آپ کی جملہ تصانیف اور سابق عنایت نامہ پڑھنے کے بعد میں یہ فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ خالص اسلامی طرز کی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں اور اس اسلامی حکومت کے عہد میں ذمی اور اہلِ کتاب کی حیثیت بالکل ایسی ہی ہوگی جیسی ہندوئوں میں اچھوتوں کی۔

اسلامی مملکت میں اقلیتی فرقوں کو،مثلاًعیسائی، یہودی،بدھ، جین،پارسی،ہندو وغیرہ کو کیا مسلمانوں کی طرح پورے حقوق حاصل ہوں گے؟کیا ان کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی بھی اسی طرح اجازت ہوگی جیسا کہ آج کل پاکستان اور دیگر ممالک میں کھلے بندوں پرچار ہوتا ہے؟ کیا اسلامی مملکت میں ایسے مذہبی یا نیم مذہبی ادارے مثلاًادارہ مکتی فوج(salvation army) کیتھڈرل، کانونٹ، سینٹ جان یا سینٹ فرانسز وغیرہ جیسے ادارے قانوناً بند کردیے جائیں گے (جیسا کہ حال میں سیلون میں ہوا یا دو ایک ممالک میں ہوچکا ہے)، یا فراخ دلی سے مسلمان بچوں کو وہاں بھی ماڈرن ایجوکیشن حاصل کرنے کی عام اجازت ہوگی؟ کیا اس صدی میں بھی ان اقلیتی فرقوں سے جزیہ وصول کرنا مناسب ہوگا(عالمی حقوق انسانی کی روشنی میں بھی) جب کہ وہ نہ صرف فوج اور سرکاری عہدوں پر فائز اور حکومت کے وفا دار ہوں ؟

ذمیوں سے متعلق مساءل حکومتِ الٰہیہ میں ہندوئوں کی حیثیت

میں ہندو مہا سبھا کا ورکر ہوں ۔ سالِ گزشتہ صوبے کی ہندو مہا سبھا کا پروپیگنڈا سیکرٹری منتخب ہوا تھا۔میں حال ہی میں جناب کے نام سے شناسا ہوا ہوں ۔آپ کی چند کتابیں ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘‘ حصہ اوّل وسوم، ’’اسلام کا نظریۂ سیاسی‘‘، ’’اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے‘‘ ،’’سلامتی کا راستہ‘‘ وغیر ہ دیکھی ہیں ،جن کے مطالعے سے اسلام کے متعلق میرا نظریہ قطعاً بد ل گیا ہے اور میں ذاتی طور پر یہ خیال کرتا ہوں کہ اگر یہ چیز کچھ عرصہ پہلے ہوگئی ہوتی تو ہندو مسلم کا مسئلہ اس قدر پیچیدہ نہ ہوتا۔جس حکومت ِالٰہیہ کی آپ دعوت دے رہے ہیں ،اس میں زندگی بسر کرنا قابل فخر ہوسکتا ہے مگر چند اُمور دریافت طلب ہیں ۔خط وکتابت کے علاوہ ضرورت ہوگی تو جناب کا نیاز بھی حاصل کروں گا۔
سب سے پہلی چیز جو دریافت طلب ہے وہ یہ ہے کہ ہندوئوں کو حکومتِ الٰہیہ کے اندر کس درجے میں رکھا جائے گا؟آیا ان کو اہل کتاب کے حقوق دیے جائیں گے یا ذمی کے؟اہلِ کتاب اور ذمی لوگوں کے حقوق کی تفصیل ان رسائل میں بھی نہیں ملتی۔ مجھے جہاں تک سندھ پر عربی حملے کی تاریخ کا علم ہے،محمد بن قاسم اور اس کے جانشینوں نے سندھ کے ہندوئوں کو اہلِ کتاب کے حقوق دیے تھے۔اُمید ہے کہ آپ اس معاملے میں تفصیلی طور پر اظہارِ خیال فرمائیں گے۔
واضح رہے کہ میں محض ایک متلاشیِ حق کی حیثیت سے سوال کررہا ہوں ۔

