رقمِ زکوٰۃ سے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائی

ہماری سوسائٹی کے تحت صوبے کے مختلف شہروں ، قصبات اور دیہاتوں میں تعلیمی ادارے چلتے ہیں ۔ اگرچہ طلبہ سے فیس لی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود بیش تر اداروں میں ماہانہ و سالانہ خسارہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تعمیر و مرمت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ اصحاب ِ خیر سے تعاون کی اپیل کی جاتی ہے تو جو رقمیں حاصل ہوتی ہیں وہ بالعموم زکوٰۃ کی ہوتی ہیں ۔ اگر اس رقم سے خسارہ پورا نہ کیا جائے اور اسے تعمیر و مرمت میں نہ لگایا جائے تو پھر کوئی اور صورت نہیں ہے، سوائے اس کے کہ یہ ادارے ختم یا بے اثر ہوجائیں ۔ یہ صورت حال اس کے باوجود ہے کہ نادار اور غریب طلبہ کی فیس وغیرہ زکوٰۃ کی مد سے ادا کی جاتی ہے۔
بعض حضرات اس پر اعتراض کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ زکوٰۃ کی رقم اساتذہ کی تنخواہوں اور تعمیرات و مرمت پر صرف نہیں کی جاسکتی۔ بہ راہ کرم اس سلسلے میں ہماری رہ نمائی فرمائیں کہ کیا کیا جائے؟

زکوٰۃ کے چند مسائل

میں ایک فیکٹری کا مالک ہوں ۔ اس میں بہت سے ملازمین کام کرتے ہیں ۔ میں ہر سال رمضان میں اپنی پورے سال کی آمدنی کا حساب کرکے زکوٰۃ نکالتا ہوں ۔ زکوٰۃ کی ادائی کے بارے میں میری چند الجھنیں ہیں ۔ بہ راہِ کرم شریعت کی روشنی میں انھیں دور فرمائیں :
(۱) فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین کے بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، شادی اور دیگر مواقع پر میں ضرورت محسوس کرتا ہوں کہ ان کی کچھ مالی مدد کی جائے۔ کیا انھیں زکوٰۃ کی مد سے کچھ رقم دی جاسکتی ہے؟ میرا خیال ہے کہ بعض ملازمین ایسے بھی ہیں کہ اگر انھیں رقم دیتے وقت بتا دیا جائے کہ یہ زکوٰۃ کا مال ہے تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار کردیں گے۔ کیا انھیں بغیر اس کی صراحت کے کچھ رقم دی جاسکتی ہے؟ کیا زکوٰۃ کی ادائی درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جسے دی جائے اسے صاف لفظوں میں یہ بھی بتایا جائے کہ یہ زکوٰۃ ہے؟
(۲) کیا جتنی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اسے فوراً یک مشت ادا کردینا ضروری ہے؟ یا اسے الگ رکھ کر اس میں سے تھوڑا تھوڑا بہ وقت ِ ضرورت خرچ کیا جاسکتا ہے؟ میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ زکوٰۃ کی رقم الگ کرکے رکھ لوں اور پورے سال اس میں سے تھوڑی تھوڑی رقم ضرورت مندوں کو دیتا رہوں ۔ لیکن مجھے شبہ ہے کہ جب تک زکوٰۃ کی رقم میری تحویل میں رہے گی میں اس کی عدم ادائی کا گناہ گار ہوں گا۔
(۳) بعض ملازمین قرض مانگتے ہیں ، مگر پھر اسے ادا نہیں کرتے۔ بارہا تقاضوں کے باوجود ان سے قرض کی رقم واپس نہیں مل پاتی۔ کیا رقم زکوٰۃ کو اس میں ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے، کہ میں ان ملازمین سے قرض مانگنا چھوڑدوں اور اس کے بہ قدر رقم واجب الادا زکوٰۃ میں سے روک لوں ؟

زکوٰۃ کے سلسلے میں چند سوالات ارسال ِ خدمت ہیں ، گزارش ہے کہ ان کے تشفی بخش جواب کی زحمت فرمائیں :
(۱) کیا زکوٰۃ اپنے غریب قریبی رشتے داروں (سگے بھائی، چچا وغیرہ) کو دی جاسکتی ہے؟
(۲) کیا اپنی کل زکوٰۃ کسی ایک شخص کو دی جاسکتی ہے؟
(۳) ایک شخص خود غریب ہے، لیکن اس کی بیوی کے پاس اتنے زیور ہیں کہ اس پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے۔ کیا ایسے شخص کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟
(۴) عورت سروس کرتی ہے، مال دار ہے، صاحب ِ نصاب ہے، لیکن اس کا شوہر غریب اور بے روزگار ہے۔ کیا عورت اپنی زکوٰۃ اپنے شوہر کو دے سکتی ہے؟

بہ راہ کرم زکوٰۃ کے سلسلے میں چند سوالات کے جوابات سے نوازیں :
(۱) اب عموماً سرکاری ملازمین کامشاہرہ ان کے اکاؤنٹ میں پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح ہر ماہ اکاؤنٹ میں رقم آتی رہتی ہے اور حسب ِ ضرورت خرچ ہوتی رہتی ہے۔ زکوٰۃ کا حساب کیسے کیا جائے گا اور زکوٰۃ کس رقم پر دیں گے؟
(۲) اکاؤنٹ میں انٹرسٹ کی رقم بھی شامل رہتی ہے۔ کیا زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت انٹرسٹ کی رقم کو منہا کرکے حساب کیا جائے گا؟ اگر کوئی شخص اکاؤنٹ کی کل رقم بہ شمول انٹرسٹ کے حساب سے زکوٰۃ نکال دے تو وہ گناہ گار ہوگا؟

