تدریج کی حکمتِ عملی

آپ نے اپنے مکتوب کے دوسرے پیراگراف کے آخری حصے میں تحریر فرمایا ہے کہ’’ہمیں اپنے آخری مقصود کے راستے میں کچھ درمیانی مقاصد اور قریب الحصول مقاصد بھی سامنے رکھنے ہوتے ہیں ، تاکہ ان میں سے ایک ایک کو حاصل کرتے ہوئے ہم آگے بڑھتے جائیں ۔‘‘ دراصل یہ ایک سخت مغالطہ ہے جو بہت سی تحریکات کو، بالخصوص مسلمانوں کی بیش تر جماعتوں کو پیش آتا رہا اور وہ کسی قریب الحصول مقصد میں ایسے ڈوبے کہ: ع دریں ورطہ کشی فروشد ہزار! کہ پیدا نہ شد تختۂ برکنار({ FR 967 }) کا مصداق بن کر رہ گئے۔ حالاں کہ درمیانی چیزوں کو زیادہ سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل ہے تو محض ایک ذریعہ ہونے کی۔اگرچہ آپ کا یہ اہتمام قابل ستائش ہے کہ ’’آخری مقصود نگاہوں سے اوجھل نہ رہے‘‘ لیکن میرے نزدیک درمیانی چیزوں کو قریب الحصول مقصد کا درجہ دینا ہی خطرے سے خالی نہیں ۔ ان کی حیثیت محض ذریعے کی رہنی چاہیے،مقصد کی حیثیت سے ان پر ہرگز زور نہ دینا چاہیے۔ آئیڈیل ازم اور حکمت عملی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا صحیح طریقہ جماعت کے مقصد اورطریق کار میں یکسانیت وہمواریت کا برقرار رہنا ہے۔نیز مقصد اور طریق کار کے درمیان ایسا ربط قائم رکھنا ہے جو ہر معاملے پر راستے کے ہرموڑ کو منزل کی طرف پھیر دینے والا ہو،موجودہ دور کے ذہنی انتشار اور پراگندگی افکار پر غالب آنے کے لیے سب سے بڑی دانائی اور حکمت عملی یہ ہی ہے کہ مقصد کی ہمہ گیری کو کمزور نہ ہونے دیا جائے۔ لادینی دستور کی موجودگی میں ہماری جنگ ایک کھلے دشمن کے ساتھ تھی۔فرعون اور ابولہب کی ذہنیتوں سے مقابلہ درپیش تھا۔ آہن وسیف اور خار وآتش سے گزرنے والا وہ راستہ اگرچہ خوف ناک ضرور تھا مگر فریب ناک نہیں تھا۔ لیکن ایک نیم دینی دستو رکی موجودگی میں ہمارا سابقہ منافقانہ ذہنیتوں سے پڑ جاتا ہے۔جس طرح حضرت علیؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کو پیش آیا تھا۔ پھر نیم ملا ّ خطرۂ ایمان کی مشہور کہاوت سے بھی آپ بے خبر نہیں ہوں گے۔میرے نزدیک جہاں ریاست کو ایک قطعی لادینی ریاست بننے سے روک دینا بڑی کامیابی ہے ،وہاں ریاست کا نیم دینی ریاست بن کر رہ جانا بھی ایک بہت بڑے خطرے کا آغاز ہوسکتا ہے جس سے نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اسلام کے لیے بھی بہت سے داخلی فتنے پیدا ہوسکتے ہیں ۔ اس لیے اس صورت حال کا جلد سے جلد تدارک کیا جانا نہایت ضروری ہے ورنہ دستور کا نام اسلامی دستورہونا برعکس نہند نام زنگی کافور کا مصداق ہوجائے گا، اور دستور کا یہ اعلان کہ کوئی قانون، کتاب وسنت کے خلاف نہ بنایا جائے گا،۱۸۵۷ء کے ملکۂ وکٹوریہ کے مشہور اعلان کی طرح کامحض کاغذی محضر بن کررہ جائے گا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’مذہبی معاملات میں حکومت کی طرف سے کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔‘‘
جواب
