الخلافت یا الحکومت

اگر بیسیویں صدی میں بھی اسلام قابل نفاذ ہے تو موجودہ رجحان ونظریات کی جگہ لینے میں جو مشکلات یا موانع درپیش ہوں گے ان کا بہترین حل ابن خلدون کے ہر دو نظریہ حکومت وریاست یعنی الخلافت یا الحکومت کس سے ممکن ہے؟

دستور کی تعبیر کا حق

دستور کی تعبیر کا حق کس کو ہونا چاہیے؟ مقننہ کو یا عدلیہ کو؟ سابق میں یہ حق عدلیہ کو تھا اور موجودہ دستور میں یہ حق عدلیہ سے چھین کر مقننہ کو ہی دے دیا گیا ہے۔ا س پریہ اعتراض کیا گیا کہ عدالتوں کے اختیارات کو کم کردیا گیا ہے اور یہ حق عدلیہ کے پاس باقی رہنا چاہیے۔ اس مسئلے پر ایک صاحب نے یہ فرمایا ہے کہ اسلام کے دور اوّل میں عدالتوں کا کام صرف مقدمات کا فیصلہ کرنا تھا۔قانون کی تشریح اور تعبیر کا حق عدالتوں کو نہ تھا اور نہ عدالتیں یہ طے کرنے کی مجاز تھیں کہ قانون صحیح ہے یا غلط۔ یہ راے کہاں تک درست ہے ؟

حکومت ِالٰہیہ اور پاپائیت کا اصولی فرق

رسالہ ’’پیغامِ حق‘‘میں ابو سعید بزمی صاحب نے اپنے ایک مضمون کے سلسلے میں لکھا ہے:
’’اسلامی ریاست کا ایک تصور وہ بھی ہے جسے حال ہی میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بڑے زور شورکے ساتھ پیش کیا ہے اور جس کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ حکومت عوام کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔ تاریخی حیثیت سے یہ اُصول نیا نہیں ۔ یورپ میں ایک عرصے تک تھیاکریسی (theocracy) کے نام سے اس کا چرچا رہا اور رُوم کے پاپائے اعظم کا اقتدار اسی تصور کا نتیجہ تھا۔ لیکن لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ چوں کہ خدا کوئی ناطق ادارہ نہیں ، اس لیے جس شخص کو خدا کے نام پر اختیار واقتدار مل جائے،وہ بڑی آسانی سے اس کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔ مولانا مودودی کے حلقۂ خیال کے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا تصورِ سیاست پاپائے اعظم کے تصور سے مختلف ہے۔لیکن چوں کہ وہ حکومت کو عوام کے سامنے جواب دہ قرار نہیں دیتے اور اسی بنیاد پر جمہوریت کو غلط سمجھتے ہیں ، اس لیے نتیجتاً ان کا تصورپاپائے اعظم ہی کا تصور ہوکر رہ جاتا ہے۔‘‘
پھر بزمی صاحب اپنی طرف سے ایک حل پیش کرتے ہیں ،لیکن وہ بھی وجہ تسلی نہیں ہوتا۔ آپ براہِ کرم ’’ترجمان القرآن‘‘ کے ذریعے سے اس غلط فہمی کا ازالہ فرما دیں اور صحیح نظریے کی توضیح کر دیں ۔

انتخابات کے ذریعے دستورِ حکومت کو تبدیل کرنے کا جواز

آپ نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ کسی مرحلے پر اگر ایسے آثار پیدا ہوجائیں کہ موجود الوقت دستوری طریقوں سے نظامِ باطل کو اپنے اُصول پر ڈھالا جاسکے تو ہمیں اس موقع سے فائدہ اُٹھانے میں تأمل نہ ہوگا۔ اس جملے سے لوگوں میں یہ خیال پیداہورہا ہے کہ جماعت اسلامی بھی ایک حد تک اسمبلیوں میں آنے کے لیے تیار ہے اور الیکشن کو جائز سمجھتی ہے ۔اس معاملے میں جماعتی مسلک کی توضیح فرمایئے۔

