امام حسینؓ کا یزید کے خلاف کھڑا ہونا

جب حضرت حسینؓ کا وقت آیا تو سب صحابہ ؓ نے انھیں کوفہ جانے سے منع بھی کیا لیکن آپ نے کسی کی بات بھی نہ سنی۔ آپ ہی فرمائیں کہ ایک منظم حکومت کے مقابلے میں جب کہ سواے ہلاکت کے کچھ نظر نہ آتا ہو،مقابلے کے لیے نکل کھڑا ہونا کوئی دانش مندانہ اقدام ہے؟ کیا اسلام یہی تعلیم دیتا ہے؟ایسے مواقع پر جب کہ بالکل انسان بے بس ہو کسی منظم حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتو اس کا انجام ایسا ہی ہوگا۔
جواب
حضرت حسینؓ کے معاملے میں جو ذہنی اُلجھنیں بعض حضرات نے دماغوں میں ڈال دی ہیں ، ان سب کو صاف کرنا اس خط میں میرے لیے مشکل ہے۔کبھی فرصت ہوئی تو ایک مفصل مضمون لکھوں گا۔سردست صرف اتنا کہنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ اگر ان حضرات کا نقطۂ نظر اختیار کرلیا جائے تو مسلمانوں کی حکومت ایک دفعہ بگڑ جانے کے بعد پھر اس کی اصلاح کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔پھر تو اسے بدلنے کی ہر تدبیر گناہ قرارپائے گی اور بگڑے ہوئے حاکموں کی اطاعت میں سر جھکا دینا صواب بن جائے گا۔یزید کی خلافت بھی بر حق ہو تو آج کے ظالم وجبار لوگ کیا بُرے ہیں ،ان کے خلاف کیوں شور مچایئے۔ (ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۶۲ء)

Leave a Comment