اقامتِ دین کے لیے سعی ،نظریت او ر عملیت میں توازن

اﷲ تعالیٰ آپ کو جزاے خیر دے کہ آپ نے میری معروضات پر توجہ فرمائی اور انھیں قابل التفات سمجھا۔آپ کے حوصلہ افزا جواب کے بعد ا س سلسلے میں چند اور گزارشات آپ تک پہنچادینا ضروری سمجھتا ہوں ، اسے خدا نخواستہ تحریری مباحثہ نہ تصور فرما لیا جائے،بلکہ یہ ایک ایسے شخص کے افکار پریشاں ہیں جو سال ہا سال سے مسلمانو ں کی سیاست اور عالمی پیچیدگیوں کاطالب علمانہ مطالعہ کرتا چلا آرہا ہے، اور اس بات کو اپنا ایمان ویقین تصور کرتا ہے کہ اسلام ہی انسانیت کا دنیا وآخرت میں واحد ذریعۂ نجات ہے۔ اگر انتخابات سے ہمارا آخری مقصود یہ ہی ہے کہ موجودہ نیم دینی دستور کو کامل اسلامی دستور میں تبدیل کرانے کی کوشش کی جائے اور دستورکے اسلامی تقاضوں کو بغیر کسی تحریف کے صحیح طور پر پورا کیا جا سکے، تو اس کے لیے پہلا اور زیادہ بہتر طریقہ یہی تھا کہ کتاب وسنت کا علم رکھنے والے، اہل تقویٰ اور اہل بصیرت، مسلمانوں پر مشتمل، لیجس لیچر کا قیام عمل میں لایا جائے اور براہِ راست اس کے لیے جدوجہد کی جاتی رہے۔ بالخصوص ایسے وقت میں اس براہِ راست کوشش کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے جب کہ ملک بھر میں مختلف ومتضاد طبقے، دستور کے نام پر اسلام کی عجیب وجدید تعبیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ لیکن جماعت کے اہل الراے حضرات کی اکثریت اگر اسے مناسب نہیں سمجھتی ہے،تو پھر جداگانہ اور مخلوط طریق انتخاب کے درمیان پوری توجہ کے ساتھ تمیز کی جانی چاہیے کہ کون سا طریقہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے زیاد ہ آسان اور اقرب الی الصواب ہے۔ فی الحقیقت،جب تک خدا کی حاکمیت کو واضح طور پر نہ تسلیم کیا جائے، کتاب وسنت کو مثبت طور پر قانون سازی کا ماخذ اور دستور پر بالا دست نہ مان لیا جائے، کتاب وسنت کا علم رکھنے والے اہل تقویٰ واہل بصیرت ارکان پر مشتمل لیجس لیچر کا قیام عمل میں نہ آجائے اور کتاب وسنت کی تعبیر وتوضیح کا حق اصول سلف کے مطابق،ماہرین علوم اسلامیہ وحاملین شریعت کے لیے خاص نہ کردیا جائے، اس وقت تک ذرا سی غفلت سے موجودہ دستور کو غیر اسلامی مقاصد کے لیے بڑی آسانی اور آزادی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے اور پھر ان مردود مقاصد کو اسلامی مقاصد کی حیثیت سے عام کیا جاسکتا ہے۔
جواب
افسوس ہے کہ آپ نے میرے پچھلے خط کے اس فقر ے پر غور نہیں کیا کہ ہم اپنی تحریک خلامیں نہیں چلا رہے ہیں بلکہ واقعات کی دنیا میں چلا رہے ہیں اور ہمیں محض اعلان واظہار حق ہی نہیں کرنا ہے بلکہ اقامت حق کے لیے بھی کوشش کرنی ہے، جس کے لیے ہم کو اسی واقعات کی دنیا میں سے راستہ نکالنا ہوگا۔یہ بات میں نے اپنے جواب کی ابتدا ہی میں اس لیے لکھ دی تھی کہ مجھے آپ کے خط کو پڑھ کر یہ محسوس ہوگیا تھا کہ آپ اپنے خیالات کی دنیا میں اس قد ر گم ہیں کہ واقعات کی اس دنیا پر آپ کی نگاہ نہیں جاتی جس میں ہم اپنے مقصد کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ۔ میرے اس اندیشے کی تصدیق آپ کے دوسرے خط سے ہوگئی اور معلوم ہوا کہ میرے توجہ دلانے پر بھی آپ اس پہلو کی طرف دیکھنے پر مائل نہیں ہوسکے ہیں ۔ دوسری بات میں نے ابتدا ہی میں یہ عرض کی تھی کہ جسے واقعات کی دنیا میں صرف اعلان حق ہی نہیں بلکہ اقامت دین کا کام بھی کرنا ہو،اس کے لیے ضروری ہے کہ نظریت اور حکمت عملی کے درمیان زیادہ سے زیادہ توازن برقرار رکھے۔اس بات کو بھی آپ نے پوری طرح سمجھنے کی کوشش نہیں فرمائی۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ جب تک یہ دوسری بات بھی اچھی طرح آپ کے ذہن نشین نہ ہوجائے،آپ کے لیے ہماری تحریک کے طریق کار کو سمجھنا مشکل ہوگا۔ اس لیے آپ کے ارشادات پر کلام کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ میں ان دونوں باتوں کو پھر کھول کر بیان کردوں ۔ ہم جس ملک اورجس آبادی میں بھی ایک قائم شدہ نظام کو تبدیل کرکے دوسرا نظام قائم کرنے کی کوشش کریں گے،وہاں ایسا خلا ہم کو کبھی نہ ملے گا کہ ہم بس اطمینا ن سے’’براہِ راست‘‘ اپنے مقصود کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے۔ لامحالہ اس ملک کی کوئی تاریخ ہوگی۔اس آبادی کی مجموعی طور پر اور اس کے مختلف عناصر کی انفرادی طور پر کچھ روایات ہوں گی۔ کوئی ذہنی اور اخلاقی اور نفسیاتی فضا بھی وہاں موجود ہو گی۔ ہماری طرح کچھ دوسرے دماغ اور دست وپا بھی وہاں پائے جاتے ہوں گے جو کسی اور طرح سوچنے والے اور کسی اور راستے کی طرف ا س ملک اور اس آبادی کو لے چلنے کی سعی کرنے والے ہوں گے۔ ان مختلف عوامل میں سے کچھ ہمارے موافق ہوں گے، تو کچھ ناموافق اور مزاحم ہوں گے۔ اور قائم شدہ نظام کاکسی کم یا زیادہ مدت سے وہاں قائم ہونا خود اس بات کی دلیل ہوگا کہ یہ عوامل ہماری موافقت میں کم اور اس کی موافقت میں زیادہ ہیں ۔ علاوہ بریں یہ بات بالکل فطری اور عین متوقع ہے کہ ہمارے مقابلے میں یہ نظام ضرور ان تمام عوامل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا جو اس کے لیے سازگار ہیں یا بن سکتے ہیں ۔اور ایسے تمام عوامل کو ہمارے لیے ناموافق یا کم ازکم غیر مفید بنانے کی بھی سعی کرے گا جنھیں وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمارے حق میں سازگار ہیں ۔ اور وہ تمام دوسری تحریکیں بھی جو ہمارے مقصد کی مخالف ہیں ، یا تو قائم شدہ نظام کی حمایت کریں گی یا پھر موجود الوقت عوامل کو حتی الامکان ہمارے خلاف استعمال کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گی۔ ان حالات میں نہ تو اس امر کا کوئی امکان ہے کہ ہم کہیں اور سے پوری تیاری کرکے آئیں اور یکایک اس نظام کو بدل ڈالیں جو ملک کے ماضی اور حال میں اپنی گہری جڑیں رکھتا ہے، نہ یہ ممکن ہے کہ اسی ماحول میں رہ کر کش مکش کیے بغیر کہیں الگ بیٹھے ہوئے اتنی تیاری کرلیں کہ میدان مقابلہ میں اترتے ہی سیدھے منزل مقصود پر پہنچ جائیں ، اور نہ اس بات ہی کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ ہم اس کش مکش میں سے گزرتے ہوئے کسی طرح ’’براہِ راست‘‘ اپنے مقصود تک جا پہنچیں ۔ ہمیں لامحالہ واقعات کی اس دنیا میں موافق عوامل سے مدد لیتے ہوئے اور مزاحم طاقتوں سے کش مکش کرتے ہوئے بتدریج اپنا راستہ نکالنا ہو گا۔ ہر قدم جس کے لیے گنجائش نکل آئے، فوراً اور برو قت اٹھا دینا ہو گا۔ دوسرے قدم کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے پورا زور لگانا پڑے گا اور سمت مخالف کی دھکا پیل اگر ہمیں پیچھے دھکیلے تو اس بات کی کوشش کرنی ہوگی کہ پہلے قدم کی جگہ پائوں تلے سے نہ نکل جائے۔ اس کش مکش کے دوران میں جتنی ضروری بات یہ ہے کہ ہمارا آخری اور اصلی مقصود ہماری نگاہوں سے اوجھل نہ ہو، اتنی ہی ضروری یہ بات بھی ہے کہ ہم اس کی سمت میں بڑھنے کے لیے ہر درمیانی قدم کو مقصدی اہمیت دیں ، جو قدم رکھا جاچکاہے، اسے زیادہ سے زیادہ مضبوط بنائیں ،آگے کے قدم کے لیے زیادہ سے زیادہ قوت فراہم کریں ، اور جوں ہی کہ اس کے لیے جگہ پیدا ہو،اس پر فوراً قبضہ کر لیں ۔ آخری مقصود پر نگاہ جمانا اگر اس لیے ضروری ہے کہ ہماراکوئی قدم غلط سمت میں نہ اٹھے، تو درمیان کے ہر قدم کو اس کے وقت پر قریبی مطمح نظر (immediate objective)کی حیثیت دینا اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر پیش قدمی کا امکان ہی نہیں رہتا۔ جسے صرف تمنائیں بیان کرنے پر اکتفا کرنا نہ ہو بلکہ منزل مقصود کی طرف واقعی چلنا بھی ہو،اسے تو ہر قدم جمانے اور دوسرا قدم اٹھانے کے لیے تمام ممکن الحصول موافق طاقتوں سے اس طرح کام لینا اور تمام موجود مزاحمتوں کو ہٹانے کے لیے اس طرح لڑنا ہوگا کہ گویا اس وقت کرنے کا کام یہی ہے۔ اس معاملے میں صرف نظریت کام نہیں دیتی بلکہ اس کے ساتھ عملی حکمت ناگزیر ہے۔اس حکمت کو نظر انداز کردینے والا نظری آدمی طرح طرح کی باتیں کرسکتاہے۔ کیوں کہ وہ یا توقافلے میں شامل ہی نہیں ہوتا، یا پھر قافلے کو لے کر چلنے کی ذمہ داری اس پر نہیں ہوتی۔ مگر جسے چلنا ہی نہ ہو بلکہ چلانا بھی ہو، وہ ہر بات کو محض اس کے خیالی حسن کی بنیاد پر قبول نہیں کرسکتا۔ اسے تو عملی نقطۂ نظر سے تول کر دیکھنا ہوتا ہے کہ جن حالات میں وہ کام کررہا ہے،جو قوت اس وقت اس کے پاس موجود ہے، یا فراہم ہونی ممکن ہے اور جو جو مزاحمتیں راستے میں موجود ہیں ، ان سب کو دیکھتے ہوئے کون سی بات قابل قبول ہے او رکون سی نہیں ، اور یہ کہ کس بات کو قبول کرنے کے نتائج کیا ہوں گے۔نظری آدمی تو بے تکلف کسی مرحلے پر بھی کہہ سکتا ہے کہ ایک ایک قدم اٹھانے اور قدم قدم کی جگہ کے لیے کش مکش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ’’براہِ راست‘‘ کیوں نہیں بڑھ جاتے۔ مگر کام کرنے والا یہ سوچنے پرمجبور ہے کہ راستے کی مزاحم طاقتوں کے ہجوم میں سے آخر براہِ راست کیسے بڑھ جائوں ؟ ان کے سر پر سے چھلانگ لگا کر جائوں ؟ زمین کے نیچے سے سرنگ لگا کر جاپہنچوں ؟یاکوئی تعویذ ایسا لائوں کہ اسے دیکھتے ہی یہ سارا ہجوم چھٹ جائے اور میں اپنے قافلے کو لیے ہوئے سیدھا اپنی منزل کی طرف بڑھتا چلاجائوں ؟ نظری آدمی اس کش مکش کے دوران میں کسی جگہ بھی ٹھیر جانے یا پیچھے ہٹ جانے کا بڑے اطمینان سے مشورہ دے سکتا ہے۔وہ کہہ سکتا ہے کہ ٹھیر کر یا پیچھے ہٹ کر تیاری کرو اور پھر اس شان سے آئو کہ بس ایک ہی ہلے میں سابق نظام ختم اور نیا نظام پورا کا پورا قائم ہو جائے۔ مگر کام کرنے والے کو ایسے مشورے قبو ل کرنے سے پہلے یہ دیکھناپڑتا ہے کہ مزاحم طاقتوں کی موجودگی میں کش مکش روک کر ٹھیر جانا ممکن بھی ہے یا نہیں ؟ پیچھے ہٹوں تو بیک وھلہ منزل پر پہنچنا تو درکنار اس جگہ واپس آنے کا بھی کوئی امکان باقی رہ جاتا ہے جہاں سے پلٹنے کے لیے کہا جارہا ہے؟اور کیا میرے ٹھیرنے یا ہٹنے کی صورت میں مزاحم طاقتیں بھی ٹھیریا ہٹ جائیں گی کہ وہ ماحول کو میرے لیے اور زیادہ ناساز گار بنانے سے رک جائیں اور میں اسے خوب ساز گار بنا کر اور خود پوری طرح تیار ہوکر بڑے اطمینان سے ایک بھرپور حملہ کر سکوں ؟ غرض نظری آدمی کے لیے ہر قابل تصور تجویز لے آنا ممکن ہے، کیوں کہ جن تخیلات کے عالم میں وہ رہتا ہے، وہاں حالات اور واقعات موجود نہیں ہوتے، صرف خیالات ہی خیالات ہوتے ہیں ،مگر کام کرنے والا واقعات کی دنیا میں کام کرتا ہے اور اس پر کام چلانے کی ذمہ داری ہوتی ہے،اس لیے وہ عملی مسائل کو کسی حال میں نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ایک اور حیثیت سے بھی نظریت اور حکمت عملی میں ٹھیک ٹھیک توازن قائم رکھنا اس شخص کے لیے ضروری ہے جو واقعات کی دنیا میں عملاً اپنے نصب العین تک پہنچنا چاہتا ہو۔ آئیڈیل ازم کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنے نصب العین کی انتہائی منزل سے کم کسی چیز کو آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے،اور جن اصولوں کو وہ پیش کرتا ہے،ان پر سختی کے ساتھ جما رہے۔ مگر واقعات کی دنیا میں یہ بات جوں کی توں کبھی نہیں چل سکتی۔ یہاں نصب العین تک پہنچنے کا انحصار ایک طرف ان ذرائع پر ہے جو کام کرنے والے کو بہم پہنچیں ۔ دوسری طرف ان مواقع پر ہے جو اسے کام کرنے کے لیے حاصل ہوں ۔اور تیسری طرف موافق اور ناموافق حالات کے اس گھٹتے بڑھتے تناسب پر ہے جس سے مختلف مراحل میں اسے سابقہ پیش آئے۔ یہ تینوں چیزیں مشکل ہی سے کسی کو بالکل ساز گار مل سکتی ہیں ۔ کم ازکم اہل حق کو تو یہ کبھی سازگار نہیں ملی ہیں اور نہ آج ملنے کے کوئی آثار ہیں ۔اس صورت حال میں جو شخص یہ چاہے کہ پہلا قدم آخری منزل ہی پر رکھوں گا،او رپھر دوران سعی میں کسی مصلحت وضرورت کی خاطر اپنے اصولوں میں کسی استثنا اور کسی لچک کی گنجائش بھی نہ رکھوں گا،وہ عملاً اس مقصد کے لیے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ یہاں آئیڈیل ازم کے ساتھ برابر کے تناسب سے حکمت عملی کا ملنا ضروری ہے۔وہی یہ طے کرتی ہے کہ منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے راستے کی کن چیزوں کو آگے کی پیش قدمی کا ذریعہ بنانا چاہیے، کن کن مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، کن کن مواقع کے ہٹانے کومقصدی اہمیت دینی چاہیے اور اپنے اصولوں میں سے کن میں بے لچک ہونا اور کن میں اہم تر مصالح کی خاطر حسب ضرورت لچک کی گنجائش نکالنا چاہیے۔ اس معاملے میں توازن کا بہترین نمونہ نبیؐ کے طرز عمل میں ملتا ہے۔آپ کی زندگی میں اس کی جو بے شمار مثالیں ملتی ہیں ، ان میں سے میں یہاں صرف ایک مثال پیش کروں گا۔ آپؐ جو نظام زندگی قائم کرنے کے لیے مبعوث ہوئے تھے، وہ پوری نوع انسانی کے لیے تھا، صرف عرب کے لیے نہ تھا۔ مگر عرب میں اس کا قائم ہونا اورپوری طرح جم جانا دنیا میں اس کے قیام کا ایک ناگزیر ذریعہ تھا۔ کیوں کہ آپ کو اپنے مشن کی کامیابی کے لیے جو مواقع عرب میں حاصل تھے وہ اور کہیں نہ تھے۔ اس لیے آپ نے اس کو مقصدی اہمیت دی، بیرونی دنیا میں دعوت پہنچانے کی صرف ابتدائی تدبیروں پر اکتفافرمایا، اپنی پوری توجہ اور پوری طاقت صرف عرب میں اقامت دین پر صرف فرمائی اور بین الاقوامیت کی خاطر کوئی ایسا کام نہ کیا جو عرب میں اس مقصد عظیم کی کامیابی کے لیے نقصان دہ ہو۔اسلامی نظام کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تمام نسلی اور قبائلی امتیازات کو ختم کرکے اس برادری میں شامل ہونے والے سب لوگوں کو یکساں حقوق دیے جائیں اور تقویٰ کے سوا فرق مراتب کی کوئی بنیاد نہ رہنے دی جائے۔ اس چیز کو قرآن مجید میں بھی پیش کیا گیااور حضور ﷺ نے بھی بار بار اس کو نہ صرف زبا ن مبارک سے بیان فرمایا، بلکہ عملاًموالی اور غلام زادوں کو امارت کے مناصب دے کر واقعی مساوات قائم کرنے کی کوشش بھی فرمائی۔ لیکن جب پوری مملکت کی فرما ں روائی کا مسئلہ سامنے آیا تو آپ نے ہدایت دی کہ اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ({ FR 1033 }) ’’امام قریش میں سے ہوں ۔‘‘ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ ا س خا ص معاملے میں یہ ہدایت، مساوات کے اس عام اصول کے خلاف پڑتی ہے جو کلیے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے ایسے اہم اصول میں اتنے بڑے استثنا کی گنجائش کیوں پیدا کی گئی؟اس کا جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس وقت عرب کے حالات میں کسی غیر عرب تو درکنار، کسی غیر قریشی کی خلافت بھی عملاًکام یاب نہیں ہو سکتی تھی، اس لیے حضورﷺ نے خلافت کے معاملے میں مساوات کے اس عام اصول پر عمل کرنے سے صحابہ کو روک دیا، کیوں کہ اگر عرب ہی میں حضور ﷺ کے بعد اسلامی نظام درہم برہم ہوجاتا تو دنیا میں اقامت دین کا فریضہ کون انجام دیتا۔({ FR 969 }) یہ اس بات کی صریح مثال ہے کہ ایک اصول کو قائم کرنے پر ایسا اصرار جس سے اس اصول کی بہ نسبت بہت زیادہ اہم دینی مقاصد کو نقصان پہنچ جائے، حکمت عملی ہی نہیں حکمت دین کے بھی خلاف ہے۔ مگر یہ معاملہ اسلام کے سارے اصولوں کے بارے میں یکساں نہیں ہے۔ جن اصولوں پر دین کی اساس قائم ہے، مثلاً توحید اور رسالت وغیرہ،ان میں عملی مصالح کے لحاظ سے لچک پیدا کرنے کی کوئی مثال حضور ﷺ کی سیرت میں نہیں ملتی ، نہ اس کا تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان امور کو آپ ذہن نشین کرلیں تو خود ہی اپنی بہت سی باتوں کا جواب پاسکتے ہیں ۔ تاہم میں کوشش کروں گا کہ آپ کی باتوں پر سلسلہ وار مختصر گفتگو کرکے بھی اپنا موقف واضح کردوں ۔ آپ کا خیال ہے کہ موجودہ نیم اسلامی دستور کو کامل اسلامی دستور میں تبدیل کرنے کے لیے پہلا اور زیادہ بہترطریقہ یہ ہے کہ کتاب وسنت کا علم رکھنے والے اہل تقویٰ اور اہل بصیرت مسلمانوں پر مشتمل لیجس لیچر[legislature] کا قیام عمل میں لایا جائے۔