بعض مقاماتِ قرآنی کی تحقیق

قصۂ موسیٰ و فرعون سے تعلق رکھنے والی آیات کی، جو تشریح مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے بیان فرمائی ہے، اس سے میرے دل میں کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں ۔ گزارش ہے کہ تحقیق کرکے ان کے جوابات مرحمت فرمائیں ، تاکہ میرے اشکالات کا ازالہ ہوسکے۔ مناسب سمجھیں تو میرے سوالات اور اپنے جوابات کو شائع بھی فرمادیں ، تاکہ اس مباحثے سے عام لوگوں کو بھی فائدہ ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کی علمی جدو جہد کو قبول فرمائے اور دنیا و آخرت کی نعمتوں سے نوازے۔
(۱) مولانا مودودیؒ صحرائے سینا پر فرعون کے تسلط کے تعلق سے سورۂ اعراف میں بیان کرتے ہیں کہ ’’اس زمانے میں جزیرہ نمائے سینا کا مغربی اور شمالی حصہ مصر کی سلطنت میں شامل تھا۔ جنوب کے علاقے میں موجودہ شہر طور اور ابو زنیمہ کے درمیان تانبے اور فیروزے کی کانیں تھیں ، جن سے اہلِ مصر بہت فائدہ اٹھاتے تھے اور ان کانوں کی حفاظت کے لیے مصریوں نے چند مقامات پر چھاؤنیاں قائم کر رکھی تھیں ۔ انھی چھاؤنیوں میں سے ایک چھاؤنی مفقہ کے مقام پر تھی جہاں مصریوں کا ایک بہت بڑا بت خانہ تھا، جس کے آثار اب بھی جزیرہ نما کے جنوبی مغربی علاقے میں پائے جاتے ہیں ۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۲، ص۷۴، ح۹۸) جب کہ سورۂ قصص کی تفسیر میں مولانا تحریر فرماتے ہیں : ’’مصر کی حکومت پورے جزیرہ نمائے سینا پر نہ تھی، بلکہ صرف اس کے مغرب اور جنوبی علاقے تک محدود تھی۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۳، ص۶۲۶، ح۳۲)
سوال یہ ہے کہ فرعون کا تسلط صحرا کے شمال اور جنوب دونوں پر تھا، یا شمالی حصے کے علاوہ جنوب کے صرف مغربی حصہ پر تھا؟ اگر پورے جنوب پر فرعون کا قبضہ نہیں تھا تو جنوبی سینا کے شہر طور اور ابو زنیمہ کے درمیان کی کانوں سے فائدہ اٹھانے کا اختیار مصریوں کو کیسے حاصل ہوا؟ مولانا نے کسی بت خانہ کے آثار کی نشان دہی، جس جنوبی مغربی علاقے میں کی ہے، اس سے مراد کون سا علاقہ ہے؟
(۲) مولانا مودودیؒ نے سورۂ یوسف کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ’’حضرت یوسفؑ نے حضرت یعقوبؑ کو اپنے پورے خاندان کے ساتھ فلسطین سے مصر بلا لیا اور اس علاقے میں آباد کیا، جو دمیاط اور قاہرہ کے درمیان واقع ہے۔ بائبل میں اس علاقے کو جشن یا گوشن بتایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک یہ لوگ اسی علاقے میں آباد رہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۲، ص۳۸۲-۳۸۳) تفہیم القرآن ج۱، ص ۴۶۰ کے مقابل مولانا نے، جو نقشہ دیا ہے اس کے نیچے یہ وضاحت ہے کہ ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر جزیرہ نمائے سینا میں مارہ، ایلیم اور رفیدیم کے راستے کوہ سینا کی طرف آئے اور ایک سال سے کچھ زائد مدت تک اس مقام پر ٹھہرے رہے۔‘‘ نقشے میں بھی مولانا نے ان مقامات کی نشان دہی کی ہے۔ بائبل میں بھی یہی باتیں بتائی گئی ہیں ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کس دریا کو عبور کیا تھا (اور اس میں فرعون غرق ہوا تھا) اس تعلق سے مولانا سورۂ اعراف میں فرماتے ہیں : ’’جس مقام سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریا کو عبور کیا وہ غالباً موجودہ سوئز اور اسماعیلیہ کے درمیان کوئی مقام تھا۔ یہاں سے گزر کر یہ لوگ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے کی طرف ساحل کے کنارے کنارے روانہ ہوئے۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج۲، ص۷۴،ح۹۸)
جس دریا میں فرعون غرق ہوا تھا، بائبل میں اس کا نام بحر قلزم بتایا گیا ہے۔ موجودہ دور میں اس دریا کو، جو سویز کے علاقے میں بہتا ہے، بحر قلزم نہیں ، بلکہ خلیج سویز کہا جاتا ہے۔ بحر قلزم سویز اور اسماعیلیہ سے کافی دور ہے۔ تفہیم القرآن اور بائبل میں ، جن مقامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً مارہ، ایلیم اور رفیدیم وغیرہ وہ بحر قلزم سے بہت دور واقع ہیں ۔ بحر قلزم کی جانب سے کوہ سینا پہنچنے کے لیے ان مقامات کی طرف آنے کی ضرورت بھی نہیں ۔ جس دریا میں فرعون غرق ہوا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ اسے پار کر گئے تھے، اگر قدیم زمانے میں اس کو بحرِ قلزم ہی کہا جاتا تھا تو آئندہ نسل کی رہ نمائی کے لیے کم از کم قوسین میں خلیج سویز لکھنا چاہیے۔ یہ ہماری رائے ہے۔
(۳) حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت سے قبل ایک غیرارادی قتل کی سزا سے بچنے کے لیے مدین چلے گئے تھے۔ اس کے ضمن میں مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں : ’’اس زمانے میں مدین فرعون کی سلطنت سے باہر تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدین کا رخ اس لیے کیا تھا کہ وہ قریب ترین اور آزاد و آباد علاقہ تھا۔ (تفہیم القرآن، ج۳، ص ۶۲۶) آگے فرماتے ہیں : ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام بے سرو سامانی کے عالم میں یکایک مصر سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ مدین تک کم از کم ۸؍دن میں پہنچے ہوں گے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۳، ص ۶۲۹)
چوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سفر مدین میں دریا کا ذکر نہیں ہے، اس وجہ سے ہمارا خیال ہے کہ انھوں نے اس برّی راستے ہی سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہوگا، جو فلسطین کو مصر (اسماعیلیہ) کے آس پاس سے ملاتا ہے اور جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بعد حضرت یعقوبؑ اور ان کی اولاد نے مصر میں داخل ہونے کے لیے اختیار کیا تھا۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے نکل کر سینا کے مشرقی حصے تک پہنچے ہوں گے اور پھر وہاں سے سیدھے سینا کے جنوب کی راہ اختیار کرکے خلیج عقبہ کے اطراف آباد اصحاب مدین میں جاکر شامل ہوگئے۔
ارض ِ مدین اور کوہِ سینا دونوں متصل علاقے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے، جو راستہ اختیار کیا، جس کے درمیانی مقامات مارہ، ایلیم اور رفیدیم تھے، وہی کوہِ سینا تک پہنچنے کا قریب ترین راستہ ہے۔ شمالی سینا کا برّی راستہ طے کرکے جنوبی سینا کی طرف سے ارض مدین پہنچنا کافی طویل معلوم ہوتا ہے۔ اس طویل مسافت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام آٹھ دنوں میں کیسے طے کرسکتے ہیں ؟ جب کہ بنی اسرائیل کو بیابانِ سینا (کوہِ طور) تک پہنچنے میں ، جو اس سے کم فاصلہ ہے، بائبل کے بیان کے مطابق تین ماہ لگے۔ (کتاب خروج، باب ۱۹:۱-۲)
ممکن ہے بنی اسرائیل نے عورتوں اور بچوں کی وجہ سے درمیان میں قیام زیادہ کیا ہو اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قیام کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا ہو۔ پھر بھی اس قدر طویل مسافت کو محض آٹھ دنوں میں طے کرنے کی بات تحقیق و وضاحت طلب ہے۔

