تزکیۂ نفس کی حقیقت

تزکیۂ نفس کی صحیح تعریف کیا ہے؟اس بارے میں رسول اﷲﷺکی تعلیم کیاتھی؟متصوفین کا اس سلسلے میں صحیح عمل کیا رہا ہے؟ نیز ایک مسلمان کو اپنی زندگی کے اس شعبے میں کیا صورت اختیار کرنی چاہیے؟
جواب
یہ ذہن نشین کرلیجیے کہ عربی زبان میں تزکیہ کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے:ایک پاک صاف کرنا،دوسرے بڑھانا اور نشو ونما دینا۔اس لفظ کو قرآن مجید میں بھی انھی دونوں معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔پس تزکیہ کا عمل دو اجزا سے مرکب ہے۔ ایک یہ کہ نفسِ انسانی کو انفرادی طور پر اور سوسائٹی کو اجتماعی طور پر ناپسندیدہ صفات اور بری رسوم وعادات سے پاک صاف کیا جائے۔دوسرے یہ کہ پسندیدہ صفات کے ذریعے سے اس کو نشوونما دیا جائے۔ اگر آپ قرآن مجید کو اس نقطۂ نظر سے دیکھیں اور حدیث میں اور کچھ نہیں تو صرف مشکاۃ ہی پر اس خیال سے نظر ڈال لیں توآپ کو خود معلوم ہوجائے گا کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں وہ کون سی ناپسندیدہ صفات ہیں جن کو اﷲ اور اس کا رسولؐ دور کرنا چاہتے ہیں ، اور وہ کون سی پسندیدہ صفات ہیں جن کو وہ افراد اور سوسائٹی میں ترقی دینا چاہتے ہیں ۔ نیز قرآن وحدیث کے مطالعے ہی سے آپ کو ان تدابیر کی بھی پوری تفصیل معلوم ہوجائے گی جو اس غرض کے لیے اﷲ تعالیٰ نے بتائی ہیں اور اس کے رسولؐ نے استعمال کی ہیں ۔ اہلِ تصوّف میں ایک مدت سے تزکیۂ نفس کا جو مفہوم رائج ہو گیا ہے اور اس کے جو طریقے عام طور پر ان میں چل پڑے ہیں وہ قرآن و سنت کی تعلیم سے بہت ہٹے ہوئے ہیں ۔ (ترجمان القرآن،جولائی ،اگست ۱۹۴۵ء)

Leave a Comment