بولی کی ناجائز صورتیں

مسلمان نیلام کنندہ کے لیے کیا یہ جائز ہے کہ جب کوئی شخص بولی نہ چڑھائے اور وہ دیکھے کہ اس میں مجھے نقصان ہوگا تو وہ خود بولی دے کر مال کو اپنے قبضے میں یہ کہہ کر رکھ لے کہ یہ مال پھر دوسرے وقت میں نیلا م ہوگا؟نیزکیا وہ یہ بھی کرسکتا ہے کہ اپنے آدمی مقرر کردے کہ وہ قیمت بڑھانے کے لیے بولی بولتے رہیں ،یہاں تک کہ اس کے حسب منشا مال کی قیمت موصول ہوسکے؟

اس طرح کے سودے کپاس اُترنے پر ہونے شروع ہوجاتے ہیں ۔بعض لوگ تو کپاس اُترنے سے دو چار ماہ پیش تر ہی ایسے سودے کرنے شروع کردیتے ہیں ۔

نرخ مقرر کیے بغیر مال سپلائی کرنا

کارخانہ دار کو مال بغیر نرخ مقرر کرنے کے سپلائی کرتے جاتے ہیں ۔اس کے ساتھ طے کرلیتے ہیں کہ ہم دوصد یا ہزار من مال دیں گے اور ایک مدت مقرر کرلیتے ہیں کہ اس کے اندر اندر ہم نرخ مقرر کرلیں گے۔جس دن ہمیں نرخ اچھا معلوم دے،ہم اسی دن فکس کرلیتے ہیں ۔بعض اوقات مال پہنچانے کے بعد ہم دو ماہ تک کا وقفہ بھی مقرر کرنے کے لیے لے لیتے ہیں ۔کارخانہ دار مال کے پہنچنے پر ہمیں کچھ پیشگی یعنی حاضر نرخ کا۶۰یا۶۵فی صدی ادا کرتا رہتا ہے۔نرخ مقرر کرنے پر کل رقم ادا ہوجاتی ہے۔
براہ کرم کتاب وسنت کے علم کی روشنی میں اس معاملہ کی حقیقت واضح فرمائیں ۔

نفع کی مقدار مقررکرنا

کیا شریعت نے نفع کی مقدار مقرر کی ہے؟اگر ہے تو کیا؟اور اگر نہیں ہے تو کہاں تک نفع لیا جاسکتا ہے؟کیا دکان دار کو اس چیز کا اختیار ہے کہ وہ اپنی چیزمارکیٹ کے لحاظ سے یا کسی اور دام پر فروخت کرسکے؟(واضح رہے کہ بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں بہت کم نفع ہوتا ہے،یا خرید کی قیمت یا کچھ کم پر فروخت کرنی پڑتی ہیں )۔

غیر مقبوضہ مال کی خرید وفروخت

ایک درآمد کنندہ(importer) غیر ممالک سے مال منگوانے کے لیے ۰افی صدی پر بنک میں لیٹر آف کریڈٹ کھولتا ہے، اور بعد میں اپنے اس بک کرائے ہوئے مال کو انھی شرائط کے مطابق جن شرائط پر اس نے خود مال بک کیا تھا،فروخت کردیتا ہے۔ یعنی دس فی صدی بیعانہ کے ساتھ۔
مذکورۂ بالا شرائط میں سے ایک اہم اور واضح شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر مال مذکور تحریر کردہ مدت کے اندر شپ(ship)نہ ہوسکا،یا کسی ہنگامی حالت کی وجہ سے سرے سے سودا ہی منسوخ ہوگیا تو خریدار کو بیعانہ واپس لے کر معاملہ ختم کرنا ہوگا۔(عملاًاسی طرح ہوتا ہے)
گویا مال شپ نہ ہونے کی صورت میں خریدار اس مال کے نفع نقصان کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ اگر مال بک ہوگیا تو مال کا بھگتان ہوتا ہے ورنہ دوسری صورت میں بیعانہ واپس اور سودا منسوخ۔ چاہے یہ سودا کئی جگہ پر فروخت ہوچکا ہو۔
اس طریق کار میں وہ کون سے نقائص اور خرابیاں ہیں جن کی بنا پر اسے شرعاًنادرست کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا لاکھوں روپے کا کاروبار قریباًہر مہینے ہم کرتے ہیں اور اس اُلجھن میں پڑ گئے ہیں کہ یہ طریقہ درست بھی ہے یا نہیں ۔ایک ’’صاحب علم‘‘ کی راے اس کے حق میں بھی ہے۔