مَیں نے جناب کی خلافت و ملوکیت اور عباسی صاحب کی جوابی کتاب تبصرہ محمودی حصہ اول و دوم کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ عباسی صاحب اسلام کے سیاسی نظام کا کوئی واضح تصور نہیں رکھتے ہیں ۔ چنانچہ انھوں نے اسلام کا جو سیاسی نظریہ پیش فرمایا ہے وہ ذہنی پیچیدگی کا شاہکار ہے البتہ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ جناب چند باتوں کی وضاحت کردیں تو آپ کے خلاف پروپیگنڈا علمی طبقے میں مؤثر نہ ہوسکے گا۔
عباسی صاحب کا کہنا ہے کہ اسلام میں کوئی طریقہ انتخاب براے خلیفہ معین نہیں ہے اس لیے کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں عوام کا اجتماع نہ تھا بلکہ چند افراد جس میں تمام طبقوں کی نمائندگی بھی نہ تھی جمع ہوئے، اس لیے یہاں عوامی راے یا تائید کا کوئی سوال نہیں تھا۔ حضرت عمرؓ کے معاملے میں آپ کو حضرت ابوبکرؓ نے نامزد کر دیا اور سب نے اس نامزدگی پر اتفاق کر لیا، راے عامہ کے اظہار کا یہاں بھی کوئی سوال نہیں آیا۔ پھر عباسی صاحب کہتے ہیں کہ اگر راے عامہ کے اصول کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو بیعت تو صرف مدینہ میں ہوئی تھی۔ پورے ملک میں راے عامہ یا مسلمانوں کی رضامندی کا سوال یہاں بھی خارج از بحث ہوجاتا ہے۔ مہربانی کرکے وضاحت کیجیے۔

طریق انتخاب کے مسئلے میں ریفرنڈم

طریق انتخاب کے مسئلے میں جماعت اسلامی نے ریفرنڈم کرانے کا جو مطالبہ کیا تھا، اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے مختلف اعتراضات کیے گئے ہیں ۔ میں ان کا خلاصہ پیش کرکے آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس ان اعتراضات کا کیا جواب ہے:
۱۔جداگانہ انتخاب اگر دین اور شریعت کے اصول اور احکام کا لازمی تقاضا ہے تو اس پر عوام سے استصواب کے کیا معنی؟ کیا اسی طرح کل نماز اور روزے پر بھی استصواب کرایا جائے گا؟ کیا آپ یہ اصول قائم کرنا چاہتے ہیں کہ عوام کی اکثریت جس چیز کو حق کہے وہ حق، اور جس چیز کو باطل کہے وہ باطل؟ فرض کیجیے کہ ریفرنڈم میں اکثریت کا فیصلہ مخلوط انتخاب کے حق میں نکلے تو کیا آپ اس کو حق مان لیں گے اور پھر جداگانہ انتخاب اسلامی اصول واحکام کا تقاضا نہ رہے گا؟
۲۔ جداگانہ اور مخلوط دونوں ہی طریقے غیر اسلامی ہیں ، کیوں کہ اسلام کی رو سے تو مجلس شوریٰ میں غیر مسلم کی نمایندگی ہی اصولاً غلط ہے۔آپ جب جداگانہ انتخاب کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آپ نے اسلامی ریاست کی مجلس شوریٰ میں غیر مسلم کی شرکت کا اصول مان لیا۔
۳۔ استصواب راے کی تجویز لا کر آپ نے طریق انتخاب کے مسئلے کو اس خطرے میں ڈال دیا ہے کہ شاید اس کا فیصلہ مخلوط انتخاب کے حق میں ہو۔ آخر آپ کے پاس اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ اس کا نتیجہ لازماً جداگانہ طریق انتخاب ہی کے حق میں ہوگا۔
