حج بدل
کیا حج ِ بدل کوئی ایسا شخص کرسکتا ہے، جس نے خود پہلے حج نہ کیا ہو؟
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی (ولادت 1964ء) نے دارالعلوم ندوۃ العلماء سے عا لمیت و فضیلت اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بی یو ایم ایس اور ایم ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ وہ 1994ء سے 2011ء تک ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کے رکن رہے ہیں۔ سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ کے معاون مدیر ہیں۔ اسلامیات کے مختلف موضوعات پر ان کی تین درجن سے زائد تصانیف ہیں۔ وہ جماعت اسلامی ہند کی مجلس نمائندگان اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن اور شعبۂ اسلامی معاشرہ کے سکریٹری ہیں۔
کیا حج ِ بدل کوئی ایسا شخص کرسکتا ہے، جس نے خود پہلے حج نہ کیا ہو؟
قربانی کے بارے میں بسا اوقات طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں ، جن کی بنا پر ذہن الجھن کا شکار ہوجاتا ہے، بہ راہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہ نمائی فرمائیں :
۱- کیا کسی مرحوم شخص کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے؟ بعض حضرات اس پر اشکال وارد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی میت کے نام سے قربانی جائز نہیں ہے۔
۲- بعض حضرات اپنے علاوہ اپنے بیوی بچوں ، ماں باپ اور دیگر اعز ّہ کی طرف سے بھی قربانی کرتے ہیں ۔ اس کے لیے وہ کئی چھوٹے جانور ذبح کرتے ہیں یا بڑے جانوروں میں کئی حصے لیتے ہیں ۔ بیوی اگر صاحب نصاب ہو تو کیا اس کا الگ سے قربانی کروانا ضروری ہے؟
۳- بعض حضرات سے یہ بھی سننے کو ملا کہ جانور کا خصی کرانا اس میں عیب پیدا کرتا ہے۔ حدیث میں عیب دار جانور کی قربانی سے منع کیا گیا ہے۔ اس لیے خصی کیے گئے جانور کی قربانی جائز نہیں ۔
میرے گاؤں میں چند رسوم رائج ہیں جو میرے خیال میں درست نہیں ہیں ۔ بہ راہِ کرم قرآن و حدیث اور شریعت کی روشنی میں ان پر مدلل اور مفصل اظہار خیال فرما دیں :
۱- شادی کے موقع پر لڑکے والوں کی طرف سے شادی کی تاریخ سے ایک یا دو روز پہلے گاؤں والوں کو گھر گھر کھانا پہنچایا جاتا ہے۔
۲- شادی کے موقع پر لڑکے والے لڑکی والوں سے کھانے کے لیے خاص خاص چیزوں کی فرمائش، بل کہ حکم صادر کرتے ہیں ۔
اس طرح کے کھانے کے بارے میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ فقیروں کا کھانا ہے۔ بہ راہِ کرم واضح فرمائیں کہ ان رسوم کا شریعت کی روشنی میں کیا حکم ہے؟
ایک صاحب کی شادی تقریباً دس ماہ قبل ہوئی تھی۔ اس عرصے میں حمل کے آثار ظاہر نہیں ہوئے تو زوجین نے ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ ڈاکٹر نے مختلف طرح کے ٹیسٹ کرانے کے بعد بتایا کہ بچہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ عورت کی بچے دانی کا ٹیوب بند ہے۔ ہاں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا طریقہ اپنا کر استقرار حمل کروایا جاسکتا ہے۔
بہ راہِ کرم واضح فرمائیں ، کیا ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے استقرار حمل کروانا اور اس طریقے سے اولاد حاصل کرنا شرعی اعتبار سے جائز ہے؟