اس غرض کے لیے آپ براہِ راست جدوجہد کو ترجیح دیتے ہیں اور اس براہِ راست جدوجہد کی ضرورت آپ کے نزدیک اس بِنا پر اور بھی زیادہ ہے کہ ملک میں مختلف ومتضاد طبقے دستور کے نام پر اسلام کی عجیب وغریب اور جدید تعبیریں کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ تاہم آپ بدرجۂ آخر یہ گوارا کرنے کے لیے تیار ہیں کہ اس مقصد کے لیے انتخابات کو ذریعہ بنایا جائے۔ اس ارشاد میں جتنی باتیں آپ نے فرمائی ہیں ،ان میں سے کسی کے بھی عملی پہلو پر آپ نے غور نہیں فرمایا۔ واقعات کی دنیا میں ہم جس صورت حال سے دوچار ہیں ،وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مجالس قانون ساز کے قیام کی ابتدا انگریزوں کے دور حکومت میں ہوئی۔ اس نظام کو انھوں نے اپنے نظریات کے مطابق قومی جمہوری، لادینی ریاست کے اصولوں پر قائم کیا۔ انھی اصولوں پر سال ہا سال تک اس کا مسلسل ارتقا ہوتا رہا اور انھی اصولوں پر نہ صرف پوری ریاست کا نظام تعمیر ہوا،بلکہ نظام تعلیم نے ان کے مطابق ذہن تیار کیے۔ ہمارے معاشرے کے مختلف بااثر طبقات نے ان کو پوری طرح اپنا لیا،اور بحیثیت مجموعی سارے معاشرے نے ان کے ساتھ مطابقت پیدا کر لی۔ ان واقعات کی موجودگی میں جتنے کچھ ذرائع ہمارے (یعنی دینی نظام کے حامیوں کے) پاس تھے ،ان کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کوئی آسان کام نہ تھا کہ کم ازکم آئینی حیثیت سے اس عمارت کی اصل کافرانہ بنیاد( لادینیت) کو بدلوا کر اس کی جگہ وہ بنیاد رکھ دی گئی جس کی بِنا پر آپ موجودہ دستور کو نیم دینی تسلیم کررہے ہیں ۔ پچھلے نو سال میں یہ کام جن مشکلوں سے ہوا ہے، ان کو آپ بھول نہ جائیں ، اور اب بھی لادینی رجحانات رکھنے والے بااثر طبقے اس کو ڈھادینے کے لیے جس طرح زور لگا رہے ہیں ،اس کی طرف سے آنکھیں بند نہ کر لیں ۔ کیا ان حالات میں یہ بات عملاًممکن تھی کہ ٹھیٹ اسلامی تصور کے مطابق ایک لیجس لیچر قائم ہوسکتی؟ اور کیا ہماری طرف سے یہ عقل مندی ہوتی کہ جو کم سے کم قابل قبول چیز اس وقت حاصل ہورہی ہے ،اسے لے کر آئندہ کی پیش قدمی کا ذریعہ بنانے کے بجاے ہم پوری مطلوب چیز پر اصرار کرتے او رنہ ملتی تو جو کچھ مل رہا تھا،اسے بھی رد کردیتے؟ اب اس نیم اسلامی دستور کو کامل اسلامی دستور میں تبدیل کرانے کا مسئلہ ہمارے سامنے درپیش ہے، تاکہ آپ کے بقول’’ دستور کے اسلامی تقاضوں کو بغیر کسی تحریف کے صحیح طور پر پورا کیا جاسکے۔‘‘ آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ اس کے لیے ایک ایسی لیجس لیچر(legislature) کی ضرورت ہے جو کتاب وسنت کا علم رکھنے والے اہل تقویٰ واہل بصیرت مسلمانوں پر مشتمل ہو۔مگراس کے لیے آپ انتخابات کے بجاے براہِ راست جدوجہد کو ترجیح دیتے ہیں ۔ذرا اس کا عملی پہلو بھی دیکھیے۔ اس طرح کی لیجس لیچر کے لیے موزوں آدمی نام زد کرنے کا کام تو ظاہر ہے کہ کسی کو نہیں سونپا جاسکتا۔یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ ان افراد کے انتخاب کا حق صرف مدارس دینیہ اور مذہبی جماعتوں اور دین دار لوگوں تک محدود رکھا جائے۔ اور اگر ایسا کیابھی جائے تو ان کے ووٹوں سے بحالت موجودہ جیسے لوگ منتخب ہوکر آئیں گے، ان کے ہاتھوں شاید ہمیشہ کے لیے اسلامی ریاست کے تصور ہی کی مٹی پلید ہوجائے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ عوام کے حق راے دہندگی کے سوا انتخاب کی اور کوئی صورت نہ تو ممکن ہے اور نہ مقابلتاً زیادہ مناسب۔ اس بات کو آپ سمجھ لیں تو یہ بات بھی آپ کی سمجھ میں خود بخود آجائے گی کہ اب اس نیم دینی دستور کے کامل اسلامی دستور میں تبدیل ہونے اور اس کے اسلامی تقاضوں کو بلا تحریف پورا کرنے کا سارا انحصار اس پر ہے کہ ملک کی عام آبادی کو ذہنی اور اخلاقی حیثیت سے اس قابل بنانے کی کوشش کی جائے کہ وہ کتاب وسنت کا علم رکھنے والے اہل تقویٰ و اہل بصیرت لوگوں کے طالب بھی ہوں اور ان کی تلاش بھی کر سکیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ کام بتدریج ایک طویل ہمہ گیر اور جاں گسل محنت سے ہوگا۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ کام خلا میں نہ ہوگا بلکہ ایسی حالت میں ہو گا کہ مزاحم طاقتیں بہت بڑے پیمانے پر زبردست ذرائع اور قوتوں کے ساتھ اسی آبادی کے ذہن اور اخلاق کو بالکل برعکس نوعیت کے انتخاب کے لیے تیار کرتی رہیں گی اور ساتھ ساتھ اپنی اس تیاری کی فصل ہر انتخاب میں کاٹتی بھی رہیں گی، جس سے ان کی قوت مزاحمت یا تو بڑھے گی یا کم ازکم برقرا ر رہے گی۔ اس حالت میں انتخابات کو نظر انداز کرکے صرف براہِ راست جدوجہد پر اکتفا کرنے کا آخر کیا حاصل آپ کی سمجھ میں آتاہے؟ ’’براہِ راست جدوجہد‘‘ کو اگر اس معنی میں لیا جائے کہ آپ خارجی دبائو ڈال کر مطلوبہ نوعیت کی لیجس لیچر کو ازروے دستور لازم کرانا چاہتے ہیں ، یا اس معنی میں کہ آپ ملک میں وہ عام ذہنی واخلاقی انقلاب لانا چاہتے ہیں جس سے کتاب وسنت کا علم رکھنے والے اہل تقویٰ واہل بصیرت لوگ لیجس لیچر پر غالب یا پوری طرح قابض ہوجائیں ، دونوں صورتوں میں یہ نتیجہ عملاً جب بھی رونما ہو گا، محض باہر سے براہِ راست نہ ہوگا، بلکہ انتخابی نظام کے توسط ہی سے ہو گا، خواہ اس واسطے کو آپ آج استعمال کریں یا دس بیس یا پچاس سال کے بعد۔ پھر جب صورت واقعہ یہ ہے تو یہ براہِ راست جدوجہد انتخابات کو نظر انداز کرنے کے بجاے ان کے ساتھ ساتھ کیوں نہ ہو؟ کیوں نہ ایساہو کہ عام ذہنی واخلاقی انقلاب کے لیے براہِ راست جدوجہد بھی پوری طاقت کے ساتھ کی جائے، اور اس میں جتنی جتنی کامیابی نصیب ہو،اسے انتخابات پر بالواسطہ یا بلاواسطہ اثر انداز ہونے کے لیے استعمال بھی کیا جاتا رہے۔اس محاذ کو مزاحم طاقتوں کے لیے بالکل کھلا چھوڑ دینے میں آپ کیا فائدہ دیکھتے ہیں ، اور کیا آپ کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جتنی مدت بھی آپ اسے ان کے لیے خالی چھوڑنے کے بعد اس کی طرف رجوع کریں گے(اور رجوع بہرحال آپ کو اپنے مقصد کے لیے کبھی نہ کبھی کرنا پڑے گا)قدم رکھنے کی جگہ کو تنگ سے تنگ تر ہی پائیں گے۔ (ترجمان القرآن،جولائی۱۹۵۷ء)

Leave a Comment