جماعتِ اسلامی اور علماے کرام

جماعتِ اسلامی اور علماے حق کا نزاع اندریں صورت قابل افسوس ہے۔اس سے اصل کام کی رفتار پر بہت برا اثر پڑے گا اور یہ معمولی بات نہ سمجھی جائے۔ مذہبی جماعتوں میں سے جماعتِ اسلامی کو اچھی نگاہ سے دیکھنے والی اور جائز حد تک اتفاق ظاہر کرنے والی ایک اہل حدیث کی جماعت ہے( جو قلیل ہے )اور دوسری جماعت علماے حق کی ہے جو اہل دیوبند سے متعلق ہے (یعنی بریلویوں کے مقابلے میں )اور یہ کثیر تعداد میں ہے۔اگر اس گروہِ عظیم کے اکابر واصاغر جماعتِ اسلامی سے اس رنگ میں متنفر ہوتے ہیں تو بنظر غائر دیکھ لیا جائے کہ عوام میں کتنی بے لطفی پیدا ہوجائے گی اور اصل مقصد سے ہٹ کر جماعتِ اسلامی کے افراد کس فرقہ بندی کی مصیبت میں مبتلا ہوجائیں گے۔ تاحال ابھی اختلافات کی ابتدا ہے۔بریلویوں کی طرف سے’’خطرے کی گھنٹی‘‘ شائع ہوئی ہے۔معلّمین اہل دیو بند کی طرف سے دو چار اشتہار شائع کیے گئے ہیں ۔ان کا تدارک ہوسکتا ہے، غلط فہمی کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر تھوڑی دیر جماعت کے تمام مقاصد کی سیاست کو سامنے نہ بھی رکھا جائے تب بھی سوء ظنی عامۃ المسلمین کی دور کرنی تو ان حالات میں ازروے اسلام ضروری ہے۔ جماعتِ اسلامی کی طرف سے میری دانست کے موافق شاید’’کوثر‘‘ میں ان شکایات کا جائزہ کچھ سرسری طور پر لیا گیا ہے۔باقی مستقل طور پر ان کے جوابات کی طرف توجہ نہیں کی گئی ہے۔اس میں تاخیر وتاجیل بتقاضاے وقت میرے خیال میں ہرگز درست نہیں ۔ موٹے موٹے اعتراضات یا شکایات قریباً سامنے آچکے ہیں جو عبارتوں کی قطع وبرید کرکے تیار کیے گئے ہیں ،یا باستنباط تجویز ہوئے ہیں ۔بہرکیف ان کا نمبروار تسلی بخش جواب جماعت کی طرف سے آجا نا چاہیے اگر وہ معاملہ جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اگر آپ کی ذات سے متعلق ہے تو اس کو آپ ذاتی طور پر بطریق احسن واضح کریں تاکہ ایک سلیم الطبع آدمی کو پھر سوال وجواب کی زحمت گوارا نہ کرنی پڑے۔ ان ساری تسلی بخش تفصیلات کے بعد پھر بھی ضدی قسم کے لوگ اگر جوں کے توں سوال جڑتے رہیں تو اس وقت آ پ بے شک جواب سے سروکار نہ رکھیں اور اپنے کام میں مصروف رہیں ۔ اور جماعت کے تمام افراد کو بھی یہی تلقین ہونی چاہیے کہ اپنے مسلک کی وضاحت کے سوا اعتراض وجواب سے خاموشی اختیار کی جائے اور معاملہ اﷲ جل جلالہ کے سپرد کردیا جائے۔
جواب
آپ کا خیال درست ہے کہ موجودہ حالات میں جماعتِ اسلامی اور علماے کرام کی آویزش اسلامی مقاصد کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔اس وجہ سے مجھے بھی اس کا بڑا رنج ہے۔ مگر میں ابھی تک نہیں سمجھ سکا ہوں کہ اس میں میری یا جماعت کے کارکنوں یا پوری جماعت کی کیا ذمہ داری ہے۔ ہماری مطبوعات دیکھ لیجیے۔ ہماری تقریروں سے متعلق عام سامعین سے پوچھ لیجیے۔ہماری سرگرمیوں کا جائزہ لے کر تلاش کیجیے۔ کیا کہیں کوئی ایسی چیز ملتی ہے جو علما کے کسی گروہ کے لیے بھی بجا طور پر موجب اشتعال کہی جاسکتی ہو؟ کیا ہم نے بھی کبھی کسی گروہ کو طعن وملامت کا ہدف بنایا؟کسی کے خلاف’’خطرے کی گھنٹی‘‘ بجائی؟ کسی پر فتوے جڑے؟کسی کے خلاف اشتہار بازی کی؟