دلالی کی ایک ناجائز صورت

زمین دار لوگ جب کبھی لوہے یا لکڑی کا کوئی سامان خریدنا چاہتے ہیں تو اپنے لوہار یا بڑھئی کے ذریعے خریدتے ہیں جو بعض کارخانوں ا ور دکانوں سے خاص تعلق رکھتے ہیں اور وہاں سے سامان خریدواتے ہیں ، اور ہوتا یوں ہے کہ یہ لوگ دکان پر جاتے ہی آنکھوں کے اشاروں سے دلّالی کی فیس دکان دار سے طے کرلیتے ہیں جس سے زمین دار بے خبر رہتا ہے۔ اگر دکان دارلوہار یا بڑھئی کی دلاّلی کا کمیشن ادا نہ کرے تو پھر وہ کبھی بھی اپنے زمین داروں کو اس کی دکان پر نہ لائے گا بلکہ کسی دوسری جگہ ساز باز کرے گا۔اور جو دکان داران کا کمیشن دینے پر راضی ہو،وہ خراب مال بھی اگر دکھائے تو یہ خاص قسم کے دلّال اس کی تعریف کریں گے اور اسے بکوانے کی کوشش کریں گے۔ یہ سازش اگر زمین دار پر آشکارا ہوجائے تو وہ اپنے بڑھئی یا لوہار کو ایک دن بھی گائوں میں نہ رہنے دے۔ یہ صورتِ معاملہ کیسی ہے؟

چونگی لینا

آڑھتی بائع اور خریدار سے کمیشن لینے کے علاوہ ایک حرکت یہ بھی کرتا ہے کہ مال کا سودا ہوجانے کے بعد اس میں سے کچھ مقدار’’چونگی‘‘ کے نام سے لے لیتا ہے۔مثلاًپھل ہوں تو ان میں سے چند دانے لے لے گا اور سبزی ہو تو اس میں اپنا حصہ لگائے گا۔اس چونگی کی حیثیت کیاہے؟

قرض دے کر زیادہ کمیشن لینا

آڑھت کی شرعی پوزیشن کیا ہے؟آڑھتی کے پاس دو قسم کے بیوپاری آتے ہیں ۔پہلی قسم کے بیوپاری اپنے سرمایے سے کوئی جنس خرید کر لاتے ہیں اور آڑھتی کی وساطت سے فروخت کرتے ہیں ۔دوسری قسم کے بیوپاری وہ ہوتے ہیں جو کچھ معمولی سا سرمایہ اپنا لگاتے ہیں اور بقیہ آڑھتی سے اس شرط پر قرض لیتے ہیں کہ اپنا خریدا ہوا مال اسی آڑھتی کے ہاتھ فروخت کریں گے اور بوقت فروخت مال آڑھتی کا روپیا بھی ادا کردیں گے۔ آڑھتی پہلی قسم کے بیوپاریوں سے اگر ایک پیسا فی روپیا کمیشن لیتا ہے تو اس دوسری قسم کے بیوپاریوں سے دو پیسے فی روپیا لے گا۔ یہ صورت حرام ہے یاناجائز؟

محصول سے بچنے کی کوشش

ہمارے شہر میں اور عام طور پر ملک بھر میں اربابِ تجارت کاطریقِ کار یہ ہے کہ باہر سے آنے والے مال کو چنگی سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اوّل تو چوری چھپے مال دکان پر پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے،یہ نہ ہو سکے تو محرر چونگی کو کچھ دے دلا کر کام چلاتے ہیں ۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کم مال ظاہر کرنے والے نقلی بیچک بنا کر اس کے مطابق کم چونگی ادا کرتے ہیں اور دکان کے رجسٹروں میں اسی نقلی بیچک کے مطابق اندراجات کرتے ہیں ۔وہ مال رجسٹروں میں دکھایا ہی نہیں جاتا جس پر چونگی ادا نہ کی گئی ہو۔اس طرح مال کی آمد،بِکری اور منافع سبھی واقعی سے کم دکھائے جاتے ہیں ۔کیا یہ طریقے جائز ہیں ؟

نقد اور اُدھار کی قیمتوں میں فرق

اگر کوئی دکان دار اس اُصول پر عمل پیرا ہو کہ وہ نقد خریدنے والے گاہک سے اشیا کی کم قیمت لے اور اُدھار لینے والے سے زیادہ، توکیا وہ سود خوری کا مرتکب ہوگا؟ایک دوسری صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ فروخت پر کچھ معمولی سا کمیشن رکھا جاتا ہے،مثلاً ایک پیسا فی روپیا، اور یہ صرف نقد خریداری کی صورت میں گاہک کو اداکیاجاتا ہے ۔اس کی حیثیت کیا ہے؟