تحریک اسلامی کی دعوتی ترجیحات

اگر آپ اپنی اسلامی تحریک کو کفار و مشرکین سے شروع کرتے اور ’’نسلی مسلمانوں ‘‘ کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتے تو کیا یہ اچھا نہ ہوتا؟ (اس کے علاوہ اس مراسلہ میں ’’نسلی مسلمان‘‘ کی اصطلاح پر بھی سخت آزردگی کا اظہار کیا گیا ہے)
جواب
آپ کے اس فقرے کو پڑھ کر بڑا افسوس ہوا۔ مجھے معاف فرمائیں اگر میں صاف کہوں کہ اس فقرے میں مجھے یہود یانہ ذہنیت کی بو آتی ہے۔ برا ے خدا سوچیے کہ اگر یہ دعوت حق ہے تو نسلی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کی طرف رجوع کرنے کا آپ کیوں مشورہ دے رہے ہیں ؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حق آپ لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہے اور آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اسے آپ سے دور ہی دور رکھا جائے؟ لیکن اگریہ دعوت باطل ہے، تو خواہ نسلی مسلمان ہو یا کفار و مشرکین آپ کو اصرار کرنا چاہیےکہ دونوں گروہ اس سے محفوظ رہیں ۔ ’’نسلی مسلمانوں ‘‘ کا لفظ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں بری طرح چبھا ہے اور اسی لیے آپ اسے طعن آمیز طریقہ سے بار بار دہراتے ہیں ۔ لیکن اگر آپ کے پاس ان تمام نسلی مسلمانوں کو اصلی مسلمان ثابت کرنے کے کچھ دلائل ہیں تو ارشاد فرمائیے تاکہ میں پھر ان الفاظ سے توبہ کرلوں ؟ (ترجمان القرآن، جنوری، فروری ۱۹۴۵ئ)

Leave a Comment