۴۔ یہ عجیب بات ہے کہ آپ مخلوط انتخاب کے مخالف ہیں مگر طریق انتخاب کا فیصلہ مخلو ط راے شماری سے کرانے کے لیے تیار ہیں ۔آخر ریفرنڈم بھی تو مخلوط ہی ہوگا۔
۵۔آپ طریق انتخاب کے مسئلے پر ریفرنڈم کرانے کے بجاے یہ کیوں نہیں کرتے کہ ملک کے آئندہ انتخابات عام میں اس مسئلے پر الیکشن لڑیں ؟ اگر عوام الناس جداگانہ انتخاب کے حامی ہیں تو وہ انھی لوگوں کو ووٹ دیں گے جو اس طریق انتخاب کے حامی ہوں گے۔اس طرح اس مسئلے کا تصفیہ ہوجائے گا۔
۶۔ ریفرنڈم کے لیے ملک کے موجودہ دستور میں کوئی گنجائش نہیں ہے،اس لیے ناگزیر ہوگا کہ پہلے قومی اسمبلی اس مقصد کے لیے دستور میں ترمیم کرے، اور ترمیم کے لیے لامحالہ۲/۳ اکثریت درکار ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ جب مخلوط انتخاب کے قانون کو بدلنے کے لیے مجرد اکثریت بہم نہیں پہنچ رہی ہے تو ریفرنڈم کے لیے۳ /۲ اکثریت کہاں سے بہم پہنچے گی؟
۷۔جمہوری ممالک میں بالعموم ریفرنڈم کے ذریعے سے ملکی مسائل کا فیصلہ کرنے کے بجاے پارلیمنٹ یا ایوان نمائندگان ہی کو آخری فیصلے کے اختیارات دیے گئے ہیں ۔براہِ راست عوام سے مسائل کا تصفیہ کرانے میں بہت سی قباحتیں ہیں جن کی وجہ سے یہ طریقہ جمہوری ملکوں میں مقبول نہیں ہوا ہے۔
یہ ہیں وہ بڑے بڑے اعتراضات جو ریفرنڈم کی تجویز پر میں نے سنے یا پڑھے ہیں ۔ان سے کم ازکم شک یا تذبذب کی کیفیت تو ذہنوں میں پیدا ہوہی جاتی ہے،اس لیے مناسب ہوگا کہ آپ ان سب کو صاف کرکے عوام کو اس مسئلے میں پوری طرح مطمئن کردیں ۔

جداگانہ انتخاب کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی، نفسیاتی وابستگی ہے، جو گزشتہ پچاس ساٹھ سال سے برابر چلی آرہی ہے۔ جداگانہ انتخاب، الیکشن میں بطور نمایندگی کے، ہندوئوں کی عددی اکثریت کے مقابلے پر وجود میں آیا تھا، اور بدقسمتی سے یہ مسلمانان ہند کی سیاست کا واحد شاہکار بن کر رہ گیا۔ اب اگر اس ذریعے کو اسلامی دستور کے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میں استعمال کیا گیا تو بوجوہ ذیل ان مقاصد کا حاصل کرنا نہایت مشکل ہوجائے گا:
اوّلاً، اس صورت میں اسلامی پروگرام رکھنے والے فریق کی بہ نسبت اسلامی نام اور غیر مسلموں کی مخالفت کے نعروں اور سنسنیوں سے ووٹروں کو اپیل کرنے والا فریق ہمیشہ پیش پیش رہے گا، جیسا کہ گزشتہ پچا س سال سے وہ پیش پیش رہتا چلا آ رہا ہے۔ اس فریق نے پہلے بھی اسلام کا مقدس نام اپنی خواہشات کے لیے استعمال کیا اور اسلام کی غلط نمایندگی کی۔ آج بھی اس کی ذہنیت اور عملی زندگی بدستور سابق ہے، اور پہلے کی بہ نسبت کامیابی کے ذرائع آج اس کے پاس بہت زیادہ ہیں ۔
ثانیاً، مسلمان کثرت تعداد کے باوجود خود غرض سیاست دانوں کی دانش فریبیوں کے ہاتھوں غیر مسلموں کے مقابلے میں خوف واحساس کم تری کی ہسٹریائی کیفیت میں بآسانی مبتلا رکھے جائیں گے۔
