ہے کہ حکومت سے قانونی طور پراس کی توثیق کرا لی جائے۔ضرورت ہوتو اسمبلی میں بل پیش کیا جاسکتا ہے۔پہلے زکاۃ کی جبری وصولی کے لیے ایک دفعہ حکومت کے سامنے سوال اُٹھایا گیا تھا تو یہ اس وجہ سے نامنظور ہوا تھا کہ اس سے مسلمانوں کی ’’متوازی‘‘حکومت قائم ہوتی ہے ۔لیکن ہماری تجویز کے مطابق زکاۃ کی جبری وصولی اس معاہدے کے زیر اثر ہوگی جو بنک اپنے مقروض سے طے کرے گا۔کوئی حکومت معاہداتی معاملات کی تصدیق سے انکار نہیں کرسکتی۔
(۳)یہ بنک زکاۃ اور دوسرے صدقات کی منظم وصولی کا فریضہ بھی اپنے ذمے لیتا ہے۔انفرادی طورپر زکاۃ تقسیم کردینا ایک ناقص طریقہ ہے۔ شریعت اس کا اجتماعی نظم چاہتی ہے۔لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم پریس اور پلیٹ فارم کو ہماری اس تجویز کی پوری پوری پشت پناہی کرنی چاہیے۔
(۴) اس بنک کا منظور شدہ اور ادا شدہ سرمایہ کم ازکم۵ لاکھ روپے ہوگا جو دس دس روپے کے پچاس ہزار حصص پر مشتمل ہو گا۔۴لاکھ کا سرمایہ مناسب صنعتی کاروبار میں لگا کر کم از کم ۶فی صدی سالانہ منافع حاصل کیا جاسکے گا۔بقیہ ایک لاکھ ادنیٰ طبقے کے مسلمان کاری گروں اور پیشہ وروں کو قرضہ دینے کے لیے مخصوص کردیا جائے گا۔ اور ابتداء ً قلّت ِ سرمایہ کی وجہ سے قلیل مدت کے لیے قرضے جاری کیے جائیں گے۔
انتظامی مصارف کو تجارتی سرمایے کے منافع کے ۲۵فی صدی یعنی چھ ہزار روپیا سالانہ کے اندر اندر پورا کیا جائے گا۔ اخراجات کا تخمینہ حسب ذیل ہے:
ایک منیجر ۲۰۰روپے ماہوار ۲۴۰۰سالانہ
ایک اکائونٹنٹ ۱۰۰روپے ماہوار ۱۲۰۰ سالانہ
ایک اسٹینو گرافر ۵۰روپے ماہوار ۶۰۰ سالانہ
دوکلرک ۳۰روپے ماہوار ۷۲۰سالانہ
دوچیراسی ۲۰روپے ماہوار ۴۸۰سالانہ
متفرق مصارف ۱۲۰الانہ
میزان: ۶۰۰۰ روپے سالانہ
پہلے سال چند ہزار روپے فرنیچر، ٹائپ مشینوں اور آہنی الماریوں وغیرہ پر بھی صرف ہوں گے۔اس لیے چار لاکھ کے کاروباری سرمایے پر متوقع۲ فی صدی منافع میں سے۶فی صدی الگ کرکے بھی ہم۴ فی صدی حصے داروں میں تقسیم کر سکیں گے، اور اگر ان’’ امانتوں ‘‘ کا منافع بھی محسوب کیا جائے جو ہمارے بنک کے حوالے کی جائیں گی، تو یقیناً حصے داروں کو زیادہ منافع ملے گا۔
زکاۃ کی رقم کو ٹھیک ٹھیک شرعی مصارف پر صرف کیا جائے گا اور دوسرے صدقات بھی مسلمان عوام کی بہبود کے لیے ڈائرکٹروں کی ’’شوریٰ‘‘ کے مشورے سے خرچ کیے جائیں گے۔ڈائرکٹروں کی تجویز کے مطابق منافعوں کا ایک مناسب حصہ فلاحِ عامہ کے فنڈ میں بھی شامل ہوتا رہے گا۔’’شوریٰ‘‘ صرف ایسے اصحاب پر مشتمل ہوگی جو بااثر ہوں اور مختلف طبقات کے مفاد کی نمائندگی کرسکیں ۔
(۵) بنک اس کامجاز ہوگا کہ میعادی امانتوں (fixed deposits) کی جو رقمیں اس کے پاس ہوں ،انھیں صنعتی،تجارتی اور زرعی بیوپاروں میں لگا کر منافع حاصل کرے۔ایسے منافع میں سے ایک حصہ امانت داروں کو تقسیم کردیا جائے گا تاکہ لوگوں میں ہمارے پاس امانتیں رکھوانے کی طرف رغبت پیدا ہو۔
ہمارے بنک کے امتیازات یہ ہوں گے کہ:
ا۔ اس کی اساس لوٹ کھسوٹ کی خواہش پر نہیں بلکہ خدمت اور تعاون کے جذبے پر ہوگی اور اس وجہ سے اس کی کشش ہر اس شخص کے لیے ہے جو نفع اندوزی کی جگہ خدمت کرنا چاہے،خواہ وہ ہندو ہو یا مسلم۔
ب۔ یہ بنک ان لوگوں سے بھی زکاۃ جمع کرنے کی کوشش کرے گا جو بنک کے مقروض نہ ہوں ، مگر زکاۃ کو اجتماعی نظم کے ساتھ اداکرنا چاہیں ۔
ج۔ ’’میعادی امانتوں ‘‘پر یہ بنک سودنہیں دے گا بلکہ اس کے بجاے ان امانتوں کو کاروبار میں لگا کر منافع حاصل کرے گا اور اس کاحصہ امانت داروں کو دے گا۔

