بھائی کے مال ِ وراثت میں بہن کا حصہ

ہم دو بھائی بہن تھے۔میرے بھائی مجھ سے بڑے تھے۔والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کی پراپرٹی تقسیم ہوئی تو ہم دونوں کے درمیان وراثت تقسیم ہوئی۔ مجھے بھی حصہ ملا۔اب بھائی کا بھی انتقال ہوگیاہے۔ان کی بیوہ ہیں اور دولڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ براہ کرم واضح فرمائیں، کیا ان کی موجودگی میں … Read more

کیا وراثت میں بہو کا حصہ ہوتا ہے؟

میرے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس کے بعد بڑے بھائی کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ ہم تین بھائی، تین بہنیں تھیں۔ اب دو بھائی اور تین بہنیں حیات ہیں۔ بڑے بھائی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ صرف بیوہ زندہ ہیں۔ برائے کرم واضح فرمائیں کہ مرحوم بھائی کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ … Read more

بھائیوں کے درمیان زمین جائیداد کا بٹوارہ

 تقسیمِ میراث کے ایک مسئلے میں آپ سے مشورہ درکار ہے۔ براہِ کرم شرعی رہ نمائی فرمائیں۔ جناب کمال احمد کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی میں ہی تمام بچوں کی شادیاں کر دی تھیں۔ تینوں بیٹے ساتھ رہتے تھے۔ اسی دوران میں انھوں نے دادا سے ملی جائیداد کے … Read more

وصیت کا ایک مسئلہ

عبداللہ کے دو لڑکے (علی اور احمد) اور ایک لڑکی (حوا) تھی۔ عبد اللہ کی وراثت اس کی اولاد کے درمیان شرعی اعتبار سے تقسیم ہوگئی۔ علی کا ایک لڑکا (عبد الصمد) اور پانچ لڑکیاں تھیں۔ (ایک لڑکی کا نام حلیمہ تھا۔ ) احمد کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھی۔ عبد الصمد کے انتقال … Read more

واپس ملنے والا قرض بھی وارثوں میں تقسیم ہوگا

میرے والد محترم کا انتقال ہو چکا ہے۔ انتقال سے پہلے انھوں نے میری بہن کو کچھ رقم بہ طور قرض دی تھی، لیکن اس کا طریقہ یہ اختیار کیا تھا کہ ان کا نام ظاہر نہ ہونے پائے۔ انھوں نے یہ رقم میرے ہاتھ سے میری بہن کو دلوائی تھی۔ اب میری بہن وہ … Read more

زمین داری کے مکروہات

میں جماعت اسلامی کا لٹریچر پڑھ کر کافی متاثر ہوں ،ذہن کا سانچا بدل چکا ہے اور یہ سانچا موجودہ ماحول کے ساتھ کسی طرح سازگار نہیں ہورہا۔مثلاً ایک اہم اُلجھن کو لیجیے۔ہمار ا آبائی پیشہ زمین داری ہے اور والد صاحب نے مجھے اسی پر مامور کردیا ہے۔ زمین داری کا عدالت اور پولیس وغیرہ سے چولی دامن کا ساتھ ہوگیا ہے۔عدالت اور پولیس سے بے تعلقی کا اظہار زمین دار کی کامل معاشی موت ہے۔ حدیہ کہ عدالت اور پولیس کی پُشت پناہی سے بے نیا زہوتے ہی خود اپنے ملازمین اور مزارعین پر زمین دار کا کوئی اثر نہیں رہ جاتا۔خود پولیس جب یہ دیکھتی ہے کہ کوئی زمین دار اس کی ’’بالائی آمدنی‘‘ میں حائل ہورہا ہے تو وہ اسی کے مزارعین اور ملازمین کو اُکسا کر اس کے مقابلے پر لاتی ہے۔اسی طرح عدالتوں کا ہوّا جہاں کارندوں کے سامنے سے ہٹا، پھر ان کو ضمیر کی آواز کے سوا کوئی چیز فرائض پر متوجہ نہیں رکھ سکتی، اور حال یہ ہے کہ ان لوگوں کے لیے مادّی فائدے سے بڑھ کر کسی شے میں اپیل نہیں ہے۔مزید وضاحت کے لیے ایک مثال کافی ہوگی۔ ہمارے ہاں دستور تھا کہ کارندوں کے کام میں نقص رہے یا وہ کسی قسم کا نقصان کردیں تو ان سے تاوان وصول کیا جاتا تھا۔ہم نے یہ تاوان وصول کرنا بند کردیا،کیوں کہ پولیس کی مدد کے بغیر یہ سلسلہ چل نہیں سکتا۔رویے کی اس تبدیلی کے ساتھ معاً کاشت کاروں نے نقصان کرنا شروع کردیا اور کارندوں نے بھی جرمانے کی رقم میں سے جو حصہ ملنا تھا،اس سے مایوس ہوکر چشم پوشی اختیار کی۔ اب حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ میں زمین داری کو سرے سے ختم کرنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہورہا ہوں ۔آپ کی راے میں چارۂ کار کیا ہے؟

