تفسیرِ قرآن کے اختلافات

قرآن پاک کی مختلف تفسیریں کیوں ہیں ؟آں حضور ﷺ نے جو تفسیر بیان کی ہے ،وہ ہوبہو کیوں نہ لکھ لی گئی؟ کیا ضرورت ہے کہ لوگ اپنے اپنے علم کے اعتبار سے مختلف تفسیریں بیان کریں اور باہمی اختلافات کا ہنگامہ برپا رہے؟
جواب

قرآن پاک کا جو فہم، دین کے حقائق اور اس کے احکام جاننے کے لیے ضروری تھا، اس کی حد تک تونبی ﷺ اپنے ارشادات اور اپنے عمل سے اس کی تفسیر فرما گئے ہیں ۔ لیکن ایک حصہ لوگوں کے غور وخوض او رفکر وفہم کے لیے بھی چھوڑا گیا ہے تاکہ وہ خود بھی تدبر کریں ۔اس حصے میں اختلافات کا واقع ہونا ایک فطری امر ہے۔اﷲ تعالیٰ کا منشا اگر یہ ہوتا کہ دنیا میں سرے سے کوئی اختلاف ہو ہی نہیں تو وہ تمام انسانوں کو خود ہی یکساں فہم عطا فرماتا، بلکہ عقل و فہم اور اختیار کی قوتیں عطا کرنے کی ضرورت نہ تھی، اور اس صورت میں آدمی کے لیے نہ کوشش کا کوئی میدان ہوتا نہ ترقی وتنزل کا کوئی امکان۔
(ترجمان القرآن ،اگست ۱۹۵۹ء)