اگر کبھی ہم نے کسی سے اختلاف کا اظہار کیا بھی ہے تو علمی حیثیت سے کیا ہے، دلائل کے ساتھ کیا ہے،دین کی خاطر کیا ہے، احترام اور ادب کوملحوظ رکھ کر کیا ہے، اور بات کو اسی حد تک محدود رکھاہے جس حد تک کسی مسئلے میں ہمیں کسی سے اختلاف تھا۔کوئی شخص ہماری کسی ایسی تحریر یا تقریر کی نشان دہی نہیں کرسکتا جو اس سے مختلف نوعیت کی ہو۔ اہل حدیث ہوں یا دیو بندی یا بریلوی،ہم نے ان میں سے کسی گروہ پر یا اس کے عقائد اورمسلک پر، یا اس کے بزرگوں پر کبھی کوئی حملہ نہیں کیا، اورنہ فی الواقع ہمارے د ل میں کبھی کسی حملے کا خیال ہی آیا۔پھر دین کی جو تعبیر وتفسیر ہم آج تک پیش کرتے رہے ہیں ،اور جس چیز کی ہم نے دنیا کو دعوت دی ہے،اس میں بھی یہ حضرات درحقیقت کوئی خامی نہیں دکھاسکے اور نہ کسی ایسی چیز کی نشان دہی کرسکے جو حقیقت میں ضلالت ہو۔اب آپ خود دیکھ لیجیے کہ یہ آویزش یک طرفہ ہے یا دوطرفہ، اور اس کی کوئی ذمہ داری ہم پر بھی عائد ہوتی ہے؟ افسوس کہ ان حضرات کو حالات کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔انھیں کچھ احساس نہیں کہ اس وقت اہل دین کی باہمی مخالفت دین کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے اور اس سے عہد حاضر کی ضلالتوں کو کتنا بڑا فائد ہ پہنچتا ہے۔انھوں نے اپنے گروہی تعصبات سے خالی ہوکر ایک لمحے کے لیے بھی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ جماعتِ اسلامی اس وقت دین کی کیا خدمت کررہی ہے اور اس مرحلے پر اس کے گر جانے سے دینی محاذمیں کتنا بڑا شگاف پڑ جائے گا،جسے پُر کرنے والا کوئی دوسرا منظم اور مستعد گروہ موجود نہیں ہے۔ انھیں یا تو اس بات کی خبر نہیں ہے،یا اس کی پروا نہیں ہے کہ اگر جماعتِ اسلامی خدا نخواستہ ناکام ہوگئی تو پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں مسلمانوں کی ’’نئی روشنی‘‘ سے متاثر نسلوں کو الحاد واباحیت کی تحریکوں سے بچانے والی کوئی منظم طاقت موجود نہ رہے گی اور علماے کرام اپنے بل بوتے پر یہ خدمت انجام نہ دے سکیں گے۔ انھیں اس امر کا بھی یا تو شعور نہیں ہے یا ہے تو اس کی کوئی قدر ان کی نگاہ میں نہیں ہے،کہ پاکستان کو ایک اسلامی مملکت میں تبدیل کرنے اور یہاں اقتدار کی مسند پر بے دینی کی جگہ دین کو لانے کے لیے جماعتِ اسلامی کی کوششیں کیا اہمیت رکھتی ہیں اور ان کے ناکام ہونے کی صورت میں یہاں اشتراکیت یا ’’کمالیت‘‘کو مسلط ہوجانے سے روک دینا تنہا علماے کرام کے بس کا کام نہیں ہے۔ ان حضرات نے اس حقیقت کی طرف سے بھی آنکھیں بند کرلی ہیں کہ ایک زمانۂ دراز کے بعد اس برعظیم میں بڑی سردردی وجاں فشانی کے بعد ایک ایسی تحریک اُٹھی ہے جو دین کے بعض اجزا کو نہیں بلکہ پورے دین کو پورے نظام زندگی پر غالب کرنا چاہتی ہے، اور ایک ایسی جماعت منظم ہوئی ہے جس نے جدید وقدیم دونوں طرز کے تعلیم یافتہ لوگوں کواس مقصد عظیم کے لیے متحد، منظم اور متحرک کیا ہے۔ افسوس اور صد افسوس کہ ایسی ایک تحریک اور ایسی ایک جماعت کی قدر وقیمت کا صحیح اندازہ کرنے سے انھیں ان کے گروہی تعصبات روک رہے ہیں ۔ انھوں نے کبھی ٹھنڈے دل سے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے کہ کفر وفسق وضلالت کے اس طوفان میں اس تحریک کاساتھ دینے کے بجاے اس کو مٹانے کی کوشش کرنا دنیا اور آخرت میں ایک سخت وبال اپنے سر لینا ہے۔ یہ حضرات بار بار اپنی تحریروں اور تقریروں اور اپنے فتووں میں اس بات پر زور دے رہے ہیں ، اور عملاً بھی اس امر کی کوشش کررہے ہیں کہ لوگوں کو جماعتِ اسلامی کا لٹریچر پڑھنے سے روکا جائے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے اس لٹریچر کو پڑھا بھی ہے یا نہیں ۔ بہرحال ان کی یہ کوشش دانستہ ہو یا نادانستہ، فی الواقع ایک سخت دشمنی ہے جو یہ حضرات اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں اور خود اپنے زیر اثر مذہبی گروہوں کے ساتھ کررہے ہیں ۔اگر ان کی کوششوں سے جدید تعلیم یافتہ نسل جماعتِ اسلامی کا لٹریچر پڑھنے سے رک جائے تو میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے وہ کون سا لٹریچر پیدا یا فراہم کیا ہے جو ان لوگوں کو خود ان کی زبان اور اصطلاحوں میں دین سمجھا سکتا ہو اور انھیں دور جدید کی ضلالتوں سے بچا سکتا ہو؟اور اگر ان کی کوششوں سے مذہبی طبقے اور خصوصاً عربی مدارس کے طلبہ اور فارغ التحصیل حضرات اس لٹریچر کے مطالعہ سے رک جائیں تو مجھے بتایا جائے کہ یہاں کون سا اور لٹریچر ایسا موجود ہے جو ان لوگوں کو ٹھیٹ اسلامی نقطۂ نظر سے دَورِ حاضر کے مسائل کو سمجھاتا ہو اور انھیں اس قابل بناتا ہو کہ وہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں سے آنکھ ملا کر بات کرسکیں ؟اس پہلو سے اگر آپ معاملے پر نگاہ ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو کہ ہمارے لٹریچر کی جو مخالفت ان حضرات کی طرف سے کی جارہی ہے یہ کیسی سخت ناعاقبت اندیشی ہے اور اس کے نتائج کس قدر بُرے ہیں ۔ پھر ذرا اس کا بھی انداز ہ کیجیے کہ ان حضرات کی مخالفت کے باوجود جو لوگ اس لٹریچر کوپڑھیں گے،ان کی نگاہ میں نہ صرف ان حضرات کی،بلکہ پورے گروہ علما کی وقعت کو کیسا سخت صدمہ پہنچے گا اور وہ علم بردارانِ دین کی دیانت کو کس قدر مشتبہ سمجھنے لگیں گے۔ ہماری آج تک یہ کوشش رہی ہے اور اب بھی ہم اس کے لیے کوشاں ہیں کہ مسلمانوں کو علم دین کی ضرورت اور اہمیت کا احساس دلائیں ، اور یہ بات ان کے ذہن نشین کریں کہ ان کی زندگی کا نظام کبھی درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی باگیں دین کی واقفیت رکھنے والے لوگوں کے ہاتھ میں نہ ہوں ۔ لیکن آپ مجھے بتایے کہ جب عوام اور جدید تعلیم یافتہ لوگ ایک طرف ہمارے لٹریچر کو دیکھیں گے اور دوسری طرف یہ دیکھیں گے کہ بڑے بڑے نام ور علما نے اس چیز کی کس کس طرح مخالفت کی ہے، تو ہماری کوششیں ان کے اندر علما کے لیے حسن ظن پیدا کرنے میں کہاں تک کام یاب ہوسکیں گی۔ آپ چوں کہ خود علما کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ،اس لیے میں یہ باتیں آپ سے اس لیے عرض کررہا ہوں کہ آپ انھیں ان حضرات تک پہنچائیں جو خواہ مخواہ ہماری مخالفت کررہے ہیں ۔ اور جس حد تک بھی آپ کے بس میں ہو،انھیں سمجھانے کی کوشش کریں ۔ (ترجمان القرآن،ستمبر۱۹۵۱ء)

Leave a Comment