قراردا د مقاصد کی تشریح

مجلس دستور ساز پاکستان کی منظور کردہ قرار داد مقاصد متعلقہ پاکستان میں ایک شق حسب ذیل ہے:
’’جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طورپر زندگی کو اسلامی تعلیمات ومقتضیات کے مطابق جو قرآن مجید اور سنت رسول میں متعین ہیں ،ترتیب دے سکیں ۔‘‘
اس کام کا اصل تعلق تو دراصل حکومت کے انتظامی اُمور سے ہے کہ وہ اس کے لیے کیا کیا اقدام کرتی ہے۔قانونی طور پر حکومت کو مجبور کرنے نیز اس سلسلے میں غفلت یا عدم تعاون یا معاندانہ رویہ اختیار کرنے کی صورت میں دستور میں کیا کیا(provisions) ہونی چاہییں کہ یہ مقصد بروے کار آجائے؟ نیز دستوری طور پر حکومت کو اس سلسلے میں غفلت برتنے، عدم تعاون یا معاندانہ رویہ اختیار کرنے کی صورت میں کس طرح سے روکا جاسکے؟اور ایک شہری کو حکومت کے خلاف عدلیہ کے سامنے اس بات کو لانے کے لیے کیا کیا تدابیر ہونی چاہییں ؟

کفر وارتداد کی مہم میں پاکستان کا فرض

ہندستان میں کفر وارتداد کی مہم تیز ہے۔کیا ان حالات میں پاکستان کا فرض نہیں کہ وہ بزور شمشیر ہندستان پر قابض ہوکر آپ کی صالحانہ قیادت کی روشنی میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لے آئے؟ اس صورت میں کیاموجودہ مالی اور اقتصادی معاملات اسلامی علم بلند کرنے کے راستے میں کبھی روک تو ثابت نہیں ہوسکتے؟

جماعت ِاسلامی اور صوبہ سرحد کا ریفرنڈم

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے صوبۂ سرحد میں اس سوال پر ریفرنڈم(۱۹۴۷ء) ہورہا ہے کہ اس صوبے کے لوگ تقسیمِ ہند کے بعد اپنے صوبے کوہندستان کے ساتھ شامل کرانا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ وہ لوگ جو جماعت اسلامی پر اعتماد رکھتے ہیں ،ہم سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کو اس استصواب میں راے دینی چاہیے اور کس طرف سے راے دینی چاہیے؟کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اس استصواب میں بھی ہماری پالیسی اسی طرح غیر جانب دارانہ ہونی چاہیے جیسے مجالسِ قانون ساز کے سابق انتخابات میں رہی ہے، ورنہ ہم پاکستان کے حق میں اگر ووٹ دیں گے تو یہ ووٹ آپ سے آپ اس نظام حکومت کے حق میں بھی شمار ہوگا جس پر پاکستان قائم ہورہا ہے۔

’’حکومتِ الٰہیہ‘‘ اور’’پاکستان ‘‘کافرق

آپ حکومت ِالٰہیہ کے خواہاں ہوتے ہوئے پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں ۔ کیا آپ اپنی حکومت ِالٰہیہ ملکی حدود کے بغیر ہی نافذ کرسکیں گے؟یقینا ًنہیں ، تو پھر آپ کی حکومتِ الٰہیہ کے لیے ملکی حد ود بہرحال وہی موزوں ہوسکتی ہیں جہاں مسٹر جناح اور ان کے ساتھی پاکستان کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ۔آپ پاکستان کی حدود کے علاوہ کیوں سارے ہندستان میں حکومت الٰہیہ نافذ کریں گے؟نیز یہ گرہ بھی کھولیے کہ آپ موجودہ ماحول میں اس طرزِ حکومت کو چلانے کے لیے ایسے بلند اخلاق اور بہترین کیرکٹر کی شخصیتیں کہاں سے پیدا کریں گے؟جب کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ،حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان غنیؓ جیسے عدیم المثال بزرگ اسے چند سالوں سے زیادہ نہ چلاسکے۔چودہ سو سال کے بعد ایسے کون سے موافق حالات آپ کے پیشِ نظر ہیں جن کی بِنا پر آپ کی دُور رَس نگاہیں حکومتِ الٰہیہ کو عملی صورت میں دیکھ رہی ہیں ؟اس میں شک نہیں کہ آپ کا پیغام ہر خیال کے مسلمانوں میں زور شور سے پھیل رہا ہے اور مجھے جس قدر بھی مسلمانوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے ،وہ سب اس خیال کے حامی ہیں کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ عین اسلام ہے۔ مگر ہر شخص کا اعتراض یہی ہے جو میں نے گزشتہ سطورمیں پیش کیا ہے، یعنی آپ کے پاس عہدِ خلافت ِ راشدہ کی اُصولی حکومت چلانے کے لیے فی زمانہ کیرکٹر کے آدمی کہاں ہیں ؟ پھر جب کہ وہ بہترین نمونے کی ہستیاں اس نظام کو نصف صدی تک بھی کام یابی سے نہ چلا سکیں تو اس دور میں اس طرز کی حکومت کا خیال خوش فہمی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟

