کیا منگل کو آپریشن کروانا پسندیدہ نہیں ؟

میرے ایک دوست سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں ۔ انھیں پیٹ میں تکلیف ہوئی۔ ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے جلد از جلد آپریشن کروانے کا مشورہ دیا۔ اگلا دن منگل کا تھا۔ اس دن آپریشن ہوسکتا تھا، مگر میرے دوست کو کسی نے بتادیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے منگل کو خون بہانے سے منع کیا ہے؛ چنانچہ وہ رک گئے۔ اس طرح ان کے آپریشن میں ، جسے جلد از جلد ہونا تھا، کئی روز کی تاخیر ہوگئی۔
بہ راہ کرم مطلع فرمایئے، کیا اس طرح کی کوئی حدیث ہے؟ اگر ہے تو کس پائے کی ہے؟

ٹیسٹ ٹیوب تکنیک کے ذریعے استقرار ِحمل

ایک صاحب کی شادی کو تین سال ہوچکے ہیں ، لیکن اب تک وہ بچے سے محروم ہیں ۔ میاں بیوی دونوں نے اپنا ٹیسٹ کروایا ہے، دونوں میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ پھر بھی استقرار ِ حمل نہیں ہوسکا ہے۔ اب کسی نے انھیں مشورہ دیا ہے کہ وہ بچہ حاصل کرنے کے لیے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی تکنیک اختیار کریں ۔ بہ راہ کرم آگاہ فرمائیں ۔ کیا ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی تکنیک اختیار کرنا شرعی اعتبار سے جائز ہے؟

حِجامۃ کے ذریعے علاج

ہمارے یہاں ایک مسلم ڈاکٹر ایم بی بی ایس ہیں ۔ وہ حِجامۃ کے طریقۂ علاج کو اندھی تقلید کہتے ہیں ،جب کہ اس علاج کے تعلق سے طب نبویؐ میں کافی احادیث مذکور ہیں ۔ آج کے دور میں ہر بیماری کے لیے کئی طریقہ ہائے علاج موجود ہیں ۔ اس کے باوجود حِجامۃ کے ذریعے علاج کرانا کیا جائزہے؟

تحدیدنسل کی حرمت پر بعض اشکالات

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے قتل اولاد سے منع فرمایا ہے ۔(الانعام: ۱۵۱) اس آیت سے یہ بات تو واضـح ہے کہ زندہ اولاد کا قتل حرام ہے ، جیسے عرب عہد جاہلیت میں لڑکیوں کوزندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ آج اسقاطِ حمل کے طریقے کو بھی اس آیت کے زمرے میں لایا جاسکتا ہے ، لیکن جب آگے بڑھ کر یہ کہا جاتا ہے کہ ایک عورت کا آپریشن کراکے توالد وتناسل بند کردینا بھی حرام ہے تویہ بات سمجھ سے بالا تر ہوجاتی ہے ۔ اس لیے کہ اس آیت میں اس فعل کے حرام ہونے کی گنجائش کہاں سے نکلتی ہے ۔
عزل کی متبادل صورتیں ، جوآج کل رائج ہیں اور جن سے دو بچوں کے درمیان فاصلہ رکھا جاتا ہے ، اہلِ علم ان میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے اوراسے مطلقاً جائز مانتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص ان صورتوں کواختیار کرکے اس فاصلہ کوکتنی ہی مدت تک دراز کرسکتا ہے ، حتیٰ کہ اپنی بیوی کی موت تک، توپھر اس کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپریشن کرواکے عورت کو ما ں بننے کے قابل ہی نہ رہنے دیا جائے۔ قتل اولاد کی ممانعت کا اطلاق حاملہ عورت کے جنین پر توہوسکتا ہے ، لیکن اس نطفے پر کیسے ہوسکتا ہے جس سے ابھی حمل کا استقرار ہی نہیں ہوا ہے ۔ وجود کے بغیر قتل اولاد کا اطلاق کیسے ممکن ہے؟
دوسری دلیل اس سلسلے میں یہ بیان کی جاتی ہے کہ قرآ ن نے اللہ تعالیٰ کی ساخت میں تبدیلی کرنے کوشیطان کا فعل قرار دیا ہے ۔ (النساء: ۱۱۹) مولانا مودودیؒ نے اس آیت کی تشریح میں اس فعل کوحرام قرار دیا ہے ۔ (تفہیم القرآن ، جلد اول ، سورہ نساء ، حاشیہ : ۱۴۸)اس سے اگر انسان کے کسی عضو کی تبدیلی یا معطلی کومراد لیا جائے توپھر اس زمرے میں توبہت سے کام آجائیں گے ، مثلاً مصنوعی آنکھ لگوانا ، ایک شخص کا گردہ یا آنکھ دوسرے شخص کودینا، ہاتھ یا پیر کاٹنا وغیرہ ، لیکن ان کی حرمت کا کوئی بھی قابلِ ذکر فقیہ قائل نہیں ہے۔ جب انہیں گوارا کرلیا گیا(بہ ضرور ت ہی سہی )توپیدائشِ اولاد کو مستقل روکنا بھی ایک معاشرتی ضرورت ہے۔ اسے کیوں نہیں گوارا کیا جاسکتا۔
میں کثرتِ اولاد کا مخالف نہیں ہوں ، لیکن مسلم معاشرہ میں کثرتِ اولاد سے بہت زیادہ پیچیدگیا ں پیدا ہورہی ہیں ۔جہالت کی وجہ سے انتہائی غریب مسلمان ہرسال بچہ پیدا کرکے عورتوں کوتختۂ مشق بنائے ہوئے ہیں ،جس کا اثر نہ صرف ان کی صحت پر ، بلکہ بچوں کی صحت پر بھی پڑتا ہے ، معاشی مسائل جو پیدا ہوتے ہیں ،و ہ الگ ہیں ۔ اس مسئلہ کوصرف یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ اللہ رازق ہے ۔ توکل علی اللہ کی یہ عجیب وغریب مثال دیکھنے میں آتی ہے کہ آمدنی کوبڑھانے کے لیے توکوئی جدوجہد نہیں کی جاتی، بس اتنا کہہ کر خود کومتوکل باور کرلیاجاتا ہے ۔ اولاد کی تعلیم وتربیت سے مجرمانہ غفلت اس پر مستزاد ہے ۔ پھر جیسے ہی ان کی عمر دس بارہ برس کی ہوجاتی ہےانہیں محنت مزدوری کے لیے بھیج دیتے ہیں ۔ یہ صورتِ حال ہوسکتا ہے ، دہلی یا دوسرے بڑے شہروں میں نہ ہو ، لیکن دیہاتوں اورچھوٹے شہروں کی پس ماندہ بستیوں میں عام ہے ۔ تعلیم یافتہ طبقہ یا تو مانع حمل ذرائع استعمال کرکے توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے ، یا پھر حرمت سے واقفیت کے علی الرغم عورتوں کا آپریشن کرواکے اولاد کا سلسلہ بند کردیتا ہے ۔
موجودہ دور کا یہ ایک اہم معاشرتی مسئلہ ہے ۔ آں جناب سے امید ہے کہ جواب دینے کی زحمت گوارا فرمائیں گے۔

