باجماعت نمازِ تراویح کا مسنون ہونا

کیا رمضان میں نمازِ تہجد سے تراویح افضل ہے؟اگر ایک آدمی رمضان میں عشا پڑھ کر سو رہے اور تراویح پڑھے بغیر رات کو تہجد پڑھے(جب کہ تہجد کے لیے خود قرآن مجید میں صراحتاً ترغیب دلائی گئی ہے اور تراویح کو یہ مقام حاصل نہیں ) تو اس کے لیے کوئی گناہ تو لازم نہ آئے گا؟واضح رہے کہ تراویح اور تہجد دونوں کو نبھانا مشکل ہے۔
جواب
نبیﷺ دوسرے زمانوں کی بہ نسبت رمضان کے زمانے میں قیام لیل کے لیے زیادہ ترغیب دیا کرتے تھے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیز آپﷺ کو بہت محبوب تھی۔ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ رمضان المبارک میں تین رات نماز تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائی اور پھر یہ فرما کر اُسے چھوڑ دیا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ ہوجائے۔({ FR 2055 })اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تراویح میں جماعت مسنون ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تراویح فرض کے درجے میں نہیں ہیں ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ لوگ ایک پسندیدہ سنت کے طور پر تراویح پڑھتے رہیں ،مگر بالکل فرض کی طرح لازم نہ سمجھ لیں ۔ (ترجمان القرآن، اپریل،مئی۱۹۵۲ء)

Leave a Comment