ادھوری تدابیر کے ذریعے اصلاح

آپ کو علم ہوگا کہ مسلم لیگ نے کام کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مجلسِ عمل کا تقرر کیا ہے۔ پھر اس مجلسِ عمل نے مختلف ذیلی مجالس مسلمانوں کی اصلاح وترقی کے لیے مقرر کردی ہیں ۔ انھی میں سے ایک مذہبی ومعاشرتی حالات کی اصلاح کے لیے ہے جس کے داعی کی طرف سے آپ کو ایک سوال نامہ غالباً موصول ہوچکا ہوگا۔({ FR 2273 }) اس سوال نامے کو خاص توجہ کا مستحق سمجھیے اور ہر طرح کے اختلافات کو نظرانداز کرکے فکری تعاون فرمایئے۔غنیمت سمجھنا چاہیے کہ ابھی تک مسلمانوں نے اپنی مذہبیت کو مغرب کے سیلابِ الحاد کے مقابلے میں بچا رکھا ہے۔اگر اس نازک لمحے میں اُن کی صحیح راہ نمائی نہ کی گئی تو ممکن ہے کہ نوجوانانِ ملت ترکی اور ایران کے نقشِ قدم پر چل نکلیں ۔

مطالبۂ پاکستان اسلامی نقطۂ نظر سے

ہمارا عقیدہ ہے کہ مسلمان آدم ؈ کی خلافت ِارضی کا وارث ہے۔مسلمان کی زندگی کا مقصد صرف اﷲ پاک کی رضا اور اس کے مقدس قانون پر چلنا اور دوسروں کو چلنے کی ترغیب دینا ہے۔اس لیے اس کا فطری نصب العین یہ قرار پاتا ہے کہ سارے عالم کو قانونِ الٰہیہ کے آگے مفتوح کر دے۔
لیکن مسٹر جناح اور ہمارے دوسرے مسلم لیگی بھائی پاکستان چاہتے ہیں ۔ہندستان کی زمین کا ایک گوشہ!… تاکہ ان کے خیال کے مطابق مسلما ن چین کی زندگی گزار سکیں ۔کیا خالص دینی نقطۂ نظر سے یہ قابلِ اعتراض نہیں ؟
یہودی قوم مقہور ومغضوب قوم ہے۔ اﷲ پاک نے اس پر زمین تنگ کردی ہے اور ہر چند کہ اس قوم میں دنیا کے بڑے سے بڑے سرمایہ دار اور مختلف علوم کے ماہرین موجود ہیں لیکن ان کے قبضے میں ایک انچ زمین بھی نہیں ہے۔آج وہ اپنا قومی وطن بنانے کے لیے کبھی انگریزوں سے بھیک مانگتے ہیں اور کبھی امریکا والوں سے۔
میرے خیال میں مسلمان… یا بالفاظِ دیگر مسلم لیگ بھی یہی کررہی ہے۔وہ یہودیوں کی طرح پاکستان کی بھیک کبھی ہندوئوں سے اور کبھی انگریزوں سے مانگتی پھر رہی ہے۔ تو پھر کیا یہ ایک مقہور اور مغضوب قوم کی پیروی نہیں ہے ؟اور کیا ایک مقہور ومغضوب قوم کی پیروی مسلمانوں کو بھی اسی صف میں لاکھڑا نہ کردے گی؟