بنک میں رقم رکھوانے کی جائز صورت

بنک میں رقم جمع کرنے کے معاملے میں میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں سیونگ اکائونٹ میں رقم جمع کراتا ہوں تو بنک اس پر سود دے گا۔ لیکن اگر کرنٹ اکائونٹ میں رقم جمع کرائی جائے تو اگرچہ اس پر مجھے سود نہیں ملے گا مگر بنک اس رقم کو سودی کاروبار میں استعمال کرے گا۔ گویا میری رقم پر بنک تو سود لے گا۔ اس کے بجاے میں یوں کیوں نہ کروں کہ سیونگ اکائونٹ میں رقم جمع کرائوں اور اس پر جو سود مجھے ملے اسے حاجت مندوں کی ضروریات پر صرف کروں ؟ وہ سود بنک کیوں کھائے؟ کسی ضرورت مند کی ضرورت کیوں نہ پوری کر دی جائے؟ اس معاملے میں میری راہ نمائی فرمائی جائے۔‘‘

غیر سودی معیشت میں حکومت کو قرض کی فراہمی کا مسئلہ

میں آج کل غیر سودی نظام بنک کاری پر کتاب لکھ رہاہوں ۔ اسی سلسلے میں ایک باب میں حکومت کو قرض کی فراہمی کے مسئلے پر لکھنا ہے۔ آج کل حکومت کو متعدد وجوہ سے جس وسیع پیمانے پر قرض کی ضرورت ہے اس کے پیش نظر صرف اخلاقی اپیل پر انحصار نہ کرکے اصحاب سرمایہ کو قرض دینے کے کچھ محرکات فراہم کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
میری راے یہ ہے کہ غیر سودی معیشت میں جو لوگ حکومت کو قرض کے طور پر سرمایہ فراہم کریں ان کو قرض دیئے ہوئے سرمایے پر بعض محاصل میں تخفیف یا بعض محاصل سے استثنا کی رعایت دی جائے۔ مثلاً آمدنی کا جو حصہ بطورِ قرض حکومت کو دیا جائے اس پر انکم ٹیکس کی شرح رعایتی طور پر کم کر دی جائے۔ یہ رعایت حکومت کے لیے قرض کی فراہمی میں مددگار ہوگی۔
یہاں تک تو اس تجویز کا تعلق ان وضعی محاصل سے تھا جو ایک اسلامی ریاست عشرو زکاۃ وغیرہ شرعی محاصلِ و اجبہ کے علاوہ عائد کرتی ہے۔ اب ایک بالکل علیحدہ مسئلے کے طور پر یہ بھی دریافت کرنا ہے کہ اگر مذکورئہ بالا راے کو اختیار کرنے کی آپ گنجائش سمجھتے ہوں تو کیا یہ بھی ممکن ہے کہ جو سرمایہ جتنی مدت کے لیے حکومت کو قرض دیا گیا ہو اس سرمایے پر اتنی مدت تک قرض دینے والے سے زکاۃ نہ وصول کی جائے۔
دونوں تجاویز کے موافق اور مخالف جو دلائل میرے سامنے ہیں ان کا آپ کے سامنے اعادہ کرکے آپ کا قیمتی وقت صرف کرنے کی بجاے صرف اتنا لکھنا کافی سمجھتا ہوں کہ پہلی راے کے حق میں تو مجھے اپنی حد تک اطمینان ہے کہ اس میں کوئی شرعی اصول پامال نہیں ہوتا۔ مسئلہ صرف عملی مصالح کی روشنی میں فیصلے کا طالب ہے۔ البتہ دوسری راے پر مجھے اطمینان نہیں ہے۔ دونوں رایوں کے سلسلے میں آپ سے علیحدہ علیحدہ راہ نمائی کا طالب ہوں ۔

