ترویجِ فقہ اور اسلامیت اور مغربیت کی کش مکش

آپ نے تنقیحات میں لکھا ہے کہ ’’وہ ابھی تک اصرار کررہے تھے کہ ترکی قوم میں وہی فقہی قوانین نافذ کیے جائیں جو شامی اور کنز الدقائق میں لکھے ہوئے ہیں ۔‘‘ آپ کا کیا خیال ہے کہ شامی وغیرہ کتب فقہ میں اسلامی قوانین نہیں لکھے ہوئے؟کیا وہ فقہاے اسلام کے خود ساختہ قوانین ہیں جوکہ قرآن وحدیث کے مخالف ہیں ؟ بہرکیف اس کے متعلق آپ کی راے کیا ہے؟ان کتابوں میں یقیناً بعض ایسے مسائل ہیں جو مرجوح ہیں ، مگر ان سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان میں سارے مسائل قوانین اسلام کے خلا ف ہیں ۔ کیا ان میں جزئیات کے علاوہ مسلمانوں کی تنظیم اور اتحاد وغیرہ کا ذکر بسیط نہیں ہے؟اگر ہے تو ان میں کیا کمی ہے۔ اُمید ہے کہ تکلیف فرما کر ہمیں اطمینا ن دلائیں گے۔
جواب

اس سے جو شبہہ آپ کے دل میں پیدا ہوا ہے اور جو شبہہ دیو بند ومظاہر العلوم کے مفتیوں نے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے،اس کی تردید خود اسی مضمون سے ہوسکتی تھی جس میں وہ عبارت واقع ہوئی ہے، بشرطیکہ مضمون کو بغور پڑھا جاتا۔ آپ کے پاس اگر تنقیحات موجود ہے تو اس میں وہ مضمون نکالیں جس کا عنوان ہے’’ترکی میں مشرق ومغرب کی کش مکش‘‘۔ اسے دیکھیے، اوراس نظر سے دیکھیے کہ آیا اس میں مسئلہ زیر بحث یہ ہے کہ فقہ اسلامی کی معتبر کتابیں کون سی ہیں اور ایک سلطنت میں کون سی فقہ کس طرح جاری ہونی چاہیے، یا یہ ہے کہ موجودہ ترکی میں الحاد وبے دینی اور اندھی مغربیت کے فروغ پانے کی وجہ کیا ہے؟ اگر کسی شخص میں کسی مضمون کو پڑھ کر اس کاموضوع سمجھنے کی کچھ بھی صلاحیت ہو تو وہ بیک نظر معلوم کرلے گا کہ میرے اس مضمون کا اصل موضوع دوسرا ہے نہ کہ پہلا۔ پھر یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ ایک موضوع پر کلام کرتے ہوئے ضمناً اگر ایک فقرہ میرے قلم سے کسی دوسرے موضوع سے متعلق نکل گیا ہے تو آپ صرف اس ایک ہی فقرے کی بنا پر فیصلہ فرما لیں کہ اس دوسرے موضوع کے بارے میں میرا مذہب ومسلک کیا ہے؟ اور اس پر مزید ستم یہ ہے کہ آپ اس فقرے سے میرا مذہب ومسلک بھی مستنبط فرماتے ہیں تو وہ جس کی تردید میری بیسیوں تحریریں کررہی ہیں ۔آپ کو اگر یہ معلوم کرنا تھا کہ فقہ میں میرا مسلک کیا ہے اور سلف کی فقہی کتابوں کے بارے میں میری کیا راے ہے تو آپ کو میری وہ تحریریں دیکھنی چاہیے تھیں جو میں نے فقہ کے موضوع پر لکھی ہیں ۔ اور کچھ نہیں تو صرف میرا وہ رسالہ ہی پڑھ لیتے جو’’اسلامی قانون‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے، توآپ کے وہ سارے شبہات رفع ہوجاتے جن کی عمارت تنقیحات کے صرف ایک فقرے پر تعمیر ہوئی تھی۔
