برائی کامحرک اپنی ذات یا شیطان

جب بھی کسی برائی کے سرز د ہوجانے کے بعد مجھے مطالعۂ باطن کا موقع ملا ہے،تو میں نے یوں محسوس کیا ہے کہ خارج سے کسی قوت نے مجھے غلط قدم اٹھانے پر آمادہ نہیں کیا بلکہ میری اپنی ذات ہی اس کی ذمہ دار ہے۔جب میری جبلی خواہش میرے فکر پر غالب آجاتی ہے اور میری روح پر نفسانیت کا قبضہ ہوجاتا ہے تو اس وقت میں گناہ کا ارتکاب کرتا ہوں ۔باہر سے کوئی طاقت میرے اندر حلول کرکے مجھے کسی غلط راہ پر نہیں لے جاتی۔ مگر جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری ان فکری اور عملی گمراہیوں کا محرک شیطان ہے جو اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے۔یہ دشمن انسانیت کبھی خارج سے اور کبھی انسان کے اندر گھس کر اسے غلط راستوں پر لے جاتا ہے۔اس سلسلے میں دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ آپ بھی شیطان کو ایک مستقل وجود رکھنے والی ایسی ہستی تسلیم کرتے ہیں جو انسان کو بہکاتی اور پھسلاتی ہے۔
جواب

شیطان کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ وہ جن کی نوع کا ایک فرد ہے ،اور اس نوع کے بہت سے افراد نوع انسانی کی طرح مومن بھی ہیں اور کافر بھی۔نیز شیاطین جن انھی کافروں میں سے ہیں ۔اسی طرح قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جنوں کی نوع ناری الخلقت ہے۔ مجھے اس نوع کے وجود میں کوئی اشکال محسوس نہیں ہوتا۔ مادّہ اور قوت (energy) کے متعلق ہماری معلومات درحقیقت ابھی بالکل ابتدائی ہیں ۔ قوت کے مادّی صورت اختیار کرنے کے بعد کی حالتوں کے متعلق تو ہم نسبتاً کچھ زیادہ جانتے ہیں مگر مادّی صورت اختیار کیے بغیر محض قوت رہنے کی حالت میں وہ کیا کیا کچھ ہوسکتی ہے ،اس علم کی سرحد سے ابھی ہم آگے نہیں بڑھ سکے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے ،اور آخر کیوں ممکن نہیں ہے کہ محض توانائی ہونے کی حالت میں بھی مختلف انواع کی موجودات اس کائنات میں ہوں ؟ اور ان میں بعض قسم کی موجودات ایسی بھی ہوں جن کے افراد شعور وارادہ اور حرکت وعمل کی قدرت کے ساتھ اپنی ایک مستقل ذات رکھتے ہوں ؟شیطان میرے نزدیک اسی نوعیت کی ایک مخلوق ہے اور یہ مخلوق بھی ہماری طرح اس کرۂ زمین میں پائی جاتی ہے۔
رہا ہمارے نفس کے ساتھ اس کا ربط(contact)اور اس کا ہمارے اندر کے معرکۂ خیر وشر میں شرکے رجحانات کو تقویت پہنچانا،تو یہ بھی کوئی ناقابل یقین یا ناقابل تعقل بات نہیں ہے۔اپنے نفس کے متعلق ابھی ہماری معلومات بہت کم ہیں اور اس کی ترکیب کی گتھیوں کو ہم سلجھا نہیں سکے ہیں ۔ یہ بات بعید نہیں کہ جس وقت ہم اپنے اندر ایک کش مکش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ آخری فیصلہ ابھی ہم نے نہیں کیا ہوتاہے کہ خیر اور شر میں سے کس پہلو کو اختیار کریں ،اس وقت کوئی غیر محسوس خارجی مؤثر ہمارے رجحاناتِ شر کو تقویت پہنچاتا ہو،اور اسی طرح کوئی دوسرا غیر محسوس خارجی مؤثر(یعنی فرشتہ) ہمارے رجحانات خیر کو مدد دے رہا ہو،بغیر اس کے کہ ہم اس کے عمل اور طریق عمل کا ادراک کر سکیں ۔ اگرچہ اس کا ادراک ہمیں نہیں ہوتا، لیکن اگر ایسی کش مکش کے مواقع پر بہت زیادہ غور سے اپنی اندرونی حالت کا جائزہ لیا جائے تو ایک دھند لا سا خیال ضرور آتا ہے کہ خارج سے بھی کوئی چیز ہمارے داخلی عوامل کے ساتھ کام کررہی ہے۔ میں نے خود کبھی کبھی اس کو محسوس کیا ہے۔ بہرحال کسی غیر مادّی صاحب تشخص ہستی کا ہمارے قواے نفسانی سے براہِ راست ربط قائم کرنا اور ان کو متأثر کرنا کوئی بعیدازامکان بات نہیں ہے اور نہ اس کا تصور کرنا کچھ مشکل ہے۔ الا یہ کہ ہم پہلے ہی سے یہ فرض کر بیٹھیں کہ اس کائنات میں ہماری موجودات کے سوا اور کسی قسم کی موجودات نہیں ہیں ۔ (ترجمان القرآن، نومبر۱۹۵۹ء)