انتخابات کے ذریعے دستورِ حکومت کو تبدیل کرنے کا جواز

آپ نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ کسی مرحلے پر اگر ایسے آثار پیدا ہوجائیں کہ موجود الوقت دستوری طریقوں سے نظامِ باطل کو اپنے اُصول پر ڈھالا جاسکے تو ہمیں اس موقع سے فائدہ اُٹھانے میں تأمل نہ ہوگا۔ اس جملے سے لوگوں میں یہ خیال پیداہورہا ہے کہ جماعت اسلامی بھی ایک حد تک اسمبلیوں میں آنے کے لیے تیار ہے اور الیکشن کو جائز سمجھتی ہے ۔اس معاملے میں جماعتی مسلک کی توضیح فرمایئے۔
جواب
الیکشن لڑنا اور اسمبلی میں جانا اگر اس غرض کے لیے ہو کہ ایک غیراسلامی دستور کے تحت ایک لادینی جمہوری ریاست(Secular Democratic State)کے نظام کو چلایا جائے تو یہ ہمارے عقیدۂ توحید اور ہمارے دین کے خلاف ہے۔لیکن اگر کسی وقت ہم ملک کی راے عام کو اس حد تک اپنے عقیدہ ومسلک سے متفق پائیں کہ ہمیں یہ توقع ہو کہ عظیم الشان اکثریت کی تائید سے ہم ملک کا دستورِ حکومت تبدیل کرسکیں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اس طریقے سے کام نہ لیں ۔ جو چیز لڑے بغیر سیدھے طریقے سے حاصل ہوسکتی ہو ،اس کو خواہ مخواہ ٹیڑھی انگلیوں ہی سے نکالنے کا ہم کو شریعت نے حکم نہیں دیا ہے۔مگر یہ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ ہم یہ طریقِ کار صرف اس صورت میں اختیار کریں گے جب کہ: اوّلاً، ملک میں ایسے حالات پیدا ہوچکے ہوں کہ محض راے عام کا کسی نظام کے لیے ہم وار ہوجانا ہی عملاً اس نظام کے قائم ہونے کے لیے کافی ہوسکتا ہو۔ ثانیاً، ہم اپنی دعوت و تبلیغ سے باشندگانِ ملک کی بہت بڑی اکثریت کو اپنا ہم خیال بناچکے ہوں اور غیر اسلامی نظام کے بجاے اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے ملک میں عام تقاضا پیدا ہوچکا ہو۔ ثالثاً، انتخابات غیر اسلامی دستور کے تحت نہ ہوں بلکہ بناے انتخاب ہی یہ مسئلہ ہو کہ ملک کا آئندہ نظام کس دستورپر قائم کیا جائے۔ (ترجمان القرآن،دسمبر ۱۹۴۵ء)

Leave a Comment