اقامتِ دین اور اُسوہ صحابہ کرامؓ

صحابہؓ کی زندگی کو دیکھیے تو تعجب ہوتا ہے کہ چھوٹے بڑے، اُونچے نیچے، محتاج اور غنی مصیبتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک وسیع خاندان کے رشتے میں پروے گئے تھے۔ ایک کی تکلیف سب کی تکلیف ہوتی تھی اور ایک کا فاقہ سب کا فاقہ ہوتا تھا۔ایک کا بوجھ اُٹھانے کے لیے سب کے بازو حرکت میں آجاتے تھے۔مگر ہمارا حال کیا ہے؟اگر ہمارے بچے فاقہ کشی کررہے ہیں اور ہم فکر ِمعاش میں بدحواس ہورہے ہیں تو ہم اُن رفیقوں کے ساتھ کیسے چل سکتے ہیں جو اِن مشکلات کی تلخیوں سے نا آشنا ہیں ۔ کبھی کبھی اس اُلجھن میں پڑ جاتا ہوں کہ وہ زندگی جو عہدِ رسالت وصحابہ کے اندر پیدا ہوگئی تھی اس عہد کے لیے خاص تو نہ تھی ۔کبھی یہ خیال گزرتا ہے کہ اس زندگی کی فطرت ہی ایسی ہے کہ یہ عام نہیں ہوسکتی۔میں سوچتا ہوں کہ ہمیں اپنے جذبۂ رفاقت کو اتنا زور دار بنانا چاہیے کہ جماعت ایک خاندان کی شکل اختیا رکرجائے، اور جماعت کے استحکام کے لیے یہ ایک لازمی چیز ہے۔
جواب
صحابہؓ کی جماعت کے متعلق جو نقشہ تذکروں میں کھینچا گیا ہے ،اس میں ایک حد تک تو مبالغہ ہے اور ایک حد تک حقیقت ہے ۔پھر جو حقیقت ہے وہ بھی پوری طرح اس وقت برسر کار آئی تھی جب ایک طویل مدت کی جدوجہد نے ان کے اندر باہمی رفاقت کی اسپرٹ پیدا کردی تھی۔ مگر یہ عجیب بات ہے کہ جو خصوصیات ان کے اندر نبی ﷺ جیسے زبردست راہ نما کی راہ نمائی سے چودہ پندرہ سال کی مسلسل تربیت کے بعد پیدا ہوئی تھیں ،انھیں ہم پہلے ہی مرحلے پر موجود دیکھنا چاہتے ہیں ۔پھر مدینہ طیبہ میں صحابہؓ کے درمیان رفاقت کی جو اسپرٹ تھی،اس میں بہت بڑا دخل ان کی یک جائی کو بھی تھا۔ منتشر طور پر عرب کے مختلف حصوں میں جو لوگ پھیلے ہوئے تھے، ان کے ساتھ وہ رفاقت ممکن نہیں تھی، جو مدینے میں سمٹ آنے والے لوگوں کے ساتھ تھی، مگر یہاں ابھی تک ہماری اجتماعی زندگی سرے سے بنی ہی نہیں ہے۔منتشر افراد ملک کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں جوا بھی ایک دوسرے سے آشنا تک نہیں ۔ان کے اندر آخر رفاقت کی وہ شان کیسے پیدا ہوسکتی ہے جو صرف یک جائی زندگی ہی میں ممکن ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ جو لوگ ہمارے ہم خیال ہیں ، وہ عہدِ صحابہؓ کو مجرد کرامتوں اور معجزات کی اسپرٹ میں سمجھنے کے بجاے فطری اسباب کے مطابق سمجھنے کی کوشش کریں ۔ ورنہ ہر وہ چیز جو اس دور میں پیدا ہوئی تھی،اس کے متعلق ہم چاہیں گے کہ بس وہ چشم زدن میں کرامت کے طور پر رونما ہوجائے، اور جب وہ اِ س طرح رونما نہ ہوسکے گی تو ہمارے دل ٹوٹ جائیں گے۔ اس ذہنیت کے ساتھ ہم کبھی ان فطری اسباب کو فراہم کرنے کی کوشش کریں گے ہی نہیں جن سے وہ کیفیات یا کم ازکم اس نوعیت کی کیفیات پیدا ہوسکتی ہیں ۔ملیے اور مل کر کام کیجیے اور مل کر اس راہ میں مصیبتیں اُٹھایئے۔ پھر اس طرز کی رفاقت کا ظہور نہ ہو تو البتہ آپ کو حق ہے کہ اِ س خدمت کی انجام دہی کے لیے معجزے کی شرط لگائیں اور پھر اپنے خدا سے مطالبہ کریں کہ اگر یہ خدمت ہم سے لینا چاہتا ہے تو معجزے صادر کرے۔ اس سلسلے میں سوچنے والے اکثر جو غلطیاں کرتے ہیں ،ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اس کام میں جن جن چیزوں کی کمی محسوس کرتے ہیں ،ان کا ذکر کچھ اس انداز سے کرنے لگتے ہیں کہ گویا ان ساری کمیوں کو پوراکرنا اور تمام ضروری چیزوں کو مہیا کردینا کسی اور کا کام ہے اور خود ان پر اس باب میں کوئی فرض عائد نہیں ہوتا۔ حالاں کہ درحقیقت یہ کسی ایک شخص کا انفرادی کاروبار نہیں ہے بلکہ ہم سب کا مشترک کام ہے اور اس میں کوئی شخص بھی محض چند خامیوں کی نشان دہی اور چند چیزوں کی ضرورت ظاہر کرکے اپنے فرض سے سبک دوش نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ خود اس کمی کو پورا کرنے اور اس چیز کو مہیا کرنے میں اپنے حصے کی خدمت انجام نہ دے جس کی ضرورت وہ بیان کررہا ہے۔ (ترجمان القرآن، مئی جون، ۱۹۴۴ء)

Leave a Comment