شوہر کے ساتھ حج

اگر مجھے حج پر جانا ہو تو کیا ضروری ہے کہ اس کے لیے پیسوں کا انتظام میں خود کروں ، بہ الفاظ دیگر کیا اپنے پیسوں ہی سے میں حج کرسکتی ہوں ؟ واضح کردوں کہ میرے گھر میں ایسا معاملہ نہیں ہے کہ میرے پیسے یا میری پراپرٹی الگ ہو۔ جو کچھ شوہر کا ہے وہی میرا بھی مانا جاتا ہے۔ اگر شوہر انتظام کرکے مجھے حج پر لے جائیں تو کیا میں یہ حج کرسکتی ہوں ؟

کیا آبِ زم زم کھڑے ہوکر پینا مسنون ہے؟

گزشتہ دنوں سفرِ حج سے واپس آنے والے بعض حضرات کی طرف سے کھجور اور آبِ زم زم کا تحفہ ملا۔ ایک موقعے پر میں نے آبِ زم زم بیٹھ کر پیا تو ایک صاحب نے ٹوک دیا کہ زم زم کھڑے ہوکر پینا مسنون ہے۔ میں نے اس سلسلے میں تحقیق کی تو بعض کتابوں میں یہ لکھا ہوا پایا کہ زم زم قبلہ رخ کھڑے ہوکر پینا چاہیے۔ لیکن ان میں کوئی شرعی دلیل نہیں دی گئی تھی۔ اس لیے اطمینان نہ ہوسکا۔ بہ راہ کرم اس سلسلے میں تحقیقی جواب مرحمت فرمائیں کہ کیا آبِ زم زم کھڑے ہوکر پینا مسنون ہے؟

