ازواجِ مطہراتؓ کا پلٹ کر جواب دینا

آپ نے سورۂ التحریم کی آیت إِنْ تَتُوْبَآ إِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا وَإِنْ تَظَاہَرَا عَلَیْہِ... ({ FR 1661 }) (التحریم:۴) کی تشریح کرتے ہوئے تفہیم القرآن میں حضرت عمر ؓ کی جو روایت بخاری اور مُسند احمد سے نقل کی ہے، اس میں حضرت عمرؓ کے الفاظ لا تُرَاجِعیِ({ FR 1604 }) کا مفہوم ’’رسول اللّٰہ ﷺ کے ساتھ کبھی زبان درازی نہ کر‘‘ (ترجمان القرآن، جلد ۷۲ عدد۴ صفحہ۲۲۳، آخری سطر) اگرچہ صحیح ہے، لیکن میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ ان الفاظ کو بدلنے پر غور فرمائیں کیونکہ اہلِ زَیغ نے آپ پر من جملہ بہت سے الزامات کے ایک یہ الزام بھی بڑے زور شور سے پھیلا رکھا ہے کہ مولانا مودودی نے ازواجِ مطہرات کو ’’زبان دراز‘‘ کہہ کر ان کی گستاخی اور بے ادبی کی ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ تفہیم القرآن میں ’’زبان درازی نہ کر‘‘ کے الفاظ کی جگہ ’’پلٹ کر جواب نہ دے‘‘ یا ’’دُو بدُو جواب نہ دے‘‘ کے الفاظ رکھ دیں تو مفہوم کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا اور اہل زیغ کے ہاتھ میں بھی پروپیگنڈے کے لیے شوشہ نہیں آئے گا۔‘‘
جواب

حضرت عمرؓ کی روایت سے یہ بات تو ثابت ہے کہ ازواجِ مطہرات رسول اللّٰہ ﷺ کو پلٹ کر دُوبدُو جواب دینے لگی تھیں ۔ اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی چھوٹا اپنے سے بڑے رُتبے والے کو پلٹ کر جواب دے یا دُوبدُو جواب دے تو اسی کا نام زبان درازی ہے۔ مثلاً باپ اگر کسی بات پر بیٹے کو ڈانٹ دے یا اظہارِ ناراضی کرے اور بیٹا اس کو پلٹ کر جواب دے یا دُوبدُو جواب دینے لگے تو آپ اسے زبان درازی نہیں تو اور کیا کہیں گے؟ کُجا کہ رسول اللّٰہﷺ کے ساتھ کوئی یہ رویہ اختیار کرے۔ اب اگر کسی کو رسول اللّٰہ ﷺسے بڑھ کر ازواجِ مطہرات کے احترام کی فکر ہے تو اس کا آخر میرے پاس کیا علاج ہے۔ ظاہر ہے ازواجِ مطہرات کا رویہ کچھ زیادہ ہی ناپسندیدہ ہوگیا تھا جس کی بنا پر پہلے تو حضرت عمرؓ اپنی صاحب زادی حضرت حفصہؓ پر غضب ناک ہوئے، پھر ازواجِ مطہرات میں سے ایک ایک کے ہاں جا کر ان کو اللّٰہ کے غضب سے ڈرایا، پھر رسول اللّٰہ ﷺ نے ناراض ہوکر ۲۹دن تک ان سے قطعِ تعلق کرکے اپنے بالاخانے میں قیام فرمایا حتیٰ کہ صحابہ کرام میں یہ تشویش پھیل گئی کہ حضور ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے اور آخر کار خود اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کو تنبیہ فرمائی۔
اب اگر یہ محض پلٹ کر جواب دینے یا دوبدو جواب دینے ہی کا چھوٹا سا معاملہ تھا تو یہ معترضین اللّٰہ تعالیٰ کے بارے میں کیا راے رکھتے ہیں کہ ذرا سی بات پر ایک آیت نازل کر دی؟ اور نبی کریم ﷺ کو کیا سمجھتے ہیں کہ آیا آپؐ معاذ اللّٰہ بڑے ہی تنگ مزاج واقع ہوئے تھے کہ ذرا سی بات پر بیویوں سے اس قدر ناراض ہوگئے؟ اور حضرت عمرؓ کو کیا سمجھتے ہیں کہ ذرا سی بات پر بیٹی کو ڈانٹا اور پھر ازواج مطہرات میں سے ایک ایک کے گھر جاکر ان کو خدا سے ڈراتے پھرے؟ یہ سب کچھ تو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے جسے صرف نقل کرنے کا میں گناہ گار ہوں ۔ رہے معترضین تو انھیں بہرحال میری ہر بات پر اعتراض کرنا ہے، اس لیے میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کی کسی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کروں گا۔ جب تک چاہیں وہ اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرتے رہیں ۔ (ترجمان القرآن، نومبر۱۹۷۰ء)


Leave a Comment