اسلامی دستور کے نفاذ کے لیے اقتدار کا حصول

’’ترجمان القرآن‘‘ کے گزشتہ سے پیوستہ پرچے میں ایک سائل کا سوال شائع ہوا ہے کہ نبی ﷺ کو کسی منظم اسٹیٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا ،مگر حضرت یوسف ؈ کے سامنے ایک منظم اسٹیٹ تھا اور انھوں نے جب ریاست کو اقتدار کلی منتقل کرنے پر آمادہ پایا تو اسے بڑھ کر قبول کرلیا اور یہ طریقِ کار اختیار نہیں کیاکہ پہلے مومنین صالحین کی ایک جماعت تیار کریں ۔کیا آج بھی جب کہ اسٹیٹ اس دور سے کئی گنازیادہ ہمہ گیر ہوچکا ہے،اس قسم کا طریق کار اختیار کیا جاسکتا ہے؟اس سوال کے جواب میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے،اس سے مجھے پور اپورا اطمینان نہیں ہوا۔({ FR 2246 }) مجھے یہ دریافت کرنا ہے کہ ہم کو حضرت یوسف ؈ کا اتباع کرنا ہی کیوں چاہیے؟ ہمارے لیے تو صرف نبی ﷺ کا اُسوہ واجب الاتباع ہے۔آپؐ نے اہلِ مکہ کی بادشاہت کی پیش کش کو رَدّ کرکے اپنے ہی خطوط پر جداگانہ ریاست کی تعمیر وتشکیل کا کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور ہمارے لیے بھی طریقِ کار اَب یہی ہے۔واضح فرمایئے کہ میری یہ راے کس حد تک صحیح یا غلط ہے۔

نظامِ کفر کی ملازمت

سرکاری ملازمت کی حیثیت کیا ہے؟اس معاملے میں بھی سرسری طور پر میری راے عدم جواز کی طرف مائل ہے مگر واضح دلائل سامنے نہیں ہیں ۔

مسلمانوں کو بحیثیت مسلمان ہونے کے اسمبلی کی ممبری جائز ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کیوں ؟ یہاں مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے نمائندے اسمبلی کی رکنیت کے لیے کھڑے ہورہے ہیں اور ان کی طرف سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مجھ پر دبائو پڑ رہا ہے، حتیٰ کہ علما تک کا مطالبہ یہی ہے۔ اگر چہ مجملاً جانتا ہوں کہ انسانی حاکمیت کے نظریے پر قائم ہونے والی اسمبلی اور اس کی رکنیت دونوں شریعت کی نگاہ میں ناجائز ہیں ، مگر تاوقتیکہ معقول وجوہ پیش نہ کرسکوں ،ووٹ کے مطالبے سے چھٹکارا پانا دشوار ہے۔

نظامِ کفر کی قانون ساز مجالس میں مسلمانو ں کی شرکت

آپ کی کتاب’’اسلام کا نظریۂ سیاسی‘‘ پڑھنے کے بعد یہ حقیقت تو دل نشین ہوگئی ہے کہ قانون سازی کا حق صرف خدا ہی کے لیے مختص ہے، اور اس حقیقت کے مخالف اُصولوں پر بنی ہوئی قانون ساز اسمبلیوں کا ممبر بننا عین شریعت کے خلاف ہے۔مگر ایک شبہہ باقی رہ جاتا ہے کہ اگر تمام مسلمان اسمبلیوں کی شرکت کو حرام تسلیم کرلیں توپھر سیاسی حیثیت سے مسلمان تباہ ہوجائیں گے۔ظاہر ہے کہ سیاسی قوت ہی سے قوموں کی فلاح وبہبود کا کام کیا جاسکتا ہے اور ہم نے اگر سیاسی قوت کو بالکلیہ غیروں کے حوالے ہوجانے دیا تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ اغیار مسلم دشمنی کی وجہ سے ایسے قوانین نافذ کریں گے اور ایسا نظام مرتب کریں گے جس کے نیچے مسلمان دب کر رہ جائیں ۔پھر آپ اس سیاسی تباہی سے بچنے کی کیا صورت مسلمانوں کے لیے تجویز کرتے ہیں ؟

حدیث امامت قریش سے مستنبط ہونے والے اصول

وہ اُصول کیا ہے جو نبی ﷺ کے اس فرمان : اَلْاَئِمّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ سے آپ مستنبط کرتے ہیں اور اس کا انطباق آپ کے نزدیک کن امور پر کس طرح ہو گا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اگر آپ امورِ ذیل کی وضاحت بھی کر دیں تو مناسب ہو گا:
(الف) حکمت ِ عملی اور قاعدہ أھون البلیتین سے آپ کی کیا مراد ہے؟
(ب) کیا یہ قاعدہ دو ناگزیر برائیوں کی طرح دو ناگزیر بھلائیوں اور دو واجب الاطاعت احکام کے درمیان بھی استعمال ہو سکتا ہے؟