آواز کا پردہ

عورت کے لیے آواز کا بھی پردہ ہے یا نہیں ؟
جواب
عورت کے لیے اجنبی مردوں سے بلاوجہ بات چیت کرنا ناپسندیدہ ہے۔ لیکن بہت سی علمی، دینی، معاشی ضروریات کے تحت اسے بات چیت کرنی پڑتی ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید کی ہدایت یہ ہے کہ کسی نامحرم سے بات چیت کے وقت عورت کی آواز میں لوچ نہ ہو۔ اس کی آواز ایسی نہ ہو کہ غیر مرد کے دل میں کوئی برا خیال آئے۔ بلکہ اس کے لب و لہجہ میں کسی قدر درشتی ہو اور بات نیکی، تقویٰ اور دین و دنیا کی بھلائی کی ہو۔ ان ہدایات کو پیشِ نظر رکھ کر عورت اجنبیوں سے بات کرسکتی ہے۔

Leave a Comment