ثالثاً، مسلمان راے دہندوں کے سامنے اپنے حلقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان امیدواروں کو کام یاب بنادینا ہی اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ بن کر رہ جایا کرے گا۔
رابعاً ،مسلم حلقوں میں ایک سے زیادہ مسلمان امید واروں کے درمیان اسلام کے نام پر جو کش مکش برپا کی جاتی رہے گی، وہ بجاے خوداسلام اور مسلمانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
خامساً، غیر مسلم حلقے زیادہ سے زیادہ متحد ہوتے رہیں گے اور آگے چل کر وہ ایک ایسا متحدہ بلا ک بن سکتے ہیں جو غیر ملکی طاقتوں کا آلۂ کار ہو سکتا ہے اور جن کی ہم دردی میں غیر ملکی طاقتیں معاملات میں ایسی مداخلتیں کرسکتی ہیں جن سے ملک میں اعصابی جنگ اور کش مکش جاری رہے۔
سادساً ،آئندہ خطرہ ہے کہ ملک کی اس فرقہ وارانہ سیاست میں اسلام کی حیثیت ثانوی نہ رہ جائے، اسلام کی عمومی دعوت کے امکانات کم سے کم نہ ہوتے جائیں اور ملک کے اندر باہر غیر مسلم حلقے، اسلام کے مستقل حریف نہ بنتے جائیں ۔
سابعاً ،غیر اسلامی ملکوں میں اسلام کے قیام کے لیے کام کرنے والوں کے واسطے یہ ایک ایسی مثال ہوگی جس سے ان کی مشکلات میں بے اندازہ اضافہ ہوجائے گا اور وہ غیر مسلم اقوام وعوام کو انسانیت کی سطح پر اپیل کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہیں رہیں گے۔
اور آخر میں یہ کہ ہمارے اس ملک میں اہل ثروت واہل ریاست کو جو اثر حاصل ہے،اور جس طرح وہ فسق وفجور کی امامت میں پیش پیش ہیں ،جداگانہ انتخاب کے بعد ان کے ہاتھ اور مضبوط ہوجائیں گے۔ ان کے حلقے الیکشن کے لیے جس طرح آج ان کی بلا شرکت غیرے میراث بنے ہوئے ہیں ،جداگانہ انتخاب سے وہ مستحکم تر ہوتے چلے جائیں گے۔ اب یا تو ان کی ثروت وریاست ختم ہو،یا ان کے مزاج اسلامی بنیں ۔ اور یہ دونوں چیزیں اﷲ کی خاص مہربانی سے ہی ممکن ہیں ،بندوں کے اختیار وتدبیر سے مشکل ہیں ۔
اس کے برخلاف،مخلوط انتخاب کی صورت میں ،جسے بجاے مخلوط کے عمومی انتخابات کہنا زیادہ موزوں ہو گا، پارٹی پروگرام پر کامیابی کی بنیاد رہ جائے گی، اگرچہ اس وقت اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والی جماعت کو پوری پوری تن دہی اور جاں فشانی سے کام لینا ہوگا لیکن وہ اسلام کو پارٹی پروگرام بنا کر،اوّل تو ملک کے تمام باشندوں کو اپیل کرنے کی پوزیشن میں آجائے گی، دوسرے یہ کہ وہ اس پروگرام کو نظری طور پر بین الاقوامی تحریک کی پوزیشن میں لا سکے گی، اور اسلام کے لیے، اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں کام کرنے والوں کے درمیان نقطۂ اتحاد کا کام دے سکے گی۔ تیسرے یہ کہ مقابلہ اشخاص سے اشخاص کا نہیں رہے گا بلکہ جماعتوں کے اصول اور پروگرام کا ایک دوسرے سے مقابلہ ہوگا۔ہم اسلام کے اصول اور پروگرام کو لے کر پوری قوم اور پورے ملک کے پاس جائیں گے۔ اس طرح اصول اور پروگرام پر دوسرے خود غرض اور مفاد پرست گروہوں سے کھلا ہوا آزادانہ اور مساویانہ مقابلہ ممکن ہوسکے گا۔ اور چوتھے یہ کہ جب بھی اسلامی جماعت کام یاب ہوگی،دوسرے عناصر کے تعاون کی محتاج ہوئے بغیر نہایت آسانی سے ملک کی پوری ہیئت ترکیبی کو اسلامی قالب میں تبدیل کرسکے گی اور ایک مثالی ریاست کا نمونہ پیش کرنے کے قابل بن سکے گی۔ آپ کے پمفلٹ’’مخلوط انتخاب کیوں اور کیوں نہیں ‘‘ میں اس حیثیت سے مسئلۂ انتخاب کا تجزیہ نہیں کیا گیاہے۔ میں گزارش کروں گا کہ آپ ان پہلوئوں پر بھی غور فرمائیں ۔ ساتھ ہی یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ مخلوط انتخاب کے موجودہ حامیوں کے ساتھ میں ہرگز متفق نہیں ہوں ، اس لیے کہ ان کا مقصد اس سے ایک ایسی پاکستانی نیشن بنانا ہے جس میں نہ کوئی مسلمان،مسلمان رہے اور نہ کوئی ہندو،ہندو۔جب کہ میرا مقصد اس سے پاکستان میں ایک ایسی نیشن بنانا ہے جو خالص مسلمان ہی مسلمان ہو۔ اگر سوئے تدبیر سے مخلوط انتخاب کو اوّل مقصد کے لیے ذریعہ بنایا گیا تو یقیناً میرا تعاون جداگانہ انتخاب کے ساتھ ہو گا۔ تاہم میری ہنوز دیانت دارانہ اور مخلصانہ راے یہ ہی ہے کہ اسلام کو، پارٹی پروگرام بنا کر، مخلوط انتخابات کو ذریعہ نمائندگی بنایا جائے، بشرطیکہ خالص اسلامی لیجس لیچر کا قیام فی الوقت ممکن نہ ہو۔ اس طرح اسلامی مقاصد بہتر طریقے پر اور آسانی سے حاصل کیے جاسکیں گے، اور جداگانہ انتخاب کے مقابلے میں کم رکاوٹیں پیش آئیں گی۔

مخلو ط انتخاب سے پاکستان کی وہ حیثیت تو بلاشبہہ کمزور ہوجاتی ہے جسے اسلام کے نام سے نمایاں کیا گیا ہے،لیکن جداگانہ انتخاب سے سواے مسلم قوم پرستی کے اور کیا حاصل ہوسکتا ہے؟ اسلام کے حق میں تو ایسا جداگانہ انتخاب قطعی بے معنی بلکہ نقصان رساں ہے جس کے بعد بھی اسمبلی میں مسلم وغیر مسلم دونوں کو مساوی حق راے دہی حاصل ہو، اسمبلی کا صدر ونائب صدر مسلم وغیر مسلم دونوں بن سکتے ہوں ، نمائندہ وزارت میں دونوں لیے جاسکتے ہوں ، اور احکام اسلامی کی توضیح وتنقید، اتفاق واختلاف آرا اور ووٹنگ میں کلمہ گو اور غیر کلمہ گو دونوں یکساں طور پر حصہ لے سکتے ہوں ۔ ایسی صورت میں اسلام کو کوئی حقیقی فائدہ پہنچنے کے بجاے اسلام کی عمومیت و عالم گیریت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔اسلام کا دوسروں کے مقابلے میں فریق جنگ بن جانے کا خطرہ ہے۔ غیر مسلم قومیں خواہ مخواہ اسے اپنا سیاسی و معاشی حریف سمجھنے لگیں گی، غیر مسلموں کے دل اسلام کی طرف سے اور مقفل ہوجائیں گے، ملک میں دوسری قوموں سے کش مکش زیادہ سے زیادہ بڑھتی جائے گی‘ اور ہوسکتا ہے کہ آیند ہ چل کر پاکستان میں اسلام بھی بنی اسرائیل کی طرح مسلمانوں کا قومی مذہب بن کر رہ جائے۔ اگر مسلمانوں کی پوزیشن اس ملک میں وہی رہے جو آج ہے، تو کوئی حقیقی اسلامی فائدہ حاصل ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ ضرور اس پر غور فرمائیں اور ان نازک مواقع پر ملت اسلامیہ کی صحیح صحیح رہبری فرمائیں ۔