زکوٰۃ کے درج ذیل مسائل کی براہ ِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمایئے:
(۱) زکوٰۃ کے لیے سونے اور چاندی کا الگ الگ نصاب متعین ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس اتنی مقدار میں سونا ہو کہ نصاب تک پہنچ جائے اور اتنی مقدار میں چاندی ہو کہ نصاب تک پہنچ جائے تبھی زکوٰۃ واجب ہوگی، اگر دونوں الگ الگ اپنے نصاب سے کم ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے، جب کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر دونوں کو ملا کر ان کی مالیت کسی ایک کے نصاب کے برابر پہنچ جائے تو زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ ان میں سے کون سی بات صحیح ہے؟
(۲) ماں نے اپنے بیٹے کی شادی کے موقع پر ہونے والی بہو کے لیے کچھ زیورات خریدے۔ شادی زیورات کی خریداری کے ڈیڑھ سال بعد ہوئی۔ ان زیورات کی زکوٰۃ کا حساب کریں گے تو وہ کس پر واجب ہوگی؟ ماں پر یا بیٹے پر؟
(۳) ماں نے ایک خلیجی ملک سے چند سونے کے سکے خریدے اور وطن پہنچ کر انھیں بیچ کر کچھ زیورات بنوا لیے۔ جب زکوٰۃ کا حساب کریں گے تو کیا سونے کے سکوں پر بھی زکوٰۃ دینی پڑے گی؟

سفر ِ حج کے لیے جمع کی گئی رقم پر زکوٰۃ

میں نے گزشتہ سال سفر ِ حج کے لیے پیسہ اکٹھا کیا تھا، مگر میرا نام نہیں آیا۔میں نے وہ پیسہ محفوظ کردیا تھا۔ اب اس پر ایک سال گزر گیا ہے۔ کیا مجھے اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟

زکوٰۃ کی مقدار

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ کم از کم ڈھائی فی صد (2.5%) ہے، چنانچہ اس سے زیادہ بھی نکال سکتے ہیں ، مثلاً پانچ فی صد یا دس فی صد۔ اب فرض کیجئے کہ پانچ فی صد کے حساب سے میری زکوٰۃ دو ہزار روپے بنتی ہے۔ یہ رقم میں کسی جماعت یا ادارہ کو دوں تو کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ پوری رقم زکوٰۃ کی ہے، یا یہ بتانا ہوگا کہ اس میں ایک ہزار روپے زکوٰۃ کے اور ایک ہزار روپے عطیہ ہیں ؟

تبلیغ ِ دین کے کام میں زکوٰۃ کا استعمال

برادران ِوطن میں دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ایک موبائل وین کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعہ دینی کتابیں شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچائی جائیں گی، دینی کتابیں اور فولڈر مفت تقسیم کیے جائیں گے اور کچھ کتابیں برائے نام قیمت پر فروخت بھی کی جائیں گی۔ ان سے جو رقم حاصل ہوگی وہ اسی کام میں صرف ہوگی، یعنی مزید کتابیں خرید کر اسی مقصد کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ اس ادارہ سے کوئی نفع کمانا مقصد نہیں ہے۔ اس کا واحد مقصد دعوت دین ہے۔ کیا اس کام میں زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے؟ بہ راہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں ۔

ریاستی مظالم کے شکار لوگوں کو چھڑانے کے لیے زکوٰۃ کا استعمال

ادھر کچھ عرصے سے مسلم نوجوانوں کی بڑی تعدادریاستی مظالم کا شکار ہے۔ انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے اور ان پر بہت سے مقدمات لاد دیے جاتے ہیں ۔ ان مقدمات کی پیروی کے لیے خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے، جسے فراہم کرپانا بسا اوقات ان مظلومین کے لیے ممکن نہیں ہوپاتا۔ کیا اس کام میں زکوٰۃ کی رقم صرف کی جاسکتی ہے؟

صدقہ کے طورپر جانور ذبح کرنا

میرے چچا بہت بیمار تھے۔ انھوں نے صدقہ کے طورپر بکراذبح کرنا چاہا ، لیکن لوگوں نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ جان کے بدلے جان نہیں لینا چاہیے۔ اگر آپ بیماری کی وجہ سے صدقہ کرنا چاہتے ہیں تو مال صدقہ کردیں ۔ بعض لوگوں  نے کہا کہ جان کے بدلے جان لینے کا تصور ہندومذہب میں  پایا جاتا ہے ، اسلام میں  یہ چیز جائز نہیں ہے۔ اس بنا پر یہ معاملہ الجھ گیا ہے اورہمارے خاندان کے لوگ کنفیوژن کاشکارہوگئے ہیں ۔
بہ راہ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمادیں ۔ کیا مذکورہ صورت میں صدقہ کے طورپر جانور ذبح کرنا شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے؟