غیر مسلم ممالک سے اقتصادی اور صنعتی قرضے

کیا اسلامی حکومت موجودہ دور میں جب کہ ایک ملک دوسرے ملک سے قطع تعلق کرکے ترقی نہیں کرسکتا،غیر ممالک سے متعلق اقتصادی،فوجی،ٹیکنیکل امداد یا بین الاقوامی بنک سے شرح سود پر قرض لینا بالکل حرام قرار دے گی؟پھر مادّی، صنعتی، زراعتی و سائنسی ترقی وغیرہ کی جو عظیم خلیج مغربی ترقی یافتہ(advanced)ممالک اور مشرق وسطیٰ بالخصوص اسلامی ممالک یا اس ایٹمی دور میں haveاورhave notکے درمیان حائل ہے ،کس طرح پُر ہوسکے گی؟نیز کیا اندرون ملک تمام بنکنگ وانشورنس سسٹم ترک کرنے کا حکم دیا جائے گا؟ سود، پگڑی، منافع وربح اور گڈوِل(goodwill) اور خرید وفروخت میں دلالی وکمیشن کے لیے کون سی اجتہادی راہ نکالی جاسکتی ہے؟کیا اسلامی ممالک میں سود، منافع، ربح وغیرہ پر کسی صورت میں لین دین کرسکتے ہیں ؟

تخلیقِ زرکی اجازت

کیا اسلامی بنکنگ میں تجارتی بنکوں کو تخلیق زر کی اجازت ہوگی یا نہیں ؟…اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہے؟اگر اس کی اجازت نہ ہوگی تو اعتباری نظام میں لچک کس طرح پیدا کی جائے گی؟

