چہرہ اور آواز کا پردہ: معتدل نقطۂ نظر

’تحریکی خواتین کا دائرۂ عمل‘ کے زیر عنوان ایک مراسلہ نگار خاتون کی ذہنی الجھنوں اور عملی دشواریوں کا جو جواب محترم ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب نے عنایت فرمایا ہے، اس میں بعض امور قابل غور ہیں ۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ’’بعض فقہاء عورت کی آواز کے پردے کے قابل ہیں ، لیکن بعض فقہاء کا خیال ہے کہ عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے۔‘‘ تائید میں انھوں نے سورۂ الاحزاب کی آیات: ۳۲- ۳۳، پیش کی ہیں ۔ اس سے موصوف نے یہ روشنی اخذ کی ہے کہ ’’اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ عورتیں اجنبی مردوں سے بات ہی نہ کریں ، بل کہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ وقت ِ ضرورت بات کرتے وقت وہ اپنی آواز میں لوچ اور نرمی پیدا نہ کریں ‘‘ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ ’روشنی‘ صحابۂ کرام کو بھی نظر آئی تھی؟ تابعین اور تبع تابعین نے بھی یہ روشنی اخذ کی تھی؟ اور ان حضرات کا اور ان کی خواتین کا عمل اسی روشنی میں تھا؟
مولانا مودودی آیت مذکور میں ’قَرْنَ‘کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’آیت کا منشا یہی ہے کہ عورت کا اصل دائرئہ کار اس کا گھر ہے۔ اس کو اس دائرے میں رہ کر اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں اور گھر سے باہر صرف بہ وقت ضرورت ہی نکلنا چاہیے۔‘‘
محترم ندوی صاحب نے ایک عالم دین کی حیثیت سے بتایا ہے کہ ’’اجنبی مردوں کے سامنے عورت کے چہرے کھولنے نہ کھولنے کا مسئلہ اختلافی ہے۔ اس سلسلے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ یہ اختلاف عہد صحابہ سے موجود ہے۔ دونوں گروہوں کے پاس مضبوط دلائل ہیں ۔ مناسب ہے کہ عورت کو آزادی دی جائے کہ وہ اپنے لیے جو موقف بہتر سمجھتی ہو اختیار کرلے۔‘‘
جماعت اسلامی کے بنیادی لٹریچر میں غالباً کوئی کتاب ایسی نہیں ہے، جس میں چہرے کے بے پردہ ہونے کے دلائل دیے گئے ہوں اور یہ ترغیب دی گئی ہو کہ جماعت سے منسلک خواتین خود انتخاب کرلیں کہ چہرہ کھول کر باہر نکلنے کا موقف انھیں پسند ہے یا چہرہ ڈھانپ کر۔ خود ندوی صاحب بھی فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ دونوں میں سے کس کو ترجیح دیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک دونوں قرآن و سنت کے مزاج کے عین مطابق ہیں ۔
میں اپنی تمام تحریکی بہنوں اور بیٹیوں سے گزارش کروں گا کہ وہ اس موضوع پر کم سے کم مولانا مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی کے مباحث پڑھ لیں ، جو سورۂ نور اور سورۂ احزاب میں ان بزرگوں نے تفہیم القرآن اور تدبر قرآن میں تفصیل سے فرمائے ہیں ۔ مولانا مودودیؒ کے بارے میں ندوی صاحب فرماتے ہیں : ’’مولانا مودودیؒ عورت کے لیے اجنبی مردوں سے چہرہ چھپانے کے قائل ہیں ۔‘‘ میں عرض کروں گا کہ صرف قائل نہیں ، بل کہ مدلل بحث کرکے فرماتے ہیں : ’عہد صحابہ و تابعین کے بعد جتنے بڑے بڑے مفسرین تاریخ اسلام میں گزرے ہیں انھوں نے بالاتفاق اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔‘‘ مولانا نے تفصیل سے ان کی آراء نقل کی ہیں ۔ اور یہ عبارت تو انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے کہ ’’کسی شخص کی ذاتی رائے خواہ قرآن کے موافق ہو یا اس کے خلاف اور وہ قرآن کی ہدایت کو اپنے لیے ضابطۂ عمل کی حیثیت سے قبول کرنا چاہے یا نہ چاہے، بہ ہر حال اگر وہ تعبیر کی بد دیانتی کا ارتکاب نہ کرنا چاہتا ہو تو وہ قرآن کا منشا سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتا۔ وہ اگر منافق نہیں ہے تو صاف صاف یہ مانے گا کہ قرآن کا منشا وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جو خلاف ورزی بھی وہ کرے گا یہ تسلیم کرکے کرے گا کہ وہ قرآن کے خلاف عمل کر رہا ہے یا قرآن کی ہدایت کو غلط سمجھتا ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن، جلد چہارم، ص ۱۳۲)
محترم ندوی صاحب آج جس معاشرے میں رہتے ہیں اس سے بہ خوبی واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے سماج میں ’روشن خیالی‘ اور ’جدیدیت‘ کی جو لہر چل رہی ہے وہ ہماری خواتین اور خود ارکان و کارکنان کے لیے کتنی بڑی آزمائش ہے؟! ہر سطح کے اجتماعات میں اظہار خیال، درس، تقریر وغیرہ کے لیے خواتین کو استعمال کیا جا رہا ہے، ’غضِ بصر‘ کا کیا حشر ہورہا ہے؟!!
تحریکی رفقاء آواز اور چہرے کے پردے پر تو تفہیم القرآن، تدبر قرآن اور دیگر متعدد کتب کا مطالعہ کرتے ہیں اور دلائل سے بھی واقف ہیں ۔ البتہ کوئی کتاب غالباً اس موضوع پر اردو میں دستیاب نہیں ہے، جس میں خواتین کی آواز اور چہرے کی بے پردگی پر قرآن و سنت سے دلائل دیے گئے ہوں اور دور نبوی اور اس کے بعد کے ادوار میں اس کے رواج پانے کے ثبوت پیش کیے گئے ہوں ۔ میری ندوی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ خود بھی اس پر لکھیں اور ایسی تصانیف کی نشان دہی بھی فرمائیں ، تاکہ ہم سب کو درست رائے قائم کرنے میں سہولت ہو۔

