تناسخ کا عقیدہ

تناسخ کا عقیدہ ہندو قوم کے ہاں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔مَیں نہیں کہہ سکتا کہ ہندوئوں کے سوا کوئی دوسری قوم بھی اس کی قائل ہوئی ہے یا نہیں ،تاہم یہ عقیدہ بھی سنجیدہ تنقید کا مستحق ہے۔
جواب
تناسخ کا عقیدہ ہندوئوں کے سوا بعض دوسری قوموں میں بھی پایا گیا ہے اور اب بھی پایا جاتا ہے اور ہندستان سے باہر بھی بعض فلسفیانہ نظاموں میں اس کا نشان ملتا ہے۔ لیکن ہندستان میں جتنی زیادہ گہری جڑیں اس نے پکڑی ہیں ،اس کی نظیر دوسری جگہ نہیں ملتی۔اس عقیدے کی اصل دو سوال ہیں جن کو انسان نے ہمیشہ حل کرنے کی کوشش کی ہے اور جو اکثر اپنے آپ کو مختلف شکلوں میں آدمی کے سامنے لاتے رہتے ہیں ۔ پہلا سوال یہ ہے کہ دنیا میں مصائب اور آفات (جن میں موت بھی شامل ہے) کیوں پائے جاتے ہیں ؟سراسر راحت،لذت، خوشی،سلامتی وعافیت اور ابدی زندگی ہی کیوں نہیں ہے؟اور دوسرا سوال یہ ہے کہ انسانی اعمال کے طبعی نتائج تو اس دنیا میں ایک مقرر ضابطے کے تحت نکلتے نظر آتے ہیں ، لیکن اخلاقی نتائج (جن کے ظاہر ہونے کا انسانی فطرت آپ سے آپ مطالبہ کرتی ہے)کیوں ایک مقرر ضابطے کے مطابق ظاہر نہیں ہوتے؟اگر وہ سب یا ان کا ایک جز ظاہر ہونے کے لیے رُکا ہوا ہے تو اس کے ظہور کی شکل کیا ہے؟ ان دونوں سوالات (گائے کی تعظیم اور تناسخ کا عقیدہ )کے بہت سے مختلف جوابات مختلف فلسفیانہ نظاموں میں ملتے ہیں مگر ان سب پر اس مختصر بحث میں گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ ہندستان کے فلاسفہ نے،جن کے تصورات آگے چل کر مذاہب کی شکل اختیار کر گئے، ان سوالات کو کرم اور تناسخ کے عقیدے کی شکل میں حل کیا ہے۔وہ اس دنیا کو دارالامتحان کے بجاے ایک دارالعذاب اور ایک طرح کے جیل خانے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں ،حیاتِ جسمانی کو فی الاصل مصیبت سمجھتے ہیں ، اور جسم اور جسمانیات کے ساتھ انسان کے تعلق کو اس بات کی وجہ قرار دیتے ہیں کہ روح قیدِ جسم سے چھوٹ چھوٹ کر بار بار پھر اسی قید خانے میں واپس آتی ہے۔اُن کے نزدیک مصائب اور آفات اور آلام اور اسی طرح خوش حالیاں اور کام یاب زندگیاں ان برے یا اچھے اعمال کا نتیجہ ہیں جو رُوح نے اس وقت کیے تھے جب وہ موجودہ زندگی سے پہلے قیدِجسم میں تھی۔مزید برآں ان کا خیال یہ ہے کہ اعمال کے جو اخلاقی نتائج ایک زندگی میں پوری طرح یا اپنی اصلی شکل میں ظاہر نہیں ہوتے ،ان کے ظہور کی صورت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ انسان اسی دنیا میں بار بار آکر ان کو وصول کرتا رہے۔ یہ ایک وسیع نظام فکر ہے جس کا محض ایک خلاصہ میں نے یہاں بیان کیا ہے۔ یہ پوری زندگی کے متعلق انسان کے نقطۂ نظر اور زندگی کے ہر پہلو کے متعلق اس کے رویے کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے تمام فکری وعملی نتائج پر یہاں بحث کرنا مشکل ہے۔ میں صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ دراصل یہ قیاسی فلسفوں (speculative philosophies)کے قبیل کی چیز ہے، اور اس قسم کے تمام فلسفیانہ نظامات کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے سامنے جو مسائل آتے ہیں ،ان کو وہ محض تخیل اور منطق اور اٹکل سے کسی ایسے طور پر حل کرلینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے ان کو اپنی حد تک اپنے پیش نظر مسائل کا اطمینان بخش اور دل کو لگتا ہوا جواب مل جائے، قطع نظر اس سے کہ علم،تجربہ،مشاہدہ اور آثارِ کائنات سے اس کی کوئی شہادت ملے یا نہ ملے۔ قیاسی فلسفی اس شہادت کی سرے سے کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔اسے تو فقط اپنے پیشِ نظر سوالات کا ایسا جواب درکار ہوتا ہے جس پر وہ اور اس کے طرز پر سوچنے والے لوگ مطمئن ہوجائیں ۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ ایسے قیاسات کا امرِ واقعی اور حقیقتِ نفس الامری کے مطابق ہونا کچھ ضروری نہیں ہے۔ بلکہ اس کی بہت کم توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ تو ایک تیر ہے جو اندھیرے میں اٹکل سے چلایا جاتا ہے،نشانے پر لگے یا نہ لگے۔ تیر چلانے والے کو خود بھی اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس کی بھی پروا نہیں کرتا کہ کسی جگہ اس کے لگنے سے’’کھٹ‘‘ کی آواز بھی آتی ہے یا نہیں ۔اس کو مطمئن کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ اپنے قیاس سے اس نے جس کو نشانے کا صحیح رُخ سمجھا، اس طرف اپنی حد تک ٹھیک ٹھیک شست باندھ کر تیر چلادیا۔ایسی تیر اندازی کا نشانے پر لگنا جتنا کچھ متوقع ہوسکتا ہے اتنی ہی کچھ قیاسی فلسفوں کے مطابق ِ حقیقت ہونے کی بھی توقع کی جاسکتی ہے۔ بہت سے قائلین ِ تناسخ خود بھی اپنے عقیدے کی اس خامی کو محسوس کرتے ہیں اور یہ اسی کی تلافی کی کوشش ہے جو کبھی کبھی اخبارات میں کسی ایسی بچی یا بچے کے ظہور کی اطلاع کی شکل میں رونما ہوتی رہتی ہے جو اپنے پچھلے جنم کے حالات سناتی یا سناتا ہے۔ لیکن اوّل تو یہی ایک عجیب بات ہے کہ ایسے بچے صرف ہندوئوں ہی میں پیدا ہوتے ہیں اور ہندو اخبارات تک ہی ان کی خبر پہنچتی ہے۔ دوسری اس سے عجیب تر بات یہ ہے کہ یہ حضرات اپنے فلسفے کی تائید میں تجربے و مشاہدے کے فقدان کی تلافی کے لیے کہیں ایک آدھ ایسے بچے کی پیدایش کو کافی سمجھ لیتے ہیں ،حالاں کہ ان کے نظریے کی صحت کے لیے یہ ضروری ہے کہ سارے ہی بچے ایسے پیدا ہوں ۔ اگر وہ سزا یا جزا جو انسان کو ایک جنم کے اعمال کی بنا پر دوسرے جنم میں ملتی ہے، طبعی جزا و سزا نہیں بلکہ اخلاقی جزا و سزا ہے تو ہر انسان کو اس کا شعور حاصل ہونا چاہیے کہ وہ کس چیز کی جزا یا سزا پا رہا ہے،کیوں کہ تمام اخلاقی اعمال لازمی طور پر شعوری اعمال ہوتے ہیں اور ان کا نتیجہ بھی لازماً شعوری ہی ہونا چاہیے۔ اس طریق کے برعکس جن لوگوں نے عقل اور اس کے مطالبات اور فطرت اور اس کے تقاضوں اور آثارِ کائنات اوراس کے اشاروں کو نظر انداز کرکے ٹھیٹھ ظاہر بینی کے ساتھ،اور ایک بڑی حد تک مذہبی طرز فکر سے انکار کی خواہش کے ساتھ، تجربہ ومشاہدہ پر اپنی راے کی بنیاد رکھی ہے،انھوں نے پہلے سوال کی کنہ، کو پہنچنے کی تو ضرورت ہی محسوس نہیں کی بلکہ اپنی تحقیق وراے کو ’’کیوں ہے‘‘ کے سوال کے بجاے بڑی حد تک صرف’’ کیا ہے‘‘ کے سوال تک محدود رکھا۔ رہا دوسرا سوال، تو اس کے متعلق انھوں نے کسی نہ کسی طرح اپنے نفس کو اس جواب ہی پر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ سارے اخلاقی نتائج بس اسی دنیا کی ایک ہی زندگی میں ظاہر ہولیتے ہیں جو موت پر ختم ہوجاتی ہے، اور اگر بالفرض وہ ظاہر نہیں ہوتے تب بھی بہرحال موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے کیوں کہ وہ براہِ راست ہمارے تجربہ ومشاہدہ میں نہیں آئی لیکن انسان خواہ کتنی ہی کوشش کرے، اس جواب سے اس کے قلب کا اطمینان کسی طرح ممکن نہیں ۔ اب رہایہ امر کہ انبیا ؊ کے لائے ہوئے دین میں ان دونوں سوالات کا کیا جواب ہے اور وہ کن دلائل سے معقول ترین جواب ہے، تو اس پر میں اپنے مضامین مثلاً’’رسالۂ دینیات‘‘’’اسلامی تہذیب اور اس کے اُصول ومبادی‘‘، ’’زندگی بعد موت‘‘،’’ اسلام اور جاہلیت‘‘ اور تفسیر سورۂ الاعراف میں تفصیل کے ساتھ بحث کرچکا ہوں ۔ لہٰذا یہاں اس کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ یہ واضح کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ تمام مابعد الطبیعیاتی مسائل میں یہ اُصول مشترک ہے کہ ان کا کوئی حل بھی، خواہ وہ نفی کی شکل میں ہو یا اثبات کی شکل میں ،ایسا قطعی الثبوت نہیں ہوسکتا جیسے دو اور دو کا چار ہونا قطعی الثبوت ہے کہ اس کو مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ایسے مسائل کا زیادہ سے زیادہ معقول حل، جس کے مطابقِ حقیقت ہونے کا اغلب گمان کیا جا سکتا ہو، صرف وہی ہو سکتا ہے جو عقل اور فطرت کے تمام مطالبوں اور تقاضوں کو پورا کرتا ہو، جس کی طرف آثارِ کائنات اور تجربات ومشاہدات میں واضح اشارات پائے جاتے ہوں ،جس سے زندگی کے ان تمام مسائل کو حل کیا جاسکتا ہوجو اس خاص مسئلے سے دور یا قریب کا تعلق رکھتے ہیں ، جس پر عقلاً کسی اعتراض کی گنجائش نہ ہو،جس کے مان لینے سے کچھ دوسرے ناقابلِ حل مسائل نہ پیدا ہوتے ہوں ،جنھیں کسی دوسرے طریقے سے رفع کرنا ممکن نہ ہو، اور جس کے خلاف کوئی ثبوت نہ دیا جاسکتا ہو۔عقل زیادہ سے زیادہ ان سوالات کے کسی حل کو اغلب(most probable) سمجھنے کی حد تک ہی ہمیں لے جاسکتی ہے۔اس کے آگے یقین حاصل کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے کہ ایسا حل پیش کرنے والوں کی زندگیوں کو، ان کے پیش کردہ پورے نظامِ فکر وعمل کی بجاےمعقولیت کو اور ان کے کام اور اس کے نتائج کو دیکھ کر ان پر ایمان بالغیب لایا جائے۔ (ترجمان القرآن ، جنوری ۱۹۴۶ء)

Leave a Comment