طریق انتخاب:مخلوط یا جداگانہ

مجھے آپ کی خدمت میں ایک وضاحت پیش کرنا ہے۔میں نے کچھ عرصہ قبل اپنی ذاتی حیثیت میں تجربتاً دس سالوں کے لیے مخلو ط انتخاب کی حمایت کی تھی۔اپنے حق میں دلائل دینے کے ساتھ ہی میں نے یہ بھی کہا تھا کہ مخلوط انتخاب کی مخالفت میں سب سے اونچی آواز جماعت اسلامی کی طرف سے اٹھائی جارہی ہے۔پھر میں نے کم وبیش مندرجہ ذیل الفاظ کہے تھے:’’جماعت اسلامی میں ایسے لوگ ہیں جن کے لیے میرے قلب وجگر میں انتہائی احترام وعقیدت کا سرمایہ ہے، لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جماعت نے پاکستان کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کی تھی اور اگر ہندستان تقسیم نہ ہوتا تو کیا اس صورت میں متحدہ ہندستان میں جماعت اسلامی جداگانہ انتخابات کے حق میں آواز بلند کرتی؟‘‘ اس کے بعد جماعت کے بعض دوستوں نے مجھ سے گلہ کیا۔میں نے ان سے عرض کیا کہ میں ایک دلیل تعمیر کررہا تھا جس سے مقصود جماعت اسلامی پر حملہ کرنا نہیں تھا،بلکہ اپنے نقطۂ نگاہ کے جواز میں وزن پیدا کرنا تھا۔ میں نے آپ کی خدمت میں بھی اس صراحت کو پیش کرنا ضروری سمجھا تاکہ غلط فہمی رفع ہوجائے۔

عربی بطورِ قومی وسرکاری زبان

ایک صاحب کا انگریزی مضمون ارسال خدمت ہے،جو اگرچہ مسلم لیگ کے حلقے میں ہیں لیکن اسلامی حکومت کے لیے آواز اُٹھاتے رہتے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ اسلام کے منشا کے مطابق تبدیلی آئے۔فی الحال یہ ایک خاص مسئلے پر متوجہ ہیں ۔ یعنی اپنی پوری کوشش اس بات پر صرف کررہے ہیں کہ پاکستان کی سرکاری ملکی زبان بروے دستور عربی قرار پائے۔ان کے دلائل کا جائزہ لے کر اپنی راے سے مطلع فرمایئے۔
محولہ بالا مضمون درج ذیل ہے:
’’پاکستان کی قومی زبان کے مسئلے کا فیصلہ مستقبل قریب میں ہونے والا ہے۔ میری التجا یہ ہے کہ آپ عربی زبان کے حق میں آواز بلند کرنے پر پوری توجہ صرف کریں ۔یہ معاملہ اسلام اور پاکستان کے لیے بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے، اور اگر آپ میری ان سطور کو اپنے مؤقر جریدے میں شائع فرما دیں تو میں بہت شکر گزار ہوں گا۔
عربی زبان کلام الٰہی یعنی قرآن شریف کی زبان ہے اور قرآن شریف ہی پر سارے اسلام کا دارو مدار ہے۔اس لحاظ سے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے عربی سیکھنا ضروری ہے۔ پیغمبر اسلامﷺ کے ارشاد کے بموجب عالم آخرت کی زبان بھی عربی ہوگی۔پھر اسلام کے سارے سرمایۂ روایات کے علمی مآخذ عربی زبان ہی میں ملتے ہیں ۔