یک حدیث پڑھی ،جس میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زکام کا علاج کرنے سے منع فرمایا ہے اوراس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اس سے جذام کی بیماری دور ہوتی ہے۔ حدیث نقل کرنے والے نے آگے لکھا ہے کہ حکما حضرات بھی زکام کا فوری علاج بہتر نہیں سمجھتے ، بلکہ کچھ دنوں کے بعد علاج کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔
براہِ کرم بتائیں ، کیا یہ حدیث صحیح ہے؟اور ا س کے مطابق زکام کا فوراً علاج نہیں کرنا چاہیے۔

طب ِ نبوی کی شرعی حیثیت

ٓج کل ’حجامہ‘ کا بہت چرچا کیا جارہا ہے۔اس کا تعارف ’ طب نبوی‘ کی حیثیت سے کرایا جاتا ہے اوراسے بہت سے امراض کا مسنون علاج کہا جاتا ہے ۔ بہ راہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض امراض کے سلسلے میں علاج کے جوطریقے ثابت ہیں ، ان کواختیار کرنےسے ثواب ملے گا ؟ اورکیا اسے مسنون عمل کا درجہ دیا جاسکتا ہے ؟

کیا اسلام تعدیہ (Infection)نہیں مانتا؟

ایک حدیث میں کہا گیا ہے:’’ لا عدوی‘‘ (انفیکشن نہیں ہوتا)۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام انفیکشن کو نہیں مانتا۔ آج کے دور میں انفیکشن ایک زندہ حقیقت ہے۔ بہت سی بیماریاں متعدی ہوتی ہیں ۔ایک سے دوسرے کو لگتی ہیں ۔پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟

کسی وبا کو عذاب قراردینے کا ہمیں حق نہیں

آج کل کورونا نامی مرض پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور لاکھوں افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں ۔بعض تحریریں اس پر نظر سے گزریں ، جن میں اس کو اللہ کا عذاب قرار دیا گیا ہے۔ یہ مرض مسلم ممالک میں بھی پھیلا ہوا ہے اوراس سے مسلمان بھی بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں ۔ پھر اسے عذاب ِ الٰہی کہناکیوں کر درست ہوگا؟

وبا کو دفع کرنے کے لیے اذان

کورونا وائرس کی تباہ کاری پوری دنیا میں جاری ہے اور اس میں برابر اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے ایک دن شام پانچ بجے تالی پیٹنے اور تھالی بجانے کا مشورہ دیا تو بہت سے لوگوں نے اس پر عمل کیا ۔بعض لوگوں نے اس کے بجائے اذان دینی شروع کردی۔ اب ایسے اعلانات سامنے آنے لگے ہیں کہ رات کو دس بجے سب لوگ مل کر اذان دیں ۔
براہ کرم واضح فرمائیں کہ کسی وبائی مرض کو دفع کرنے کے لیے اذان دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

دفع ِ وبا کے لیے اجتماعی نماز اور دعا

کیا آفات کے موقع پر اجتماعی دعا اور نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ اسی طرح کیا وبائی امراض کو دفع کرنے کے لیے بھی اجتماعی نماز اور دعا کا اہتمام کیا جاسکتا ہے؟ براہ کرم اس کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالیے ۔