عورت کی طرف سے مطالبہ طلاق

کیا آپ ڈیسولیوشن آف میرج ایکٹ ۱۹۳۹ء (انفساخِ نکاح مسلمین۱۹۳۹ء) کی تمام دفعات کو جامع اور تشفی بخش سمجھتے ہیں ۔ یا آپ کے نزدیک اس میں اضافہ و ترمیم ہونی چاہیے؟

کیا ازدواجی و عائلی عدالت کو مطلّقہ کے مطالبے پر یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ مطلّقہ کو تاحینِ حیات یا تا عقدِثانی نفقہ دلوائے؟

کیا مختلف علاقوں کے لیے مصالحتی مجالس مقرر کی جائیں اور کسی طلاق کو اس وقت تک صحیح تسلیم نہ کیا جائے جب تک کہ فریقین ان مجالس کی طرف رجوع نہ کر چکے ہوں جن میں زوجین کے خاندانوں کی طرف سے بھی ایک ایک حَکَم شامل ہو؟

اگر طلاق کی رجسٹری نہ ہو تو آپ کے نزدیک اس کی کیا سزا ہونی چاہیے؟

کیا طلاقوں کا رجسٹری کرانا لازمی قرار دیا جائے؟

طلاق

اگر کوئی شوہر بیک وقت تین طلاقیں دے تو کیا آپ کے نزدیک اسے قطعی طلاق مغلّظہ شمار کیا جائے یا تین طُہروں میں تین طلاقوں کے اعلان کے بغیر جیسا کہ قرآن میں ہدایت کی گئی ہے یہ مغلّظہ شمار نہ ہو؟

کیا آپ کے نزدیک مناسب ہو گا کہ ایک معیاری نکاح نامہ مرتّب کیا جائے اور نکاح کے تمام اندراجات اس کے مطابق ہوں ؟

ہمارے معاشرے کے بعض طبقوں میں دختر فروشی کا مکروہ رواج پایا جاتا ہے۔ اس کے انسداد کے لیے آپ کے نزدیک کس قسم کا اقدام مناسب ہو گا تاکہ والدین یا ولی لڑکی کو نکاح میں دیتے ہوئے رقمیں وصول نہ کر سکیں ؟

کیا آپ اس سے متفق ہیں کہ ازروے قانون یہ تسلیم کیا جائے کہ معاہدۂ ازدواج میں یہ شرط ہو سکتی ہے کہ عورت کو بھی اعلانِ طلاق کا وہی حق حاصل ہو گا جو مرد کو حاصل ہے؟

کیا آپ اس سے متفق ہیں کہ معاہدۂ ازدواج میں ہر ایسی شرط درج ہو سکتی ہے جو اسلام اور اخلاق کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہ ہو اور عدالت اس کے ایفا پر مجبور کرے؟