توأم متحد الجسم لڑکیوں کا نکاح

بہاول پور میں دو توأم لڑکیاں متحد الجسم ہیں ۔ یعنی جس وقت وہ پیدا ہوئیں تو ان کے کندھے، پہلو، کولھے کی ہڈی تک آپس میں جڑے ہوئے تھے اور کسی طرح سے ان کو جدا نہیں کیا جاسکتا تھا۔اپنی پیدائش سے اب جوان ہونے تک وہ ایک ساتھ چلتی پھرتی ہیں ۔ان کو بھوک ایک ہی وقت لگتی ہے۔پیشاب پاخانہ کی حاجت ایک ہی وقت ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو کوئی عارضہ لاحق ہو تو دوسری بھی اسی مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کا نکاح ایک مرد سے ہوسکتاہے یا نہیں ۔ نیز اگر دونوں بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں آسکتی ہیں تو اس کے لیے شرعی دلیل کیا ہے؟ مقامی علما نہ ایک مرد سے نکاح کی اجازت دیتے ہیں اور نہ دو سے۔ایک مرد سے ان دونوں کا نکاح قرآن کی اس آیت کی رو سے درست نہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ دو حقیقی بہنیں بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں نہیں آسکتیں ۔ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ({ FR 2183 }) (النساء:۲۳ ) اس حکم کو بنیاد بنا کر اگر دو مردوں کے نکاح میں ان دومتحد الجسم عورتوں کو دے دیا گیا تو مندرجہ ذیل دشواریاں ایسی ہیں جن کو دیکھ کر علما نے سکوت اختیا ر کرلیا ہے۔ مثلاً: (۱) اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ایک مرد اپنی منکوحہ نامزد بیو ی تک ہی اپنے صنفی تعلقات کو محدود کرسکے گا اور دوسری متحد الجسم عورت سے جو اس کے نکاح میں نہیں ہے،تعرض نہ کرے گا۔ (۲)یہ دوسری عورت جو اپنی بہن سے متحد الجسم ہونے کے ساتھ متحد المزاج بھی ہے زوجی تعلق کے وقت متاثر نہ ہو گی۔ (۳)دومردوں سے ایسا نکاح جس میں دونوں عورتیں (صنفی تعلقات کے وقت) متاثر ہوتی ہوں ، ان کی حیا مجروح ہوتی ہو، ان میں رقیبانہ جذبات پیدا ہوتے ہوں ، کیا نکاح کی اس روح کے منافی نہیں جس میں بتایا گیا ہے وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّۃً({ FR 2184 }) (الروم:۲۱ ) وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِيَسْكُنَ اِلَيْہَا ({ FR 2185 }) (الاعراف:۱۸۹) (۴) نکاح کا ایک بڑا مقصد افزائش نسل ہے اور والدین اور مولود میں شفقت بھی ہے۔دو مردوں کا یہ نکاح اس تعلق پر کلھاڑ ا چلاتا ہے۔ اور بھی مفاسد ہیں جن کے بیان کو یہاں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں اس سوال کو حل کیجیے تاکہ یہ تذبذب دور ہو،ان عورتوں کے والدین ان کا نکاح کرسکیں ، اور اس فتنے کا سدباب ہو جو جوان ہونے کی وجہ سے ان کو لاحق ہے۔
جواب
ان دونوں لڑکیوں کے معاملے میں چار صورتیں ممکن ہیں : (۱)ایک یہ کہ دونوں کا نکاح دو الگ شخصوں سے ہو۔ (۲)دوسری یہ کہ ان میں سے کسی ایک کا نکاح ایک شخص سے کیا جائے اور دوسری محروم رکھی جائے۔ (۳) تیسری یہ کہ دونوں کا نکاح ایک ہی شخص سے کر دیا جائے۔ (۴) چوتھی یہ کہ دونوں ہمیشہ نکاح سے محروم رہیں ۔ ان میں سے پہلی دو صورتیں تو ایسی صریح ناجائز، غیر معقول اور ناقابل عمل ہیں کہ ان کے خلاف کسی استدلا ل کی حاجت نہیں ۔اب رہ جاتی ہیں آخری دو صورتیں ۔یہ دونوں قابل عمل ہیں ۔ مگر ایک صورت کے متعلق مقامی علما کہتے ہیں کہ یہ چوں کہ جمع بین الاختین کی صورت ہے جسے قرآن میں حرام قرار دیا گیا ہے،اس لیے لامحالہ آخری صورت پر ہی عمل کرنا ہوگا۔ بظاہر علما کی یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ دونوں لڑکیاں توأم بہنیں ہیں اور قرآن کا یہ حکم صاف اور صریح ہے کہ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔لیکن اس پر دو سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ ان لڑکیوں کو دائمی تجرد پر مجبور کیا جائے اور یہ ہمیشہ کے لیے نکاح سے محروم رہیں ؟اور کیا قرآن کا یہ حکم واقعی اس مخصوص اور نادر صورت حال کے لیے ہے جس میں یہ دونوں لڑکیاں پیدایشی طور پر مبتلا ہیں ؟ میرا خیال یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان اس مخصوص حالت کے لیے نہیں ہے بلکہ اس عام حالت کے لیے ہے جس میں دو بہنوں کے الگ الگ مستقل وجود جمع ہوتے ہیں ، اور وہ ایک شخص کے جمع کرنے سے ہی بیک وقت ایک نکاح میں جمع ہوسکتی ہیں ورنہ نہیں ۔ اﷲ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ عام حالات کے لیے حکم بیان کرتا ہے،اور مخصوص، شاذ اور نادر الوقوع یا عسیر الوقوع حالات کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس طرح کے حالات سے اگر سابقہ پیش آجائے تو تفقہ کا تقاضا یہ ہے کہ عام حکم کو ان پر جوں کا توں چسپاں کرنے کے بجاے صورت حکم کو چھوڑ کر مقصد حکم کومناسب طریقے سے پورا کیا جائے۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ شارع نے روزے کے لیے بہ الفاظ صریح یہ حکم دیا ہے کہ طلوع فجر کے ساتھ اس کو شروع کیا جائے اور رات کا آغاز ہوتے ہی افطار کرلیا جائے۔ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۝۰۠ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ ({ FR 2186 }) ( البقرہ:۱۸۷ ) یہ حکم زمین کے ان علاقوں کے لیے ہے جن میں رات دن کا اُلٹ پھیر چوبیس گھنٹے کے اندر پورا ہوجاتاہے، اورحکم کو اس شکل میں بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی آبادی کا بیش تر حصہ انھی علاقوں میں ر ہتا ہے۔ اب ایک شخص سخت غلطی کرے گااگر اس حکم کو ان مخصوص حالات پر جوں کا توں چسپاں کردے گا جو قطب شمالی کے قریب علاقوں میں پائے جاتے ہیں ،جہاں رات اور دن کا طول کئی کئی مہینوں تک ممتد ہوجاتا ہے۔ ایسے علاقوں کے لیے یہ کہنا کہ وہاں بھی طلوع فجر کے ساتھ روزہ شروع کیاجائے اور رات آنے پر کھولا جائے،یا یہ کہ وہاں سرے سے روزہ رکھا ہی نہ جائے، کسی طرح صحیح نہ ہو گا۔ تفقہ کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے مقامات پر صورت حکم کو چھوڑکر کسی دوسری مناسب صورت سے حکم کا منشا پور اکیا جائے۔ مثلاً یہ کہ روزوں کے لیے ایسے اوقات مقرر کر لیے جائیں جو زمین کی بیش تر آبادی کے اوقات صوم سے ملتے جلتے ہوں ۔ یہی صورت میرے نزدیک ان دو لڑکیوں کے معاملے میں بھی اختیار کرنی چاہیے جن کے جسم آپس میں جڑے ہوئے ہیں ۔ ان کے نکاح دو الگ شخصوں سے کرنے یا سرے سے نکاح ہی نہ کرنے کی تجویزیں غلط ہیں ۔ ان کے بجاے یہ ہونا چاہیے کہ أَنْ تَجْمَعُوا بَیْنَ الأُخْتَیْنِ کے ظاہر کو چھوڑ کر صرف اس کے منشا کو پورا کیا جائے۔ حکم کا منشا یہ ہے کہ دو بہنوں کو سوکناپے کی رقابت میں مبتلا کرنے سے پرہیز کیا جائے۔یہاں چوں کہ ایسی صورت حال درپیش ہے کہ دونوں کا نکاح یا تو ایک ہی شخص سے ہوسکتا ہے یا پھر کسی سے نہیں ہوسکتا،اس لیے یہ فیصلہ انھی دونوں بہنوں پر چھوڑ دیا جائے کہ آیا وہ بیک وقت ایک شخص کے نکاح میں جانے پر راضی ہیں یا دائمی تجرد کو ترجیح دیتی ہیں ۔اگر وہ پہلی صورت کو خود قبو ل کرلیں تو ان کا نکاح کسی ایسے شخص سے کردیا جائے جو انھیں پسند کرے۔ اور اگر وہ دوسری صورت ہی کو ترجیح دیں توپھر اس ظلم کی ذمہ داری سے ہم بھی بری ہیں اور خداکا قانون بھی۔ اعتراض کیا جاسکتاہے کہ بالفرض یہ دونوں ایک شخص کے نکاح میں دے دی جائیں ، اور بعد میں وہ ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے دے تو کیا ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ اس صورت میں دونوں اس سے جدا ہوجائیں گی۔ ایک اس لیے کہ اسے طلاق دی گئی، اور دوسری اس لیے کہ وہ اس سے کوئی تمتع نہیں کرسکتا جب تک کہ خلوتِ اجنبیہ کے جرم کا ارتکاب نہ کرے۔ یہی نہیں بلکہ وہ اسے اپنے گھر پر بھی نہیں رکھ سکتا، کیوں کہ مطلقہ لڑکی کو اپنے گھر رہنے پر مجبو رکرنے کا اسے حق نہیں ہے اور غیر مطلقہ لڑکی اس کے گھر اس وقت تک نہیں رہ سکتی جب تک کہ مطلقہ لڑکی بھی اس کے ساتھ نہ ہو۔ لہٰذ ا جب وہ ان میں سے ایک کو طلاق دے گا تو دوسری کو خلع کے مطالبے کاجائز حق حاصل ہوجائے گا۔ اگر وہ خلع نہ دے تو عدالت کا فرض ہے کہ اسے خلع پر مجبور کرے۔یہ لڑکیاں اپنی پیدائش ہی کی وجہ سے ایسی ہیں کہ کوئی شخص نہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے اور نہ کسی ایک کو طلاق دے سکتا ہے۔ان کا نکاح بھی ایک ساتھ ہوگا اورطلاق بھی۔ ھذا ما عندی واﷲ اعلم بالصواب۔ (ترجمان القرآن ، جنوری۱۹۵۴ء)

Leave a Comment