جماعت اسلامی کی تحریک اور قرآن وسنت کے دلائل

آپ وحی والہام کے مدعی نہیں ہیں بلکہ ریاست اسلامیہ میں آپ کے لحاظ سے اب وحی والہام کی گنجائش تک باقی نہیں ہے۔ ان حالات میں آپ محض چند دلائل سے خودکیوں کر مطمئن ہیں کہ آپ کی تحریک ہی صحیح معنوں میں دین کے مزاج کے مطابق ہے اور انقلاب قیادت کا حقیقی تصور آپ کی جماعت کے بغیر نہیں مل سکتا؟ ممکن ہے دوسری جماعتیں صحیح مسلک پر قائم ہوں اور آپ کی ساری بنیاد غلط فہمی پر مبنی ہو۔
جواب
قرآن وحدیث جو شاید آپ کے نزدیک ’’محض چند دلائل‘‘ کی تعریف میں داخل ہیں اور ایک مسلمان کے اطمینان کے لیے کافی نہیں ہیں ، میں ان ہی کے مطالعے سے مطمئن ہوں کہ جماعتِ اسلامی کی تحریک دین اسلام کے مزاج کے مطابق ہے، اور اگر ہم اس تحریک کے تقاضوں کے مطابق صحیح کام کریں تو یقیناً اس کے ذریعے سے صالح قیادت قائم ہوسکتی ہے۔دوسری جماعتوں کے بارے میں میری جو راے ہے،آپ چاہیں تو اسے غلط فہمی خیال کرلیں ۔مگرمیں دلائل کی بنا پر راے قائم کرتا ہوں اور دلائل ہی کی بنا پر اپنی راے سے ہٹ سکتا ہوں ۔ وحی میرے نزدیک اب نہیں آسکتی۔ رہا الہام، تو وہ ضروری نہیں ہے۔ہو تو اچھا ہے،نہ ہو تو کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲﷺ ہماری راہ نمائی کے لیے بالکل کافی ہے۔ (ترجمان القرآن، جون۱۹۵۱ئ)

Leave a Comment