بجاے خود عربی زبان دنیا کی زندہ کثیر الاستعمال اور وسیع الظرف زبانوں میں سے ہے۔پھر عرب،مشرق وسطیٰ اور افریقا کی تمام اسلامی حکومتوں اور بحیرۂ روم کے آس پاس یورپ کے بعض علاقوں کی، جو اکثریت کے لحاظ سے مسلم علاقے ہیں ، عربی ہی سرکاری اور قومی زبان ہے۔علاوہ بریں قرآن شریف کے واسطے سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک بشمول پاکستان عربی سے شناسا ہے۔
عربی زبان بحیثیت ایک تمدنی ذریعۂ ربط کے وسیع استعداد رکھتی ہے اور ہر قسم کی سائنٹی فِک، فنی اور عام اصطلاحات ومصطلحات کو اپنے اندر جذب کرسکتی ہے۔ اُردو اور فارسی کو بھی اس معاملے میں بیش تر عربی کا دست نگر ہونا پڑتا ہے۔ جیسا کہ زاہد حسین گورنر اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے عربی کو پاکستا ن کی سرکاری زبان بنانے کی دعوت دیتے ہوئے زیادہ وضاحت سے بتایا تھا۔
ساری دنیا کے مسلمانوں کا خدا ایک ہے، ان کی آسمانی کتاب ایک ہے،اور وہ بحیثیت مجموعی ملت واحدہ ہیں ۔ لہٰذا بالکل اسی طرح ان کی قومی زبان بھی ایک ہی —یعنی عربی — ہونی چاہیے۔چاہے وہ کئی مختلف زبانیں بولتے ہوں ۔ ملت اسلامیہ کی ترکیب کا دارومدار ہی تنوعات میں یک جہتی پیدا ہونے پر ہے۔
قرارداد مقاصد پاکستان کے دستور کا اصل الاصول قرارپاچکی ہے۔اس کے تحت بنیادی اُصولوں کی کمیٹی نے بالکل بجا طور پر مسلمانوں کے لیے قرآن کی لازمی تعلیم کی سفارش کی ہے۔خود یہ سفارش منطقی طور پر عربی زبان کو پاکستان کی قومی زبان بناے جانے کو لازم قرار دیتی ہے۔
اس فیصلے سے پاکستان کے ہر حصے کے مسلمانوں میں ایک روحِ تازہ دوڑ جائے گی، اور بالآخر یہ چیز پاکستان —دنیا کی عظیم ترین مسلم مملکت — کو ملت اور عالم اسلام کی سیاسی تنظیم میں شایان شان حصہ ادا کرنے اور ممتاز مقام حاصل کرنے کی ضامن ہوگی۔ یہ اس صورت میں ناممکن ہے جب کہ کسی دوسری زبان کو قومی زبان قرار دیا جائے۔
سرکاری زبان کو بدلنے کا معاملہ بڑا بھاری معاملہ ہے۔انگریزی زبان کو ہندستان میں سرکاری زبان کی حیثیت سے اپنی جگہ پیدا کرنے میں کئی سال لگے۔ اب پاکستان کو اپنی نئی سرکاری زبان اختیار کرنے کے لیے بھی وہی صورت پیش آئے گی۔چاہے وہ کوئی سی زبان بھی ہو۔ ہمارے لیے اب قرین مصلحت یہی ہے کہ ہم ذرا سی دُور اندیشی سے کام لیں اور اس زبان کے حق میں فیصلہ کریں جو ہماری سرزمین کے لیے زیادہ سے زیادہ راس آنے والی ہے اور بلحاظ نتائج بعید کے زیادہ مفید ثابت ہونے والی ہے۔
عربی زبان طباعت، سٹینو گرافی اور ٹائپ کے پہلو سے خوب اچھی طرح فروغ یافتہ سہولتیں رکھتی ہے۔مادری زبانوں کو درکنار رکھ کر دیکھا جائے تو مسلمان عوام دوسری زبان کے مقابلے میں عربی کے لیے امتیازی جذبہ احترام رکھتے ہیں ۔ہمیں کبھی عوام کے جذبات کو نظر انداز نہ کرنا چاہیے۔
