توبہ کی فضیلت یا گناہ کی ترغیب؟

ایک مضمون میں ذیل کی حدیث نقل ہوئی ہے: ’’] ... [ اگر تم لوگوں نے گناہ نہ کیا تو تم لوگوں کو اﷲ تعالیٰ اٹھا لے گا اور ایک دوسری قوم لے آئے گا جو گنا ہ کرے گی اور مغفرت چاہے گی، پس اﷲ اس کو بخش دے گا۔‘‘({ FR 2032 }) ناچیز کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ حدیث شاید موضوع ہوگی جو بداعمالیوں کا جواز پیدا کرنے کے لیے بنا لی گئی ہوگی۔بظاہر اس میں جتنی اہمیت استغفار کی ہے ،اس سے کہیں زیادہ گنا ہ کی تحریص معلوم ہوتی ہے۔کیا یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی کوئی معقول توجیہ ممکن ہے؟
جواب
کسی حدیث کو رد کرنے کایہ طریقہ صحیح نہیں ہے کہ آدمی اس کے مضمون پر تھوڑا سا غور کرے اور اگر بات سمجھ میں نہ آئے یا اس کا کوئی غلط مفہوم ذہن میں پیدا ہوجائے تو بے تکلف یہ فیصلہ کردے کہ حدیث گھڑی ہوئی ہے، اور ایک نظریہ یہ بھی ساتھ ساتھ قائم کرلے کہ فلاں فلاں وجوہ سے یہ گھڑی گئی ہو گی۔ اس طریقے سے احادیث پرکھی جانے لگیں تو نہ معلوم کتنی صحیح حدیثوں کو دریا برد کرڈالا جائے گا۔ حدیثوں کو پرکھنے کے لیے علم حدیث کی گہری واقفیت ضرور ی ہے اور اس کے بعد دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی میں بات کے مغز کو پہنچنے کی عمدہ صلاحیت ہو۔اس طرح جب روایت اور درایت میں صحیح توازن قائم ہوجائے تب انسان اس قابل ہوسکتا ہے کہ احادیث کو جانچ کران کی صحت وسقم اور ان کے مضمون کی معنوی حیثیت کے متعلق کوئی راے قائم کرے۔ جس حدیث کے متعلق آپ نے تنقیدکی ہے وہ مسلم، ترمذی اور مسند احمد میں متعدد طریقوں سے منقول ہوئی ہے اور روایت کے اعتبار سے اس پر کوئی وزنی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ رہا اس کا مضمون، تو اس موضوع سے متعلق جو دوسری احادیث وارد ہوئی ہیں ،ان سب کے ساتھ ملا کر اسے پڑھاجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ آدمی کو جان بوجھ کر گناہ کرنا چاہیے اور پھر توبہ کر لینی چاہیے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ انسان جب تک انسان ہے ،بالکل بے خطا اور بے گناہ نہیں ہوسکتا۔ انسان کی اصل خوبی یہ نہیں ہے کہ اس سے کبھی گناہ سرزد ہی نہ ہو، بلکہ اس کی اصل خوبی یہ ہے کہ جب بھی اس سے گناہ سرزد ہوجائے،وہ نادم ہو اور اپنے خدا سے معافی مانگے۔اس مضمون کو ذہن نشین کرنے کے لیے حضورﷺ نے فرمایا کہ اگر اﷲ کو بے گنا ہ مخلوق ہی پیداکرنی ہوتی تو انسانوں کے بجاے کوئی اور مخلوق پیدا کرتا۔ انسان کو تو خدا نے نیکی اور گناہ دونوں کی صلاحیت واستعداد کے ساتھ پیداکیا ہے، اور اس نوعیت کی مخلوق سے بے گناہی مطلوب نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے تو بڑے سے بڑا مقام یہی ہوسکتا ہے کہ بتقاضاے بشریت جب بھی اس سے قصور سرزد ہو، اس پر اصرار نہ کرے بلکہ نادم ہوکر استغفار کرے۔ (ترجمان القرآن ،نومبر ۱۹۶۲ء)

Leave a Comment