تدبیرِ اُمور ِکائنات

آیت يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْہِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُہٗٓ اَلْفَ سَـنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(السجدہ:۵ ) ’’وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی رُوداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمھارے شمار سے ایک ہزار سال ہے۔‘‘ کا مفہوم میری سمجھ میں نہیں آتا۔اس وقت میرے سامنے تفسیر کشاف ہے۔صاحب کشاف کی توجیہات سے مجھے اتفاق نہیں ہے،کیوں کہ قرآنی الفاظ ان توجیہات کی تصدیق نہیں کرتے۔ان پر تبصرہ لکھ کر آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔آپ کے نزدیک اس آیت کا صحیح مطلب کیا ہے؟ لفظ یَعْرُجُ اِلَیْہِ کا لغوی مدلول پیش نظر رہنا چاہیے۔نیز یہ لفظ ’’الامر‘‘ قرآن کی اصطلاح میں کن کن معنوں میں مستعمل ہوتا ہے؟
جواب
آیت يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَى الْاَرْضِ ( السجدہ: ۵ ) متشابہات کے قبیل سے ہے۔ اس کا مجمل مفہوم تو سمجھ میں آسکتا ہے،مگر تفصیلی مفہوم متعین کرنا مشکل ہے،کیوں کہ ہمارے پاس اس کے لیے کوئی ذریعۂ علم نہیں ہے۔مجملاً جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ زمین کی تدبیر صرف زمین ہی پر نہیں ہورہی ہے بلکہ وہ ہستی اس انتظام کو چلا رہی ہے جو سارے جہان کے وجود کی ناظم ومدبر ہے۔اس تدبیر کا سر رشتہ عالم بالا میں ہے جہاں زمین اور اُس کے مختلف النوع معاملات سے متعلق ایک منصوبہ تیار ہوتا ہے۔ کارکنان قضا وقدر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے پر مامور ہوتے ہیں ، اور پھر وقتاً فوقتاً اس کے ہر مرحلے کی تکمیل پر اپنی رپورٹ اوپر بھیجتے یا پیش کرتے ہیں ۔ اس منصوبے میں ایک ایک مرحلے کی اسکیم بسا اوقات ایک ایک ہزار سال اور پچاس پچاس ہزار سال کی ہوتی ہے۔ ہمارے لیے وہ ایک مدت دراز ہے مگر مدبر کائنات کے ہاں وہ گویا ایک دن کا کام ہے۔ یَعْرُجُ اِلَیْہِ کے لغوی مدلول کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا مطلب میری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اس سے مراد کارکنان قضا وقدر کا اپنے کام کی رپورٹ لے کر پیشی خداوندی میں جانا ہے۔بالفاظ دیگر وہ کام جو پہلے اسکیم کی حیثیت سے ان کے سپرد کیا گیا تھا،پایۂ تکمیل کو پہنچنے پر روداد کی شکل میں اوپر (forward)کیا جاتا ہے۔ ’’الامر‘‘ سے مرا دایسے مواقع پر ’’کائنات کا انتظام‘‘ہوا کرتا ہے۔({ FR 1985 }) (ترجمان القرآن، اپریل،مئی۱۹۵۲ء)

Leave a Comment