کیا غیر مسلم ممالک میں سودی لین دین جائز ہے؟

مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا ہے، جو بینک اور حکومت کے دیگر اداروں کی طرف سے دیے جانے والے سود کو جائز قرار دیتا ہے۔ اس کا یہ بھی خیال ہے کہ ہندستان دار الحرب ہے، اس لیے یہاں کے مسلمان غیر مسلموں سے ہی نہیں ، بل کہ مسلمانوں سے بھی سود لے سکتے ہیں ۔ اگر کوئی ملک واقعی دار الحرب ہے تو کیا اس ملک میں سود کا لین دین مسلمانو ں کے درمیان جائز ہے؟ فقہ کے اس مسئلے کا تعلق قیاس سے ہے یا حدیث سے؟ اس کے جواز میں بہ طور دلیل کوئی حدیث ہے تو بہ راہ مہربانی نقل کیجیے۔ سود کا تعلق گہرے طور پر اخلاقیات سے ہے۔ یہ بات اسلامی روح کے خلاف نظر آ رہی ہے کہ دار الاسلام میں تو سود حرام ہو، لیکن دار الحرب میں مسلمان غیر مسلموں سے سود لے۔ جس طرح زنا اور چوری مسلم ملک میں حرام ہے، اسی طرح سود بھی مسلمانو ں کے لیے ہر ملک اور ہر صورت میں حرام ہونا چاہیے۔ بہ راہ کرم مدلّل طور پر اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں :

سودی کاروبار کرنے والے کی دعوت قبول کرنا

ایک صاحب لائف انشورنس کی ایک کمپنی میں ملازم تھے۔ اب ریٹائر ہوگئے ہیں ۔ ادھر ان سے ہمارے کچھ تعلقات بڑھے ہیں ۔ انھوں نے ہمارے پروگراموں میں آنا شروع کیا ہے اور ہمیں بھی اپنے گھر بلاتے ہیں ۔
بہ راہِ کرم واضح فرمائیں کہ کیا کسی لائف انشورنس کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہے؟ اور کیا اس میں ملازمت کرنے والے کسی شخص کی دعوت قبول کی جاسکتی ہے؟

کالے خضاب کی شرعی حیثیت

میں سر اور داڑھی کے بالوں کی سفیدی دور کرنے کے لیے کالے خضاب کا استعمال کرتا ہوں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حدیث میں کالا خضاب لگانے سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے والد ابو قحافہ کے بارے میں حکم دیا تھا کہ ان کے بالوں کی سفیدی دور کردی جائے، لیکن کالے رنگ سے پرہیز کیا جائے۔
بہ راہِ کرم وضاحت فرمایے کہ خضاب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا کالا خضاب استعمال کرنا پسندیدہ نہیں ہے؟ مارکیٹ میں بعض کمپنیوں کا تیار کردہ جو خضاب ملتا ہے اسے استعمال کرنے کے بعد کیا وضو اور غسل سے پاکی حاصل ہوجائے گی؟