شادی کی رسمیں

درج ذیل مسئلہ میں آپ سے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب کی خواہش ہے۔
نکاح ایک مسنون عمل ہے۔ اس میں ہمارے سماج میں ان چیزوں پر عمل کیا جاتا ہے:
(۱) لڑکی کی شادی میں بہت زیادہ کھانا بنوانا اور دعوت کے وقت پلنگ تخت لے کر بیٹھ جانا، تاکہ دعوت میں آنے والے اپنا نام لکھوا کر روپے یا جہیز میں دیا جانے والا سامان لکھوائیں ۔ بنا لکھوائے شاید ہی کوئی دعوت میں شرکت کرتا ہو۔ لڑکی کے نکاح میں اس طرح کا رواج غیراسلامی نظر آتا ہے۔ مگر ارکان جماعت اسلامی بھی سماج کے طور طریقے کے مطابق ہی شادی کرتے ہیں ۔ اسلام پسند نوجوانوں کو اعتراض ہے۔ ان کا اعتراض درست ہے؟ یا ارکان جماعت کا سماجی رسوم کو پورا کرنا صحیح ہے؟ جہیز دینا اور لینا کیسا ہے؟
(۲) لڑکے کی شادی میں بارات کا رواج ہے اور ارکان جماعت بھی اپنے بچوں کی شادی میں بارات لے جانے کا طریقہ اپناتے ہیں ۔ البتہ گانے بجانے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ بارات کی دعوت اور بارات لے کر لڑکی کے گھر جانا، کھانا کھانا کیسا ہے؟
(۳) ولیمہ اور عقیقہ کی دعوت میں عام طور پر مردوں کو دعوت کم دی جاتی ہے اور عورتوں کو زیادہ مدعو کیا جاتاہے، تاکہ سامان موقعے کی مناسبت سے خوب آئے۔
بہ راہ کرم مذکورہ بالا رسوم کے سلسلے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح رہ نمائی فرمائیں ۔

دلہن کے لیے پالکی کا استعمال

یہاں شادی بیاہ کے مواقع پر دلہن کو پالکی میں بٹھا کر محرم و نامحرم ہرکس و ناکس اٹھا کر دولہا کے گھر تک لے جاتے ہیں ۔ یا پہاڑی راستے کو عبور کرکے روڈ پوائنٹ تک لے جاتے ہیں ۔ ایسا کرنے میں کوئی شرعی ممانعت تو نہیں ہے؟ آں حضور ﷺ کے زمانے میں اس قسم کی کوئی مثال ملتی ہے یا نہیں ؟ پہاڑی علاقوں میں بسا اوقات سخت نشیب یا چڑھائی پر دلہن کو لے جانا پڑتا ہے۔ اس سے اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دلہن کو اپنے ماں باپ، بھائی بہن سے ایک قسم کی ہمیشہ کی جدائی کی فکر ہوتی ہے، مزید برآں سخت سفر کی دقت برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اس پریشانی سے بچنے کے لیے پالکی کا استعمال اس کے لیے ایک بھروسہ و تسلی کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ برائے مہربانی تفصیل سے جواب دیجیے کہ کیا ایسے حالات میں پالکی کا استعمال جائز ہوگا؟

بدلے کی شادی

ہمارے ملک کے بعض حصوں میں بدلے کی شادیوں کا رواج ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا مودودیؒ نے رسائل و مسائل جلد دوم میں لکھا ہے کہ ’’عام طور پر ادلے بدلے کے نکاح کا، جو طریقہ ہمارے ملک میں رائج ہے وہ دراصل اسی شغار کی تعریف میں آتا ہے، جس سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔‘‘ مولانا مودودیؒ نے شغار کی تین صورتیں بتائی ہیں : ایک یہ کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اس شرط پر اپنا لڑکا دے کہ وہ اس کے بدلے میں اپنی لڑکی دے گا اور ان میں سے ہر ایک لڑکی دوسری لڑکی کا مہر قرار پائے۔
دوسرے یہ کہ شرط تو وہی ادلے بدلے کی ہو، مگر دونوں کے برابر برابر مہر (مثلاً ۵۰، ۵۰ہزار روپیہ) مقرر کیے جائیں اور محض فرضی طور پر فریقین میں ان مساوی رقموں کا تبادلہ کیا جائے، دونوں لڑکیوں کو عملاً ایک پیسہ بھی نہ ملے۔
تیسرے یہ کہ ادلے بدلے کا معاملہ فریقین میں صرف زبانی طور پر ہی طے نہ ہو، بلکہ ایک لڑکی کے نکاح میں دوسری لڑکی کا نکاح شرط کے طور پر شامل ہو۔
آگے مولانا مودودیؒ نے لکھا ہے کہ ’’پہلی صورت کے ناجائز ہونے پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔ البتہ باقی دو صورتوں کے معاملے میں اختلاف واقع ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے فقہاء کے اختلاف کی تفصیل نہیں دی ہے۔ البتہ خود ان کے نزدیک تینوں صورتیں خلاف شریعت ہیں ۔ بہ راہِ کرم موخر الذکر دونوں صورتوں میں اختلافِ فقہاء کی کچھ تفصیل فراہم کردیں ۔