بنک کاری

میرا اعتراض سود حصہ دوم میں دیے ہوئے بنکنگ(banking) کے تجزیے پر ہے۔صفحہ ۱۲۱ سے صفحہ۱۲۳ تک آپ بنکنگ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح پہلے سناروں نے امانت داروں کا سونا قرض دینا شروع کردیا اور پھر اس طرح اس سونے کے بل پر ۱۰ گنا قرض دینے لگے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس طرح ان لوگوں نے ۹۰ فی صد جعلی روپیا بالکل بے بنیاد کرنسی کی شکل میں بنا ڈالا او رخواہ مخواہ اس کے مالک بن بیٹھے اور سوسائٹی کے سر پر اس کو قرض کے طور پر لاد لاد کر اس پر دس بارہ فی صد سود وصول کرنے لگے۔یہ سنار اس مسلسل جعل سازی سے ملک کی ۹۰ فی صد دولت کے مالک ہوچکے تھے۔
اس پورے تجزیے سے مجھے سراسر اختلاف ہے۔جہاں تک آپ نے بنکنگ کی تاریخ بیان کی ہے، وہاں تک مجھے کوئی اختلاف نہیں ۔میرا اختلاف ان باتوں سے ہے جنھیں میں نے آپ کے الفاظ میں قلم بند کیا ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ:
۱۔ وہ سرمایہ جعلی نہیں ۔
۲۔ بنکر کی ملک نہیں ۔
۳۔ وہ سوسائٹی پر زبردستی قرض کی صورت میں لادا نہیں گیا۔
۴۔ بنکر ملک کی۳۰ فیصد دولت کے مالک نہیں بن گئے تھے۔
۵۔ روپیا تخلیق (create)کرنے کا عمل بنکنگ کی ابتدا ہی میں نہیں ہوا تھا بلکہ روز ہوتا ہے۔
ان باتوں کو ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ بنکنگ کی حقیقت کو جس طرح میں نے سمجھا ہے، اُسے بیان کردوں ۔
ایک شخص بنک کھولتا ہے۔اس کے پاس اپنا کوئی سرمایہ نہیں اور نہ ہی کوئی امانت دار اس کے پاس رقم رکھاتا ہے۔چوں کہ بنک صفر سے قائم ہوتا ہے(B=0) اس کے پاس ایک شخصA آتا ہے اور۱۰۰ روپے قرض مانگتا ہے۔ بنک اس کی درخواست کو قبول کرلیتا ہے لیکن نقدی کی صورت میں کچھ بھی نہیں دیتا۔ بلکہ اس کے نام۱۰۰ روپے اپنے کھاتے میں جمع کرلیتا ہے (۱۰۰+A)۔ ابA بازار میں C سے کچھ مال خریدتا ہے اور اسے ۱۰۰ روپوں کا چیک دیتا ہے۔ Cاسے بنک میں جمع کرادیتا ہے۔ بنکA کے کھاتے سے ۱۰۰ روپے گھٹا دیتا ہے (۱۰۰-۱۰۰=۰+A) اور C کے نام جمع کرلیتا ہے (۱۰۰+C)۔ بازار میں ۱۰۰ روپے کی چیزC سےA کے پاس چلی گئی۔ اس کے عوض میں اسٹیٹ بنک کا ایک نوٹ بھی نہ دیا گیا بلکہ Bکے کھاتے میں ۱۰۰روپے کا اندراج کر دیا گیا۔ بنک(B) کے پاس پہلے بھی کوئی رقم نہ تھی اور اب بھی کوئی رقم نہیں ہے۔ ابCمال خریدتا ہے اور Sکو۱۰۰ روپے کا چیک دے دیتا ہے۔ بنکC کے کھاتے سے ۱۰۰ روپے گھٹا دیتا ہے اورS کے نام جمع کردیتا ہے۔ غرض یہ کہ اسی طرح تجارت کا چکر چلتا رہتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بنکر کے پاس اپنا کچھ نہیں تھا۔ لیکن اس نے پھر بھی۱۰۰ روپے کا قرض دے دیا اور بنک کا قرض بازارمیں کرنسی نوٹوں کی طرح چل رہا ہے۔ اسی رقم سے اسی طرح خرید وفروخت ہورہی ہے جس طرح عام نوٹوں سے ہوتی ہے اور بنک صفر سرمایے سے کام شروع کرنے کے باوجود۱۰۰ روپے سود کا مالک بن بیٹھتا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ پکار اٹھتے ہیں کہ بنکر جعل ساز ہے۔ اس نے خود ہی جعلی روپیا بنایا اور اس کا مالک بن کر اسے سوسائٹی پر قرض کی صورت میں لاد دیا۔ اس طرح اتنی ملکی دولت ا س کے قبضے میں چلی گئی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ احتجاج صحیح ہے؟
میں نے بنکر صفر سرماے سے اس لیے شروع کیا ہے کہ آپ کے الزامات کی سنگینی پوری شدت سے ابھر آئے اور روپے بنانے میں ۱۰:۱ کے تناسب کی قید بھی حائل نہ ہو۔ پوری پوری رقم ایک شخص سے دوسرے شخص کے نام تبدیل کرنے میں حسابی سہولت مقصود ہے۔
ہماری مثال میں اب صورت حال یہ ہے کہ بنک کے پاس ایک دھیلا بھی نہیں لیکن بنک کو Aسے ۱۰۰ روپے ملنے ہیں ، کیوں کہ یہ رقم اس نے بنک سے قرض لی تھی۔ اس رقم کے علاوہ بنک کو سود بھی ملنا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ بنک کے کھاتے میں s کے نام ۱۰۰روپے جمع ہیں ۔ یعنی بنک نے Sکو ۱۰۰ روپے دینے ہیں ۔ یعنی بنک کو اگر ایک طرف سے سود+۱۰۰ ملنا ہے تو دوسری طرف اس کے ذمے۱۰۰ روپے واجب الادا بھی ہیں ۔
اب پوری بات صاف ہوجاتی ہے:
۱۔ وہ رقم جو بنک نے پیدا کی تھی وہ بنک کی ملک نہیں ہے۔وہ بچانے والے(S) کی ملک ہے، بنک صرف سود کی رقم کا مالک ہے۔
۲۔ لہٰذا بنک نے کوئی جعلی سرمایہ نہیں بنایا۔اس نے صرف بچانے والے کی رقم کو ادھار پر لگایا ہے۔
۳۔ بنک سوسائٹی کی ۹۰ فی صد دولت کا مالک نہیں بن رہا۔
۴۔ بنک سوسائٹی کے سرپر زبردستی کوئی قرض نہیں لاد رہا،دولت بچانے والا جس دن چاہے،اس چکر کو بند کرسکتا ہے۔Aنے بنک سے نقد اپنے۱۰۰ روپے کا مطالبہ کردیا۔بنک نے A سے کہا کہ میرا دیا ہوا قرض واپس دو۔A نے ۱۰۰+سود واپس کردیا۔بنک نے Sکو ۱۰۰روپے دے دیے اور سود کا کچھ حصہ خود رکھ لیا،کچھSکو دے دیا۔ اب بنک پھر خالی ہے۔ نہ اس کا کسی پر قرض ہے اور نہ ہی اس کے ذمے کوئی قرض ہے۔
اگر بنک جعلی روپیا بناسکتے تو وہ کبھی فیل نہ ہوتے۔فیل وہ ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ جعلی روپیا نہیں بنا سکتے۔ امانت دار اپنے روپے طلب کرتے ہیں اور بنک بعض اوقات فوری طور پر اپنے قرض واپس نہیں لے پاتا۔امانت دار فوری نقدی طلب کرتے ہیں ۔اس لیے امانت داروں کے تقاضے بنک پورے کرنے سے عاجز ہوجاتے ہیں اور لال بتی جلا دیتے ہیں ۔
آپ کی تحریر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ ساہو کاروں نے اپنی ترقی کے ابتدائی دو رمیں ایک کے دس بناے تھے،اب وہ سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے۔ روز ہر بنک ایک روپے کے بل پر دس روپے قرض دیتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بنک قرض اپنے نوٹوں کی شکل میں دیتے تھے،اب چیک کی صورت میں دیتے ہیں ۔لیکن نوٹ اور چیک دونوں کی ماہیت اور دونوں کیtheory ایک ہی ہے۔ دونوں بنک کے ذمہ واجب الادا رقوم کے ثبوت ہیں ۔چوں کہ تخلیق زر (creation of money) کے طریقے سے آپ بخوبی واقف ہیں ، اس لیے اسے دہرانا بے کار ہے۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میر ی کم سمجھی کی بنا پر یا آپ کی عبارت کی ساخت کی بناپر مجھے یہ خیال گزرا۔آپ اس عمل کو بنکنگ کی تاریخ کا ایک پرانا باب سمجھتے ہیں ۔کیا میرا یہ خیال صحیح ہے؟