زمین داری کی حفاظت کے لیے مطالبۂ شریعت

میاں ممتاز دولتانہ اور دیگر وزرا کی حالیہ تقاریر سے متاثر ہوکر مالکان زمین اس بات پر آمادہ ہورہے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کو محفوظ کرانے کے لیے شریعت کے قانون کے نفاذ کا مطالبہ کریں اور دوسری کسی ایسی ویسی اسکیم کو تسلیم نہ کریں جو ان کے حقوق کو سلب کرنے والی ہو۔چنانچہ کیمبل پور میں ایسے ہی لوگوں نے مل کر’’طالبان قانون شریعت‘‘ کے نام سے ایک انجمن کی بنیاد ڈالی ہے جو کیمبل پور کے ضلع میں اس مطالبہ کو اُٹھائے گی اور دوسرے اضلاع میں بھی اس کو حرکت میں لانے کی کوشش کرے گی۔ اس انجمن نے اس غرض کے تحت ایک ہینڈ بل بعنوان’’انجمن طالبان قانون شریعت کا مطالبہ‘‘ اور ایک اور مراسلہ بنام ممبران پنجاب اسمبلی طبع کرایا ہے۔ موجودہ حالات میں ہمیں توقع ہے کہ یہ لوگ ہمارے نصب العین یعنی نفاذ قانون شریعت سے دل چسپی لیں ۔اس بارے میں آپ ہمیں ہدایت فرمائیں کہ آیا ہم ان کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں ؟

حکومت کا جاگیروں کو واپس لینے کااختیار

زرعی اصلاحات کے سلسلہ میں جاگیروں کی واپسی میں واجبی حدود سے زائد واپس لینے کی دلیل بیان فرمائیں ، جب کہ حضرت زبیر رضی اللّٰہ عنہ کو حضور ﷺ نے گھوڑے اور چابک کی جو لان گاہ تک کی زمین دی تھی۔

ملکیتوں کو نظامِ حکومت کے سپرد کرنا

ایک عالم نے یہ سوال کیا ہے کہ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہان کی نعمتوں سے ہر فر د بشر کو منتفع ہونا چاہیے۔ اب انتفاع عامہ کے لیے اگر ملکیتوں کو نظام حکومت کے سپرد کردیا جائے تو یہ قرآن کا منشامعلوم ہوتا ہے۔

زمین داری میں رضا کارانہ طور پر اصلاحات کا آغاز

میں ایک بڑ ی زمین داری کا مالک ہوں ۔میں نے تہیہ کرلیا ہے کہ اپنے مزارعین سے شریعت محمدیؐ کے مطابق معاملہ کروں ۔ اس مقصد کے لیے میں اپنے موجودہ طرز عمل کی تفصیلات تحریر کررہا ہوں ۔({ FR 1551 }) ان کے بارے میں واضح فرمایے کہ کیا کیا چیزیں غلط ہیں اور کیا کیا صحیح ہیں ؟
میں نے ہر مزارع کو دس بارہ ایکٹر زمین فی ہل دے رکھی ہے۔بیگار مدت سے رائج تھی، لیکن میں نے بند کردی ہے۔صرف وسائل آب پاشی کی درستی مزارعین کے ذمے ہے۔