عورت کا حق ِ مہر

ایک پیچیدہ مسئلہ درپیش ہے۔ بہ راہِ کرم شریعت کی روشنی میں جواب سے نوازیں ۔ ہمارے یہاں ۱۹۸۴ میں ایک نکاح ہوا تھا۔ اس وقت لڑکے کے والد کی اجازت سے سڑک کی ایک کنال زمین (ایک بیگھے کا چوتھائی حصہ) اور ایک عدد اخروٹ کا درخت لڑکی کا مہر مقرر ہوا تھا۔ آج تقریباً بائیس سال کا عرصہ گزرجانے کے بعد کسی گھریلو جھگڑے کی وجہ سے لڑکی کا حصہ ہڑپ کیا جارہا ہے۔ لڑکے کا باپ کہتا ہے کہ میرا لڑکا اپنے طور سے اپنی بیوی کا مہر ادا کرے اور میری زمین اور اخروٹ کا درخت مجھے واپس کردے۔ ہاں ، میرے مرنے کے بعد میری وراثت میں سے اس کے حصہ میں جو جائیداد آئے اس میں سے وہ ایک کنال زمین اور اخروٹ کا درخت اپنی بیوی کو دے سکتا ہے۔ اس لڑکے کا ایک چھوٹا بھائی ہے وہ یہ اعتراض کرتا ہے کہ میرے بڑے بھائی کی طرف سے، جو مہر اس کی بیوی کو دیا گیا ہے وہ میری بیوی کے مہر کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ کیوں کہ آج کل ایک کنال زمین کی قیمت چار لاکھ روپیے سے بھی تجاوز کرچکی ہے اور اس پر مستزاد کئی ہزار کی قیمت کا اخروٹ کا درخت بھی ہے۔ اس لیے یہ بڑی ناانصافی ہوگی کہ میرے بڑے بھائی کی بیوی کو زیادہ مہر مل جائے اور میری بیوی کو کم مہر ملے۔

بیوی کا حق ِ سُکنیٰ

کیا بیوی اپنے شوہر سے، اس کے گھر والوں سے الگ، گھر لینے کا مطالبہ کرسکتی ہے؟ کیا شرعاً ایسا کرنا صحیح ہے؟

بیوی کی کمائی میں شوہر کا حق

کچھ لوگ عورتوں کی ملازمت کے بارے میں اعتراض کرتے ہیں کہ جو رقم تنخواہ کے طور پر عورت حاصل کرتی ہے وہ مرد پر حرام ہے۔ بہ راہ کرم اس بارے میں وضاحت فرمائیں ؟

نکاح میں دھوکہ

ایک اہم مسئلہ درپیش ہے۔ گزارش ہے کہ اس سلسلے میں صحیح رہ نمائی فرمائیں ۔ ایک صاحب کی شادی کو تین ماہ سے کچھ زائد ہوئے ہیں ۔ شادی کے بعد لڑکی ایک دن سسرال میں گزار کر میکے چلی گئی۔ وہاں سے ٹھیک پندرہ دن بعد جب وہ دوبارہ سسرال آئی تو اس کے طرزِ عمل سے معلوم ہوا کہ اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ نفسیاتی مریضہ ہے۔ اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟
(الف) کیا یہ رشتہ باقی رہنے دیا جائے؟ جب کہ لڑکی کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے اور لڑکا نارمل ہے۔
(ب) اگر طلاق کی نوبت آجائے تو کیا لڑکی کو صرف مہر کے ساتھ رخصت کیا جائے؟ یا مہر کے ساتھ دوسری چیزیں (جیسے جائیداد، مکان وغیرہ) بھی واپس کردی جائیں ؟
(ج) لڑکی والوں کی طرف سے دھوکہ دیا گیا ہے۔ یعنی انھوں نے اس بات کو قطعی صیغۂ راز میں رکھا کہ لڑکی ابنارمل (Abnormal)ہے۔ ایسی صورت میں کیا پنچایت کے ذریعے ان پر تاوان (Penalty) عائد کیا جاسکتا ہے؟
آپ سے استدعا ہے کہ مذکورہ سوالات کے جوابات کتاب و سنت کی روشنی میں عنایت فرمائیں ۔