ترجیحی حصص اور سود

بندہ ایک ٹیکسٹائل مل کا حصہ دار ہے۔ ہر سال منافع کی رقم وہی آتی رہی ہے جو پہلے سال آئی تھی۔ایک دفعہ میں نے مل مذکور کے دفتر سے معلوم کیا کہ کیا وجہ ہے کہ منافع ایک ہی رقم پر موقوف ہے۔جواب ملا: ’’آپ کے ترجیحی حصص ہیں ۔ ترجیحی حصص پر خسارے کا کوئی امکان نہیں ۔ان پر ہمیشہ ایک ہی مقررہ منافع ملتا رہے گا۔‘‘ میرے خیال میں یہ منافع سود ہے۔براہِ نوازش اپنی راے سے مطلع فرمائیں تاکہ سود ہونے کی صورت میں حصص فروخت کرکے جان چھڑائوں ۔

غیر ملکی سرمایہ پر سود

کیا ایک اسلامی حکومت غیر ملکی سرماے کو سود پر ملک میں لگانے کی اجازت دے سکتی ہے؟اجازت نہ دینے کی صورت میں ملک کی صنعتی ترقی رک نہیں جائے گی؟

موجودہ بیرونی تجارت میں ایک عملی دقت یہ بھی ہے کہ اس کے لیے بنک میں (letter of credit) کھولنا ضروری ہوتا ہے اور بغیر سود کے اس کا کھلنا ممکن نہیں ہے۔