بے وضو مصحف چھوٗنے کا مسئلہ

مولانا مودودیؒ نے آیت لاَ یَمَسُّہٗ اِلّاَ الْمُطَھَّرُوْنَ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ علامہ ابن حزمؒ نے مدلل لکھا ہے کہ بے وضو قرآن شریف کو چھو سکتا ہے۔ عرض ہے کہ ان کے کیا دلائل ہیں ؟ انھیں تفصیل سے بیان کردیں ، تاکہ مجھ جیسے معذور کے لیے گنجائش نکل آئے۔ میری عمر اس وقت ۹۲ سال چال رہی ہے۔ پیشاب کی کثرت اور دیگر عوارض قرآن کی تلاوت میں مانع ہوتے ہیں ۔ الحمد للہ میں حافظ ِ قرآن ہوں ۔ چالیس سال تراویح میں قرآن سناتا رہا ہوں ۔اب حافظہ بہت کم زور ہوگیا ہے۔ دیکھ کر پڑھنے پر مجبور ہوں ۔
واضح رہے کہ میں حیلہ نہیں تلاش کر رہا ہوں ۔ اسلام میں جب گنجائش ہے تو کیوں نہ اس پر عمل کیا جائے۔

قرآن کے بوسیدہ اوراق کے ساتھ کیا کیا جائے؟

گزشتہ دنوں اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ ممبرا کے ایک علاقے میں قرآن کے اوراق کوڑے دان میں ملتے ہیں اور کوڑا چننے والی ایک غیر مسلم عورت انھیں جمع کرکے ایک مسلمان دوکان دار کو دیتی ہے۔ یہ کام وہ نیکی سمجھ کر کرتی ہے۔ مسلم اکثریت والے علاقے میں یہ کام مسلمانوں کا ہی معلوم ہوتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے ان مسلمانوں پر جو دانستہ یا نادانستہ طور پر قرآن کے اوراق کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں ۔
اس موقع پر بعض علما کی طرف سے یہ اپیل شائع کی گئی کہ اگر قرآن کے بوسیدہ اوراق کو ضائع کرنے کی ضرورت پڑ جائے تو انھیں زمین میں دفن کردیا جائے یا سمندر میں پھینک دیا جائے۔ مگر یہ معلوم ہے کہ سمندر کوئی چیز اپنے پیٹ میں نہیں رکھتا۔ اسے واپس کنارے پر لگا دیتا ہے۔ یعنی پھر وہی بے حرمتی۔
آپ سے گزارش ہے کہ اس کا کوئی بہتر حل ہمیں بتائیں ۔ صحابۂ کرامؓ کے دور میں بھی ایسا مسئلہ پیش آیا ہوگا۔ انھوں نے اس وقت کیا رویہ اختیار کیا تھا؟ امید ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں گے۔

جنابت کی حالت میں صبح کرنا

مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز سے شائع شدہ کتاب ’فقہ السنہ‘ میں روزوں کے ذیل میں بہ عنوان ’جنابت کی حالت میں صبح کرنا‘ ایک حدیث پیش کی گئی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں : ’حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے، حالاں کہ آپؐ روزے سے ہوتے تھے، پھر آپ غسل فرماتے‘۔ (بہ حوالہ: بخاری و مسلم، ص: ۳۸۴)
اس حدیث کو پڑھ کر فوراً ہی یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا نبی ﷺ حالت ِ مذکور میں فجر کی نماز ترک کردیتے تھے؟ جنابت خواہ مباشرت کے ذریعے ہوئی ہو یا احتلام کے ذریعے، اس حالت میں روزہ رکھ لینا اور پھر فجر کی نماز ترک کرکے صبح کردینا ایسا عمل ہے، جس کی توقع اللہ کے عام نیک بندوں سے بھی نہیں کی جاسکتی، چہ جاے کہ اسے اللہ کے محبوب ترین پیغمبر سے منسوب کیا جائے۔ ایک شکل یہ تو ہوسکتی ہے کہ فجر کی نماز کے بعد انسان سوجائے اور حالت خواب میں وہ ناپاک ہوجائے، لیکن حدیث کے الفاظ ’جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے‘ اس بات کی صراحت کرر ہے ہیں کہ حالت ِ جنابت کا وقوع رات میں ہوا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کتاب مذکور میں زیر بحث حدیث کے ضمن میں حاشیے میں فقہا کی جو آرا دی گئی ہیں ، ان میں بھی اس پہلو کو بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے، جب کہ حدیث مذکور کو درست مان لینے سے نبی ﷺ سے قصداً ترک ِ نماز کا عمل ثابت ہوتا ہے، جو کہ میری دانست میں نبی ﷺ پر ایک سنگین الزام ہے۔

