چہرہ اور آواز کا پردہ: معتدل نقطۂ نظر
’تحریکی خواتین کا دائرۂ عمل‘ کے زیر عنوان ایک مراسلہ نگار خاتون کی ذہنی الجھنوں اور عملی دشواریوں کا جو جواب محترم ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب نے عنایت فرمایا ہے، اس میں بعض امور قابل غور ہیں ۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ’’بعض فقہاء عورت کی آواز کے پردے کے قابل ہیں ، لیکن بعض فقہاء کا خیال ہے کہ عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے۔‘‘ تائید میں انھوں نے سورۂ الاحزاب کی آیات: ۳۲- ۳۳، پیش کی ہیں ۔ اس سے موصوف نے یہ روشنی اخذ کی ہے کہ ’’اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ عورتیں اجنبی مردوں سے بات ہی نہ کریں ، بل کہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ وقت ِ ضرورت بات کرتے وقت وہ اپنی آواز میں لوچ اور نرمی پیدا نہ کریں ‘‘ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ ’روشنی‘ صحابۂ کرام کو بھی نظر آئی تھی؟ تابعین اور تبع تابعین نے بھی یہ روشنی اخذ کی تھی؟ اور ان حضرات کا اور ان کی خواتین کا عمل اسی روشنی میں تھا؟
مولانا مودودی آیت مذکور میں ’قَرْنَ‘کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’آیت کا منشا یہی ہے کہ عورت کا اصل دائرئہ کار اس کا گھر ہے۔ اس کو اس دائرے میں رہ کر اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں اور گھر سے باہر صرف بہ وقت ضرورت ہی نکلنا چاہیے۔‘‘
محترم ندوی صاحب نے ایک عالم دین کی حیثیت سے بتایا ہے کہ ’’اجنبی مردوں کے سامنے عورت کے چہرے کھولنے نہ کھولنے کا مسئلہ اختلافی ہے۔ اس سلسلے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ یہ اختلاف عہد صحابہ سے موجود ہے۔ دونوں گروہوں کے پاس مضبوط دلائل ہیں ۔ مناسب ہے کہ عورت کو آزادی دی جائے کہ وہ اپنے لیے جو موقف بہتر سمجھتی ہو اختیار کرلے۔‘‘
جماعت اسلامی کے بنیادی لٹریچر میں غالباً کوئی کتاب ایسی نہیں ہے، جس میں چہرے کے بے پردہ ہونے کے دلائل دیے گئے ہوں اور یہ ترغیب دی گئی ہو کہ جماعت سے منسلک خواتین خود انتخاب کرلیں کہ چہرہ کھول کر باہر نکلنے کا موقف انھیں پسند ہے یا چہرہ ڈھانپ کر۔ خود ندوی صاحب بھی فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ دونوں میں سے کس کو ترجیح دیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک دونوں قرآن و سنت کے مزاج کے عین مطابق ہیں ۔
میں اپنی تمام تحریکی بہنوں اور بیٹیوں سے گزارش کروں گا کہ وہ اس موضوع پر کم سے کم مولانا مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی کے مباحث پڑھ لیں ، جو سورۂ نور اور سورۂ احزاب میں ان بزرگوں نے تفہیم القرآن اور تدبر قرآن میں تفصیل سے فرمائے ہیں ۔ مولانا مودودیؒ کے بارے میں ندوی صاحب فرماتے ہیں : ’’مولانا مودودیؒ عورت کے لیے اجنبی مردوں سے چہرہ چھپانے کے قائل ہیں ۔‘‘ میں عرض کروں گا کہ صرف قائل نہیں ، بل کہ مدلل بحث کرکے فرماتے ہیں : ’عہد صحابہ و تابعین کے بعد جتنے بڑے بڑے مفسرین تاریخ اسلام میں گزرے ہیں انھوں نے بالاتفاق اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔‘‘ مولانا نے تفصیل سے ان کی آراء نقل کی ہیں ۔ اور یہ عبارت تو انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے کہ ’’کسی شخص کی ذاتی رائے خواہ قرآن کے موافق ہو یا اس کے خلاف اور وہ قرآن کی ہدایت کو اپنے لیے ضابطۂ عمل کی حیثیت سے قبول کرنا چاہے یا نہ چاہے، بہ ہر حال اگر وہ تعبیر کی بد دیانتی کا ارتکاب نہ کرنا چاہتا ہو تو وہ قرآن کا منشا سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتا۔ وہ اگر منافق نہیں ہے تو صاف صاف یہ مانے گا کہ قرآن کا منشا وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جو خلاف ورزی بھی وہ کرے گا یہ تسلیم کرکے کرے گا کہ وہ قرآن کے خلاف عمل کر رہا ہے یا قرآن کی ہدایت کو غلط سمجھتا ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن، جلد چہارم، ص ۱۳۲)
محترم ندوی صاحب آج جس معاشرے میں رہتے ہیں اس سے بہ خوبی واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے سماج میں ’روشن خیالی‘ اور ’جدیدیت‘ کی جو لہر چل رہی ہے وہ ہماری خواتین اور خود ارکان و کارکنان کے لیے کتنی بڑی آزمائش ہے؟! ہر سطح کے اجتماعات میں اظہار خیال، درس، تقریر وغیرہ کے لیے خواتین کو استعمال کیا جا رہا ہے، ’غضِ بصر‘ کا کیا حشر ہورہا ہے؟!!
تحریکی رفقاء آواز اور چہرے کے پردے پر تو تفہیم القرآن، تدبر قرآن اور دیگر متعدد کتب کا مطالعہ کرتے ہیں اور دلائل سے بھی واقف ہیں ۔ البتہ کوئی کتاب غالباً اس موضوع پر اردو میں دستیاب نہیں ہے، جس میں خواتین کی آواز اور چہرے کی بے پردگی پر قرآن و سنت سے دلائل دیے گئے ہوں اور دور نبوی اور اس کے بعد کے ادوار میں اس کے رواج پانے کے ثبوت پیش کیے گئے ہوں ۔ میری ندوی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ خود بھی اس پر لکھیں اور ایسی تصانیف کی نشان دہی بھی فرمائیں ، تاکہ ہم سب کو درست رائے قائم کرنے میں سہولت ہو۔