اسلامی ریاست اور نظمِ جماعت

ایک بزرگ ہیں جو پہلے تو جماعت سے اس حد تک تعلق رکھتے تھے کہ رکنیت کی درخواست دینے والے تھے لیکن یکایک ان کے ذہن رسا میں ایک نکتہ پیدا ہوا اور وہ اپنا دامن جھاڑ کر جماعت سے اتنی دُور جاکھڑے ہوئے گویا انھیں جماعت سے کبھی کوئی تعلق رہا ہی نہیں تھا۔وہ فرماتے ہیں کہ اسلامی دستور کی تشکیل کے بعد پاکستان ایک اسلامی ریاست بن چکا ہے اور یہاں تمام مسلمان شہری ایک نظام اطاعت میں منسلک ہوچکے ہیں ۔یہ نظام اطاعت سب کو جامع اور سب پر فائق ہے۔اب سب کی اطاعتیں اس بڑے نظام اطاعت کے گرد جمع ہوچکی ہیں ۔لہٰذا اس کی موجودگی میں کسی اور نظم کا قائم ہونا اور افراد سے اپنی اطاعت کا مطالبہ کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک حکومت کے اندر ایک متوازی حکومت کا قائم کرنا۔خلاصہ یہ کہ اب کسی جماعت، کسی تنظیم اور کسی امیر کی ضرورت نہیں ہے۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے ،حکومت اس کا تنظیمی مظہر ہے، تمام مسلمان شہری اب کسی جماعت کے نہیں بلکہ اس ریاست کی ہمہ گیر تنظیم کے رکن ہیں ، اور ان کی تمام اطاعتیں اور وفا داریاں اسی تنظیم کاحق ہیں نہ کہ کسی اور جماعت کا۔ اب اطاعت کسی کی نہیں بلکہ ریاست کے صدر کی ہونی چاہیے۔ یہ وہ طرز استدلال ہے کہ اس کے نتیجے میں شہریوں کا حق انجمن سازی (right to form association) ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اور نہ صرف ختم ہوجاتا ہے بلکہ اس کا ذکر کرنا بھی حکومت کے خلاف بغاو ت کرنے کے مترادف ہے۔آپ کے پاس اس استدلال کا کیا جواب ہے؟کیا اسلامی ریاست واقعی ایک ایسی ریاست ہوگی جس میں کسی دوسری پارٹی کو جنم لینے اور جینے کا موقع نہیں ملے گا؟اگر ملے گا تو ایک نظام اطاعت کے لحاظ سے اس کی کیا حیثیت ہوگی؟کیا اب کسی مسلمان کا یہ استدلال درست ہے کہ اب اسے اسلام کے اجتماعی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کسی جماعت میں شریک ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ وہ ایک اسلامی ریاست کا ایک شہری ہے۔علمی حیثیت سے یہ سوالات خاص اہمیت رکھتے ہیں اور ان کا جواب علمی طریق پر ہی دیا جانا چاہیے۔
جواب
اسلامی ریاست کی ایک حالت وہ ہوتی ہے جس میں ریاست صرف نظریے کے اعتبار ہی سے اسلامی نہ ہو بلکہ عملاً حکومت بھی اسلامی ہو،صالح ومتقی اہل ایمان اس کو چلا رہے ہوں ،شوریٰ کا نظام اپنی حقیقی اسلامی روح کے ساتھ قائم ہو‘ اور پورا نظام حکومت ان مقاصد کے لیے کام کررہا ہو جس کی خاطر اسلام اپنی ریاست قائم کرنا چاہتا ہے۔اس صورت میں ریاست کا صدر ہی تمام اہل ایمان کا لیڈر ہوگا اور اس کی قیادت میں تمام اہل ایمان ایک جماعت ہوں گے۔ اس وقت جماعت کے اندر جماعت بنانے کی ہر کوشش غلط ہوگی اور ایک امام کے سوا کسی دوسرے کی بیعت یا اطاعت کا کوئی جواز نہ ہو گا۔دوسری حالت وہ ہے جس میں ریاست صرف نظریے کے اعتبار سے اسلامی ہو۔ باقی خصوصیات اس میں نہ پائی جاتی ہوں ۔اس حالت کے مختلف مدارج ہیں اور ہر درجے کے احکام الگ ہیں ۔بہرحال ایسی حالت میں اصلاح کے لیے منظم اجتماعی کوشش کرنا ناجائز تو کسی طرح نہیں ہے‘ اور بعض صورتوں میں ایسا کرنا فرض بھی ہوجاتا ہے۔اسے ناجائز قرار دینے کا خیال اسلامی ریاست کے فاسق حکمراں کریں تو کریں ،لیکن یہ عجیب بات ہوگی کہ اس کے صالح شہری بھی اسے ناجائز مان لیں ، درآں حالے کہ اس کے عدم جواز کی کوئی شرعی دلیل سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اگر یہ چیز ناجائزہو تو آخر ان ائمۂ مجتہدین کا کیا مقام قرار پائے گا جنھوں نے بنی امیہ کے خلاف اٹھنے والوں کی خفیہ اور علانیہ تائید کی؟ (ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۵۷ء)

Leave a Comment