اگر کسی عذر سے وقت پر نماز ادا کرنا ممکن نہ ہو؟

میں ایک سرکاری بس ڈپو کے ورک شاپ میں میکنیک کی حیثیت سے کام کرتا ہوں ۔ ورک شاپ میں آنے والی ہر بس کو چیک کرنا اور اگر اس میں کوئی چھوٹی یا بڑی خرابی ہو تو اسے ٹھیک کرنا میری ذمہ داری ہے۔ کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے میں صاف کپڑے بدل کر میلے کچیلے کپڑے پہن لیتاہوں ۔ شام کے وقت ڈپو میں آنے والی بسوں کارش ہوتا ہے۔ اگر میں تھوڑی دیر کے لیے بھی وہاں سے ہٹ جاؤں تو بسوں کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر ہنگامہ اور افسران ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگتے ہیں اور ڈیوٹی سے غفلت اور بے پروائی کا قصور وار قرار دینے لگتے ہیں ۔ اس بنا پر میری عصر اور مغرب کی نمازیں مسلسل قضا ہوتی ہیں ۔ میں اتنا وقت بھی نہیں نکال پاتا کہ جاکر میلے کپڑے بدلوں ، صاف کپڑے پہنوں ، وضو کرکے نماز پڑھوں ، پھر میلے کپڑے پہن کر کام پر واپس لوٹ سکوں ۔
واضح کردوں کہ میرے پاس انجینئرنگ کی ڈگری ہے، لیکن مجھے کام اس معیار کا نہیں مل سکا ہے۔ میں اپنے افسروں سے برابر کہتا رہتا ہوں کہ میری علمی قابلیت کے لحاظ سے مجھے کام دیں ۔ میں یہ بھی کہتا رہتا ہوں کہ مجھ سے کوئی دوسرا دفتری یا غیر دفتری کام لیں ، جس سے مجھے کچھ موقع مل جایا کرے اور میری نمازیں قضا نہ ہوں ۔ لیکن اب تک کوئی صورت نہیں بن سکی ہے۔ مسلسل نمازیں قضا ہونے کی وجہ سے میں سخت الجھن میں ہوں ۔ میرے حلقۂ احباب میں بعض لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ میں ایسی ملازمت چھوڑ دوں جس میں نمازوں کی ادائی میں رکاوٹ ہو، جب کہ بعض احباب کہتے ہیں کہ بیوی بچوں کی کفالت بھی فرض ہے۔ اس لیے کوئی ایسا اقدام درست نہیں ، جس سے وہ پریشانی میں پڑ جائیں ۔ بہ راہِ کرم مجھے مشورہ دیں ، میں کیا کروں ؟

چھوٗٹی ہوئی نمازوں کا کفّارہ؟

میرے ایک قریبی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں نمازوں کے بڑے پابند تھے، مگر مرض ِ وفات میں ان کی کچھ نمازیں چھوٹ گئی ہیں ۔ کیا ان کا فدیہ ادا کیا جاسکتا ہے؟ اگر ہاں تو بہ راہ کرم یہ بھی بتایے کہ فدیہ کتنا ہوگا اور کیسے ادا کیا جائے گا؟