پھرجب کہ مسلم ممالک —جو زیادہ تر عربی بولنے والے ہیں — کا متحدہ بلاک بنانے کی اسکیم پیش نظر ہے،تو پاکستان عربی کو اپنی سرکاری زبان قرار دے کر اس معاملے میں اپنا حصہ اداکرنے کے لیے زیادہ بہتر مقام پیدا کرسکتاہے۔دنیا بھر کی مسلمان مملکتوں کی لنگوا فرنکا[lingua franca] اگر کوئی زبان ہے اور ہو سکتی ہے تو وہ صرف عربی ہے۔
پھر ہر سال کی تقریب حج اسلام کی پانچ بنیادی عبادات میں سے ایک ہے جو بحیثیت ایک فریضے کے دنیا بھر کے ذی استطاعت مسلمان سرانجام دیتے ہیں ۔سالانہ حج اور مسلمانوں کی دوسری ہنگامی کانفرنسوں کے موقع پر کسی دقت اور غیر ضروری خرچ کے بغیر تما م مسلمان ممالک کے درمیان خیالات وافکار کا تبادلہ اور کاروباری تعلقات کا استحکام عربی زبان جاننے ہی کی صورت میں ہوسکتا ہے۔
پھر یہ کہ مصر،شام اور لبنا ن کے عیسائیوں اور یہودیوں کی طرح ہمارے غیر مسلم ہم وطنوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کی سرکاری زبان عربی ہو۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ اُردو کو عربی پر ترجیح دیں ،جب کہ ان کو مغل دور میں فارسی کے خلاف اور ماضی قریب میں انگریزی کے خلاف کوئی شکایت نہ پیدا ہو ئی۔
عربی زبان پاکستان کی سرکاری زبان قرار پاکر پاکستان کی علاقائی زبانوں ،ان کے رسم الخط اور مستقبل میں صحیح خطوط پر ان کے ارتقا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
علاوہ بریں عربی زبان اختیا ر کرنے سے پاکستان بھر میں ہمارے بچوں کے لیے تعلیمی بوجھ میں نمایاں کمی آجائے گی۔ کیوں کہ اس صورت میں ان کے لیے صرف اپنی مادری زبان کی تعلیم حاصل کرنا لازمی ہوگا، اور مزید کسی زبان کو سیکھنا چاہیں تو یہ ان کا اپنا اختیاری معاملہ ہوگا۔اُردو یا کسی دوسری علاقائی زبان کو اگر پاکستان کی قومی زبان بنایا گیا تو اُن کے کندھوں پرسہ گونہ بار آپڑے گا۔کیوں کہ عربی تو ہرحال میں مسلمان خاندانوں میں گھریلو طور پر پڑھی جائے گی۔
برعکس اس کے اگر خالص جمہوری نقطۂ نظر سے پاکستا ن کی زبان کا تعین کیا جائے تو پھر بنگالی جوپاکستان کی۶۰ فی صدی آبادی کی زبان ہے،اپنے آ پ کو غور کے لیے سب سے پیش پیش رکھنے کی مستحق ہے۔اُردو ایک محدود گروہ میں بولے جانے کی وجہ سے سندھی،پنجابی اور پشتو سے زیادہ قابل لحاظ نہیں ہوسکتی جن کے بولنے والے اپنی بولیوں سے کچھ کم محبت نہیں رکھتے۔اس کا لحاظ رہے کہ اُردو پاکستان کے کسی صوبے میں خصوصی طور پر نہیں بولی جاتی۔اندریں حالات عربی زبان ہی اس کا وسیلہ ہوسکتی ہے کہ ہم ہر دو خطوں کے لوگ پاکستانی وحدت اسلامیہ کے وسیع تقاضوں کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی علاقائی زبانوں کی علم برداری سے دست بردار ہوجائیں ۔‘‘