اسلامی حکومت کا صرف تیس پینتیس سال چلنا

اسلامی حکومت کیوں صرف تیس پینتیس سال چل کر رہ گئی؟ پھر کیوں حضرت علیؓ جیسے مدبر اور مجاہدکی اس قدر مخالفت ہوئی اور مخالفین میں حضرت عائشہؓ تک تھیں ؟
جواب
آپ کا یہ سوال کہ اسلامی حکومت صرف تیس پینتیس سال چل کر کیوں رہ گئی، ایک اہم تاریخی مسئلے سے متعلق ہے۔اگر آپ اسلامی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو اس کے اسباب سمجھنا آپ کے لیے کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا۔ کسی خاص اُصول کی علم برادر جماعت جو نظامِ زندگی قائم کرتی ہے، اس کا اپنی پوری شان کے ساتھ چلنا اور قائم رہنا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ لیڈر شپ ایک ایسے چیدہ گروہ کے ہاتھ میں رہے جو اس اصول کاسچا اور سرگرم پیرو ہے۔ اور لیڈر شپ ایسے گروہ کے ہاتھ میں صرف اسی حالت میں رہ سکتی ہے جب کہ عام باشندوں پر اس گروہ کی گرفت قائم رہے اوران کی عظیم اکثریت کم ازکم اس حد تک تعلیم وتربیت پائے ہوئے ہو کہ اسے اس خاص اُصول کے ساتھ گہری وابستگی بھی ہو اور وہ ان لوگوں کی بات سننے کے لیے تیار بھی نہ ہو جو اس اُصول سے ہٹ کر کسی دوسرے طریقے کی طرف بلانے والے ہوں ۔یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینے کے بعد اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیے۔ ( ترجما ن القرآن، نومبر،دسمبر ۱۹۴۴ء)

Leave a Comment