نماز یا دینی اجتماع کے لیے مساجد میں عورتوں کی حاضری

ہمارے شہر میں ایک کالونی بسائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد کے اندر تقریباً سو افراد اور اس کے چبوترے پر پچاس افراد بیک وقت نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ کالونی کی خواتین میں الحمد للہ مذہب کے معاملے میں کافی بیداری اور دینی شعور پایا جاتا ہے۔ دو برس قبل ان کے مطالبے پر ان کے لیے بھی نماز تراویح کا نظم کیا گیا۔ اس کے لیے مسجد سے متصل ایک کمرہ تعمیر کیا گیا، جس میں تقریباً پینتیس (۳۵) خواتین کے نماز ادا کرنے کی گنجایش ہے۔ اس کمرے میں خواتین کے داخلے کا علاحدہ انتظام ہے۔ نماز تراویح کے اس نظم کی وجہ سے دوسری کالونیوں سے بھی خواتین آنے لگیں ۔ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے مسجد کے مشرقی جانب صحن ِ مسجد سے متصل ایک مکان میں ایک صاحب دین نے ایک بڑا کمرہ فراہم کردیا ہے، جس میں تقریباً تیس (۳۰) خواتین نماز پڑھ سکتی ہیں ۔ مسجد کے چبوترے سے اس کمرے کا فاصلہ اڑتیس (۳۸) فٹ ہے۔
مندرجہ بالا نظم پر چند حضرات نے کافی اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کا مسجد میں آنا فتنہ ہے۔ انھیں نماز کے لیے مسجد میں نہ آنے دینا چاہیے۔ ایک مقامی عالم دین نے کہا کہ مسجد کے چبوترے سے اس کمرے کا فاصلہ بہت زیادہ ہے۔ اس بنا پر اس کمرے میں نماز ادا کرنا صحیح نہیں ہے۔ گزشتہ رمضان میں موسم برسات اور خواتین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر اس مسجد کے نصف چبوترے پر تین جانب سے قناطیں کھڑی کرکے کوشش کی گئی کہ کچھ خواتین اس پر نماز ادا کرسکیں ، لیکن اسے بھی بعض حضرات نے نکال دیا اور مسجد کے پیش امام صاحب نے مائیک سے اعلان کردیا کہ ’’مسجد سے متصل مشرقی کمرے میں نماز ادا کرنا صحیح نہیں ہے۔‘‘
مسلم خواتین میں بڑھتے ہوے دینی شعور اور بیداری کو دیکھتے ہوئے اس قسم کے مسائل دوسرے شہروں میں بھی اٹھنے کا امکان ہے۔ اس لیے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں ہماری رہ نمائی فرمائیں :
۱- جس موجودہ صورت میں ہماری کالونی کی مسجد سے متصل کمرے میں خواتین نماز ادا کر رہی ہیں وہ صحیح ہے یا نہیں ؟
۲- اگر اس کمرے کے اوپر ایک اور منزل تعمیر کرکے وہاں یا موجودہ مسجد پر ایک اور فلور تعمیر کرکے وہاں خواتین کے لیے نماز تراویح کا انتظام کردیا جائے تو ایسا کرنا صحیح ہوگا یا نہیں ؟ بعض حضرات کا خیال ہے کہ خواتین کے لیے گراؤنڈ فلور پر اور مردوں کے لیے فرسٹ فلور پر انتظام کیا جائے۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
۳- مسجد سے متصل مشرقی جانب جس کمرے میں خواتین نماز ادا کر رہی ہیں ، اس میں ان کا نماز ادا کرنا درست ہے یا نہیں ؟
۴- صفوں کے درمیان فاصلے (Gap)کا جو اعتراض اٹھایا جا رہا ہے، اس کے بارے میں کیا کوئی شرعی ہدایت موجود ہے؟ بعض قدیم مساجد میں مشرق، شمال یا جنوب کی جانب ہال تعمیر کیے گئے ہیں ، کنکشن دے دیے جاتے ہیں ، ان مساجد میں مردوں کی آخری صف اور ہالوں میں خواتین کی پہلی صف کے درمیان کافی فاصلہ ہوتا ہے۔ اکثر پرانی مساجد میں وسط صحن میں وضو کے لیے بڑے بڑے حوض ہوتے ہیں ، اس کی وجہ سے بھی صفوں کے درمیان گیپ ہوجاتا ہے، مزید یہ کہ اب بہت سے حضرات تراویح کی آٹھ رکعتیں پڑھ کر چلے جاتے ہیں ، اس وجہ سے صفوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے اور گیپ بڑھ جاتا ہے۔ بہ راہِ کرم واضح فرمائیں کہ مردوں اور عورتوں کی صفوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ کتنا گیپ ہوسکتا ہے؟
آپ سے درخواست ہے کہ اس موضوع پر احکام شریعت کی روشنی میں ہماری رہ نمائی فرمائیں ۔
سوال(۲): ادارہ فلاح الدارین کے نام سے ہم بارہ مولہ، جموں و کشمیر میں ایک ادارہ چلا رہے ہیں ۔ اس کی سرگرمیوں کا ایک اہم جز مسلمان خواتین میں اسلامی بیداری لانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس حوالے سے خواتین کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں ۔ کسی بڑے اجتماع گاہ یا کمیونٹی ہال کی عدم دستیابی کی وجہ سے خواتین کے یہ اجتماعات مساجد میں منعقد کیے جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں اوقاتِ نماز کا پورا خیال رکھا جاتا ہے اور اجتماعات ایسے اوقات میں منعقد کیے جاتے ہیں جب پنج وقتہ نمازیں ڈسٹرب نہ ہوں اور مرد نمازیوں کو کوئی دشواری اور زحمت نہ پیش آئے۔ یہاں کے بعض مقامی علماء اس پر اعتراض کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مساجد میں عورتوں کا اجتماع منعقد کرنا صحیح نہیں ہے۔ یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ حنفی مسلک کی رو سے عورت کا کسی بھی صورت میں مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں ہے۔