آپ نے موجودہ نیم اسلامی دستور کے جتنے خطرات بتائے ہیں ،وہ سب صحیح ہیں ۔ اس میں قریب کے جتنے پہلو آپ نے گناے ہیں ،ان سے بہت زیادہ کے ہم قائل ہیں ۔ اس کو پورے اسلامی دستور سے بدلنے کی جدوجہد پر جتنا بھی زور آ پ دیں ، بالکل حق بجانب ہے۔ مگر جب ان چیزوں کے بیان میں آپ اتنا مبالغہ کرتے ہیں کہ اس نیم دینی دستور کی بہ نسبت لادینی دستو ربن جانا قابل ترجیح ٹھیرتا ہے، تو آپ سے اتفاق کرنا ہمارے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کفار کی ریاست کا کفر پر قائم ہونا اور چیز ہے اور مسلمانوں کی قومی ریاست کا کفر پر قائم ہوجانا بالکل ایک دوسری ہی چیز۔ ان دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔اگر شروع ہی میں پاکستان کی اس نوزائیدہ ریاست کو اس راستے پر جانے سے روکنے کی کوشش شروع نہ کردی جاتی اور مسلمانوں کے قومی جذبات کو اسلامی ریاست کے مطالبے کی طرف نہ موڑ دیا جاتا تو یہاں تھوڑی ہی مدت کے اندر اسلامی نظام کی جدوجہد کے راستے میں موجودہ حالت کی بہ نسبت بدرجہ ہا زیادہ سخت مشکلات پیدا ہوجاتیں ۔یہ کوئی عقل مندی نہیں ہے کہ آدمی محض کوہ کنی کے ذوق میں اپنے آگے مشکلات کے پہاڑ قائم ہو جانے دے، پھر ان کو توڑنے کی فکر کرے۔ سب سے بڑی سہولت جو اس نیم دینی دستور کی ساری پرفریبیوں اور خطر ناکیوں کے باوجود ہمارے لیے پیدا ہو گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اب آئینی وجمہوری طریقوں سے مطلوبہ تبدیلی لانے کا راستہ کھل گیا ہے۔ اب ہم صحیح توازن کے ساتھ یہ کوشش کرسکتے ہیں کہ ایک طرف باشندگان ملک کے افکار وتصورات اور اخلاقی قدروں کو بدلتے چلے جائیں اور دوسری طرف جتنی جتنی یہ تبدیلی ہوتی جائے ،اسی تناسب کے ساتھ ہم انتخابات پر اثر انداز ہوکر وہ طاقت پیدا کرتے جائیں جس سے ملک کے نظام زندگی کو عملاً اسلامی نظام میں تبدیل کرنے کے لیے ریاست کے ذرائع استعمال کیے جاسکیں ۔ یہاں تک کہ اس تدریجی نشو ونما سے ایک وقت وہ آجائے جب معاشرہ اور ریاست دونوں ٹھیک اسلام کے مطابق ہوجائیں ۔ خاص لادینی دستور بن جانے کی صورت میں یہ راستہ ہمارے لیے بالکل بند رہتا۔ ہمیں اس مقصد کے لیے دوسرے بدرجہ ہا زیادہ کٹھن راستے ڈھونڈنے پڑتے۔ اور پھر بھی آخر وقت تک یہ سوال ہمارے لیے سخت پریشان کن رہتا کہ وہ آخری فعل(final act) کیا ہو جس سے ریاست کی کافرانہ نوعیت عملاًاسلامی نوعیت میں تبدیل ہوجائے۔ علاوہ بریں یہ بات کہ ہم نے پچھلے آٹھ نو سال کی جدوجہد میں صرف اتنا ہی کام کیا ہے کہ ریاست کوایک قطعی لادینی ریاست بن جانے سے روک دیا اور ایک نیم دینی دستور بنوالیا، ایک بہت بڑی غلط فہمی اور اصل حقیقت کا بڑا غلط اندازہ ہے۔اصل معاملہ یہ ہے کہ ہماری دستوری جدوجہد محض دستور بنوالینے کی جدوجہد تھی ہی نہیں ۔ وہ دراصل یہاں دو رجحانات کی کش مکش تھی۔ایک لادینی رجحان پوری طرح ملک پر قابض تھا۔ اس کی پشت پر صرف حکومت ہی کے تمام ذرائع نہ تھے بلکہ پوری دنیا کے غالب نظام کا فکری سرمایہ اور ہماری اپنی قوم کے سب سے زیادہ طاقت ور اور ذی اثر طبقوں کا ذہنی اور عملی تعاون بھی تھا اور اسی رجحان کو یہ فیصلہ کرنے کے آئینی اختیارات بھی کلیتاً حاصل تھے کہ اس نوزائیدہ مملکت کا آئندہ نظام کن تصورات اور کن اصولوں پر قائم ہو۔ کیوں کہ دستور ساز اسمبلی ایک فرد واحد کے سوا پوری کی پوری ان لوگوں پر مشتمل تھی جو یا تو بالکل لادینی رجحانات رکھتے تھے یا اسلامی رجحان کے معاملے میں کم ازکم بے پروا تھے۔ دوسری طرف اسلامی رجحان کی پشت پر اسلام کے ساتھ مسلمان عوام کی جذباتی وابستگی کے سوا کوئی دنیوی طاقت نہ تھی، اور اس جذباتی وابستگی کا حال یہ تھا کہ اسے مذہب کے نام پر کوئی نمائشی کھلونا دے کر بہلایا جاسکتا تھا، بلکہ پیٹ اور روٹی کے نام پر اس کارخ اشتراکیت تک کی طرف موڑ دینا ممکن تھا۔ اسلامی حکومت کی جو مبہم سی خواہش لوگوں میں پائی جاتی تھی ،اس کا کوئی واضح تصور ذہنوں میں موجود نہ تھا، حتیٰ کہ اچھے خاصے اہل علم اصحاب کے ذہن کی رسائی بھی شیخ الاسلامی اور قضاے شرعی سے آگے کسی چیز تک نہ جاتی تھی۔ اس مقام سے جدوجہدکی ابتدا ہوکر موجودہ نیم دینی دستور بننے تک جو نوبت پہنچی تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کام بحیثیت مجموعی دینی رحجان کی طاقت بڑھنے اور لادینی رحجان کا زور گھٹنے کے بغیر ہی ہوگیا یا ہوسکتا تھا؟ یہ تو ایک صریح پیمانہ ہے اس امر کا کہ اس آٹھ نوسال کی مدت میں دونوں رجحانات کی طاقتوں کا تناسب کس حد تک بدلا ہے۔آخر یہ نتیجہ محض ایک مطالبۂ دستوری ہی سے تو رونما نہیں ہوگیا ہے۔ جو کچھ آج آپ کے سامنے ہے،وہ اس چیز کا نتیجہ ہے کہ عوام کے جذبات کو جو کسی رخ پر بھی موڑے جاسکتے تھے، قطعیت کے ساتھ اسلامی رجحان کی طرف موڑ دیا گیا۔ اسلامی نظام اور اسلامی ریاست کا ایک صاف اور واضح تصور ان کے سامنے لایا گیا۔ ان کے اندر اس کی اتنی پہچان پیدا کی گئی کہ کسی نمائشی لیبل سے دھوکا نہ کھا سکیں ۔ان میں اس کی پیاس نہیں تو کم ازکم اتنی طلب پیداکردی گئی کہ اس کے سوا کسی چیز پر راضی نہ ہوسکیں ۔ان کی راے عام کو ہموار کرکے اسلامی نظام کی پشت اتنی مضبوط کردی گئی کہ ملک کو کسی اور طرف لے جانا مشکل ہوگیا، اور اب جہاں تک قدم بڑھ چکا ہے،اس سے پیچھے ہٹنا بھی آساں نہ رہا۔ پھر ذہین طبقے کو بھی اسلامی نظام زندگی،اسلامی قانون اور اسلامی دستور کے بارے میں مطمئن کرنے اور ان کی ذہنی الجھنوں کو دُور کرنے کے لیے اچھا خاصا کام کیا گیا ہے، جس کی بدولت آج اس طبقے کا جتنا حصہ لادینی نظام کا مؤید ہے ،اس سے زیادہ حصہ اسلامی نظام کی طرف مائل ہے۔ اس پر مزید یہ کہ اسی مدت میں اسلام کے لیے عملاً کام کرنے والوں اور ان کا ساتھ دینے والوں کی تعداد میں بھی معتدبہ اضافہ ہوا، جس کو اس جدوجہد کے آغاز کی حالت کے مقابلے میں دیکھا جائے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج اس رجحان کی خدمت کے لیے پہلے سے بہت زیادہ ہاتھ اور دماغ اور وسائل فراہم ہوچکے ہیں ۔ یہ سب کچھ نیم دینی دستور بنوا کر ختم نہیں ہوگیا ہے۔ یہی ہمارے آگے کے کام کا سرمایہ ہے۔خدا کے فضل کے بعد اگر کسی چیز کے بل بوتے پر ہم آگے کی تعمیر واصلاح کے لیے کچھ سوچ سکتے ہیں تو وہ یہی پچھلے کام کا فراہم کیا ہوا سرمایہ ہے۔اس کی قدر وقیمت کا انداز ہ کرنے میں مبالغہ جتنا غلط ہے،اتنا ہی غلط اس کا کم اندازہ کرنا بھی ہے۔حقیقت سے زیادہ اندازہ کرنے کا نتیجہ اگر یہ ہوگا کہ ہم وہ کام کرنے کے لیے چل پڑیں گے جس کی طاقت ہمارے پاس نہیں ہے، تو حقیقت سے کم اندازہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو کچھ ہم اس وقت کرسکتے ہیں ، اس کے لیے اقدام کرنے سے رہ جائیں گے۔ اور ہوسکتا ہے کہ اس کے مواقع پھر نہ ملیں یا آج کی بہ نسبت بہت کم رہ جائیں ۔ (ترجمان القرآن،جولائی۱۹۵۷ء)

Leave a Comment