بعض لوگ نذر مانتے ہیں کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں اتنی رکعت شکرانہ نماز ادا کروں گا یا اتنی رقم خیرات کردوں گا؟ یہ تو اللہ تعالیٰ سے سودے بازی معلوم ہوتی ہے۔ کیا اس طرح نذر ماننی درست ہے؟ بہ راہِ کرم نذر کی شرعی حیثیت سے آگاہ فرمائیے۔
کچھ لوگ بہت زیادہ قسم کھاتے ہیں ۔ روضۂ رسول کی قسم، خانۂ کعبہ کی قسم، باپ کی قسم۔ انھیں اس کی اہمیت کا بالکل شعور نہیں ہوتا۔ بہ راہ کرم بتائیں ، کیا ان کے علاوہ دوسروں کی بھی قسم کھائی جاسکتی ہے؟ اگر قسم پوری نہ کی جائے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟
ہمارے معاشرے میں تعویذ گنڈے کا چلن عام ہے۔ اس پر اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی عقیدہ رکھتے ہیں ۔ اکثر ہندو پاک کے کرکٹ کھلاڑی گلے میں تعویذ باندھے نظر آتے ہیں ۔ بچوں کو نظر بد سے بچانے کے لیے تعویذ باندھتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہماری عورتوں کا بھی بہت پکاّ عقیدہ ہے۔ مہربانی فرما کر صحیح رہ نمائی فرمائیں کہ اس کی دین میں کیا حیثیت ہے؟
بعض واعظین اپنے خطاب میں یہ کہتے ہیں کہ’’ اگر بندے گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ ایک اور مخلوق پیدا فرماتا اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں معاف کرتا۔ بندہ جب ایک ہاتھ اللہ کی طرف بڑھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دو ہاتھ بندے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ بندہ پیدل چل کر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بندے کا ہاتھ بن جاتا ہے۔‘‘ اس بات پر یہ خیال گزرتا ہے کہ گناہ کی اتنی اہمیت نہیں ۔ آدمی اپنی جسارت سے کبائر اور صغائر کا مرتکب ہوسکتا ہے۔
مجھے وسوسے بہت آتے ہیں اور ایسے آتے ہیں کہ بسا اوقات خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کہیں یہ گناہِ کبیرہ یا شرک کے دائرے میں نہ آگیا ہو۔ میری ملازمت ایسی ہے کہ مجھے جنس مخالف سے اکثر و بیش تر ملتے رہنا پڑتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے نہ بچایا ہوتا تو یقینا میں زنا جیسے فعل کا مرتکب ہوجاتا۔ لیکن اللہ کا فضل ہے کہ لمحۂ آخر میں وہ مجھے ضرور اس دلدل سے بچا لیتا ہے، لیکن نگاہ کا اور کچھ فعل بد کا عمل سرزد ہوجاتا ہے۔ برائے مہربانی مجھے کوئی وظیفہ یا کوئی طریقہ ایسا بتائیے کہ میں ان دونوں افعال سے بچ جاؤں ۔
میں ایک انٹر کالج میں معلمی کے فرائض انجام دیتا ہوں ۔ ہم اساتذہ میں دینی معلومات کی کمی کے باعث بعض معاملات میں بحث و مباحثہ ہوجایا کرتا ہے۔ ایک موقعے پر ہمارے درمیان اس معاملے میں اختلاف ہوگیا کہ گھر سے نکلتے وقت داہنا پیر پہلے نکالنا چاہیے یا بایاں پیر؟ ایک مقامی عالمِ دین سے رجوع کیا گیا تو انھوں نے داہنا پیر پہلے نکالنے کی بات بتائی اور دلیل یہ دی کہ رسول اللہ ﷺ ہر کام دائیں طرف سے شروع کرتے تھے۔ ایک دوسرے عالمِ دین نے کسی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ مسجد اور گھر امن کی جگہ ہے، چناں چہ مسجد اور گھر سے نکلتے وقت پہلے بایاں پیر باہر نکالنا چاہیے۔ علماء کے متضاد جوابات سے ہمیں کنفیوژن ہوگیا ہے۔ بہ راہِ کرم اس سلسلے میں ہماری صحیح رہ نمائی فرمائیں ۔ رسول اللہﷺ کا طریقہ کیا تھا؟ ہم لوگوں کو کیا طریقہ اپنانا چاہیے؟