اقوال ائمہ کے مقابلے میں قوی الاسناد حدیث کا حکم

کیا یہ قولِ ائمہ کہ ان کے فیصلوں کے مقابلے میں قوی الاسناد حدیث ہی قابلِ قبول ہے،صحیح ہے؟
جواب
ائمۂ مجتہدین نے جو کچھ فرمایا ہے وہ بالکل صحیح ہے اور میں بھی اسی کا قائل ہوں ۔ لیکن میں نے جو کچھ لکھا ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ بسا اوقات صحیح الاسناد حدیث متن کے اعتبار سے کمزور پہلو رکھتی ہے اور کتاب وسنت سے جو دوسری معلومات ہم کو حاصل ہوئی ہیں ،ان کے ساتھ اس کا متن مطابقت نہیں رکھتا۔ایسے حالات میں ناگزیرہوجاتا ہے کہ یا اس حدیث کی تأویل کی جائے اور یا اسے ردّ کیا جائے۔ (ترجمان القرآن، جولائی،اکتوبر ۱۹۴۴ء)

Leave a Comment