بنو عباس کی خلافت اور المامون

خلفاے بنو عباس خصوصاً الما ٔمون کے متعلق آپ کی کیاراے ہے؟
جواب

اصولی حیثیت سے خلافت عباسیہ کی پوزیشن بھی وہی ہے جو خلافت بنی امیہ کی ہے۔ فرق بس اتنا تھا کہ خلفاے بنی امیہ دین کے معاملے میں بے پروا (Indifferent) تھے، اور اس کے برعکس خلفاے بنی عباس نے اپنی مذہبی خلافت اور روحانی ریاست کا سکہ بٹھانے کے لیے دین کے معاملے میں ایجابی طور پر دل چسپی لی۔ لیکن ان کی یہ دل چسپی اکثر دین کے لیے مضر ہی ثابت ہوئی۔ مثلاًمامون کی دل چسپی نے جو شکل اختیار کی،وہ یہ کہ اس نے ایک فلسفیانہ مسئلے کو، جو دین کا مسئلہ نہ تھا،خواہ مخواہ دین کا ایک عقیدہ بنایا اور پھر حکومت کی طاقت سے زبردستی ا س کو تسلیم کرانے کے لیے ظلم وستم کیا۔
(ترجمان القرآن،اکتوبر ۱۹۶۱ء)


Leave a Comment