اللّٰہ تعالیٰ کی قُدرت صناعی (پھلوں کے ذائقے میں فرق کی وجہ)

مجھے علم نباتات میں کوئی مہارت نہیں ، تاہم تفہیم القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے چند سوالات پیدا ہوئے ہیں جنھیں اطمینان حاصل کرنے کے لیے پیش کرتا ہوں : ترجمان القرآن،جنوری، فروری ۱۹۵۱ءصفحہ۱۴۳ پر یہ حاشیہ درج ہے کہ ’’ایک ہی درخت ہے اور اس کا ہر پھل دوسرے پھل سے نوعیت میں متحد ہونے کے باوجود شکل،جسامت اور مزے میں مختلف ہے۔‘‘اور’’ ایک ہی جڑ ہے اور اس سے دو الگ تنے نکلتے ہیں جن کے پھل ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔‘‘ ’’مزے میں مختلف‘‘ ہونے کی یہ راے جو آپ نے لکھی ہے،یہ مشاہدے کی بِنا پر ہے یا کتابی علم کی بِنا پر؟اگر واقعہ یہی ہے تو بہتر تھا کہ چند ایک درختوں کی مثالیں بھی دی جاتیں ۔میرا تو خیال یہ ہے کہ ایک ہی درخت کے پھل کے مزے میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا،البتہ درخت کے جس حصے کو سورج کی روشنی وافر ملتی ہے اس حصے کے پھل پہلے پختہ ہو جاتے ہیں ۔ پھلوں کی شکلوں اور جسامت میں تو فرق ہوسکتا ہے مگر مزے میں فرق ہونا سمجھ میں نہیں آیا۔
جواب
ہر درخت کے پھلوں کی جسامت،رنگ اور مزے کا انحصار اُس غذا پر ہے جو ان کو جڑ کے توسط سے پہنچتی ہے، اور اس سردی گرمی پر ہے جو انھیں دھوپ، ہوا اور دوسرے شب وروز کے اثرات سے پہنچتی ہے۔یہ سب عوامل چوں کہ تمام پھلوں پر یکساں طریقے سے اثر انداز نہیں ہوتے، بلکہ ہر ایک پھل اور دوسرے پھل کے معاملے میں ان کے اثرات کچھ نہ کچھ متفاوت ہوتے ہیں ،اس لیے جس طرح جسامت اور رنگ میں تھوڑا بہت تفاوت ضرور ہوتا ہے،اسی طرح مزے میں بھی کم وبیش تفاوت ہوا کرتا ہے،اگرچہ بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ ایک عالم گیر حقیقت ہے کہ کائنات میں کوئی دو چیزیں بھی ایسی نہیں ہیں جو جملہ حیثیات سے بالکل یکساں ہوں ۔ہر شے کے اندر اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسی انفرادیت رکھ دی ہے جس میں کوئی دوسری شے اس کی شریک نہیں ہے۔حد یہ ہے کہ ایک ہی آدمی کے جسم کے ایک ہاتھ کے نشانات دوسرے ہاتھ کے نشانات سے مختلف ہوتے ہیں ،ایک ہی چہرے کا دایاں رخ بائیں رخ سے مختلف ہوتا ہے،ایک ہی سر کے دو بال بالکل یکساں نہیں ہوتے۔اس طرح صانع کامل واکمل نے یہ دکھایا ہے کہ اُس کی صناعی کمال درجے کی جدت طراز ہے۔اس حیرت انگیز شان خلاقی پر اگر آدمی کی نگاہ ہو تو اُسے یقین آجائے کہ اﷲ تعالیٰ اس بے پایاں کائنات کے ہر گوشے میں ہر وقت ہر چیز پر تصرف اور توجہ فرما رہا ہے، اور ہر آن اُس کا تخلیقی اور تدبیری کام عالم گیر پیمانے پر جاری ہے۔سخت نادان اور جاہل ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ خدا اس کارخانۂ ہستی کو حرکت میں لا کر کسی گوشے میں بے کار بیٹھ گیا ہے اور اب یہ کارخانہ ایک لگے بندھے قاعدے کے مطابق آپ سے آپ چل رہا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو تخلیق میں بے پایاں تنوع اور صنعت میں یہ کمال درجے کا تجدد کیسے پایا جاسکتا۔ (ترجمان القرآن ، اپریل،مئی۱۹۵۱ء)

Leave a Comment