اس سلسلے میں اگر آپ برا نہ مانیں تو ایک بات میں اور عرض کردوں ۔علماے کرام علوم دینیہ میں جیسی کچھ بھی نظر رکھتے ہوں ، بہرحال دوچیزیں ایسی ہیں جن سے وہ قریب قریب بالکل ناواقف ہیں :
(۱) انھیں کچھ خبر نہیں ہے کہ قریب کے زمانے میں مختلف مسلمان ملکوں میں مغربیت اور اسلامیت کے درمیان کس کس طرح کی کش مکش ہوئی ہے اور اس میں ہر جگہ اسلامیت کی شکست اور مغربیت کے غلبہ وفروغ کے اسباب کیا ہیں اور اس افسوس ناک نتیجے کے رونما ہونے میں خود علما اور حاملان دین کی اپنی غلطیوں او رکوتاہیوں کا کتنا دخل ہے۔
(۲) انھیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ دنیا کے موجودہ تمدن میں اگر ہم ایک اعلیٰ درجے کی ترقی یافتہ اسلامی ریاست کا انتظام خالص اسلامی اُصولوں پر چلانا چاہیں تو ہمیں کس قسم کے مسائل سے سابقہ پیش آئے گا اور اُن مسائل کو حل کرنے میں سلف کی چھوڑی ہوئی علمی میراث کس حد تک ہمارے کام آسکے گی اور اس حد سے آگے ہمار اکام اجتہاد کے بغیر کیوں نہ چل سکے گا؟میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ان دونوں باتوں سے علما کی غفلت وبے خبری کا حال وہ نہ ہوتا جو اس وقت ہے،تو انھیں میری بہت سی باتیں سمجھنے میں وہ مشکلات پیش نہ آتیں جو اب آرہی ہیں ۔پھر غضب یہ ہے کہ بجاے اس کے کہ وہ اپنے علم وواقفیت کی اس کمی کو محسوس فرماتے اور اسے دور کرنے کی کوشش کرتے،انھیں اُلٹا اس شخص پر غصہ آتا ہے جو ایک طرف ان کی اس خامی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف دین کو اس نقصان سے بچانا چاہتا ہے جو اس خامی کی بدولت پہنچ رہا ہے اور آگے پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کی اس روش کا انجام کیا ہوگا۔ روسی ترکستان میں اس کا انجام یہ ہوچکا ہے کہ اشتراکیوں نے پہلے اس طرح کے علما کو استعمال کرکے ان مٹھی بھر مصلحین کو ختم کرایا جو اشتراکیت کے مقابلے میں ایک کام یاب دینی تحریک چلانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔پھر عوام الناس کو اپنے اثر میں لاکر ان کے ہاتھوں علماے کرام کوبھی ختم کرادیا اور علما کے ساتھ ساتھ خود دین کا جنازہ بھی اُٹھوا دیا۔ اب اسی داستان کا اعادہ یہاں ہوتا نظر آرہا ہے۔جو لوگ متفرنجین اور ملاحدہ کے مقابلے میں یہاں دین کا علم اُٹھانے کی قوت وصلاحیت رکھتے ہیں ،علما کا ایک گروہ کثیر ان کے مقابلے میں متفرنجین وملاحدہ کے ہاتھ مضبوط کررہا ہے۔اگر خدا نخواستہ یہ لوگ علما کی مدد سے ان کو ختم کرنے میں کام یاب ہوگئے تو اس کے بعد جو نتائج سامنے آئیں گے،انھیں دیکھنے کے لیے ہم تو موجود نہ ہوں گے، مگر یہ حضرات علما اور ان کی آئندہ نسلیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں گی کہ انھوں نے اپنے ہاتھوں اپنے حق میں اور اس دین کے حق میں کیسے کچھ کانٹے بوئے ہیں ۔
(ترجمان القرآن، مارچ۱۹۵۲ء)