حاضر وناظرہونے کا معاملہ

حاضر وناظر کی صفت بھی خدا وند تعالیٰ سے مختص قرار دی جاتی ہے۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے ملک الموت کو یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں انسانوں ، حیوانوں ، پرندوں ،چرندوں اور جنوں کی روحوں کو قبض کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ حاضر وناظر ہے، اور حاضر وناظر ہونا خدا کی مخصوص صفت ہے۔یہاں اگر یہ کہا جائے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک فرض کی انجام دہی کے لیے اپنی خاص صفت فرشتے میں ودیعت کررکھی ہے تو جو لوگ آں حضرتﷺ میں صفت حاضر وناظر کا ہونا اور خدا کی طرف سے عطا کیا جانا مانتے ہیں ، آخر انھیں مشرک کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب
حاضر وناظر کے معاملے میں آپ نے ملک الموت کی جو مثال پیش کی ہے ،اس میں کئی غلطیاں ہیں ۔ قرآن میں یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے، اور نہ کسی حدیث صحیح میں یہ آیا ہے کہ ساری کائنات کا ملک الموت ایک ہی ہے۔یہ بات بھی قرآن سے نہیں معلوم ہوتی کہ صرف ایک فرشتہ قبض ارواح کا کام کرتا ہے۔بلکہ متعد دمقامات پر روح قبض کرنے والے فرشتوں کا ذکر بصیغۂ جمع آیاہے۔ مثلاً: اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ ( النسائ۴ :۹۷) ’’جن لوگوں کو ملائکہ نے اس حال میں وفات دی کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے تھے،ان سے ملائکہ نے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں تھے؟‘‘ فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْہُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَاَدْبَارَہُمْ ( محمد۴۷ : ۲۷) ’’پھر کیا بنے گی اس وقت جب ملائکہ ان کو وفات دیں گے ان کے چہروں اور پیٹھوں کو پیٹتے ہوئے۔‘‘ الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ طَيِّبِيْنَ۝۰ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ( النحل۱۶ : ۳۲ ) ’’جن لوگوں کی روحیں ملائکہ اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ پاکیزہ لوگ تھے ،ان سے وہ کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر۔‘‘ حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَہُمْ۝۰ۙ قَالُوْٓا اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ ( الاعراف۷ : ۳۷) ’’یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے ان کے پاس روحیں قبض کرنے کے لیے آئیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم ا ﷲ کو چھوڑ کر پکارتے تھے۔‘‘ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بڑے ملک الموت کے تحت بہت سے دوسرے مددگار فرشتے بھی ہیں جو روحیں قبض کرنے پر مامور ہیں ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ابلیس ایک بڑا شیطان ہے اور اس کی ماتحتی میں بے شمار شیاطین ہیں جو دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ہر جگہ نہ ابلیس جاتا ہے نہ ملک الموت۔ پھر خود اس زمین کی مخلوقات کے بارے میں بھی کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ تمام خشکی وتری اور ہوا کے جانداروں کا ملک الموت وہی ایک ہے جو انسانوں کی جان لینے کے لیے مقرر ہے ۔قرآن میں تو صرف یہ فرمایا گیا ہے کہيَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ ( السجدہ۳۲:۱۱ ) ’’تمھاری روحیں ملک الموت قبض کرتا ہے۔‘‘ اس سے جو بات نکلتی ہے،وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اس زمین پر انسانوں کی روحیں قبض کرنے پر ایک فرشتہ مامور ہے۔ اگر بالفرض یہی ایک فرشتہ روے زمین پر تمام مرنے والوں کی روحیں قبض کرتا ہے، تب بھی یہ بہت ہی محدود پیمانے کی ایک طاقت ہے جو اﷲ نے اپنے اس فرشتے کو عطا فرمائی ہے۔اس کو آخر اﷲ تعالیٰ کی اس لامحدود صفت سے کیا نسبت ہے کہ وہ ساری کائنات میں حاضر وناظر ہے؟ پھر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اور آپ کیا اب قیاسات پر اپنے عقائد کی عمارت کھڑی کریں گے؟ ملک الموت کے متعلق تو اﷲ تعالیٰ نے خود بتایا ہے کہ ہم نے اسے انسانی روحیں قبض کرنے پر مامور کیا ہے۔ اس پر زیادہ سے زیادہ جو تصور قائم کیا جاسکتا ہے،وہ بس اسی قدر ہے کہ یہ فرشتہ بیک وقت روے زمین کے ہر حصے میں لاکھوں انسانوں کی روحیں قبض کرلیتا ہے۔مگر کیا اس پر یہ قیاس بھی کیا جاسکتا ہے کہ نبیؐ ہر جگہ موجود ہیں اور سب کچھ دیکھ رہے ہیں ؟ ان دونوں باتوں میں آخر کیا مناسبت ہے کہ ایک کو دوسری پر قیاس کرلیاجائے ؟اور پھر قیاس بھی ایسا کہ وہ عقیدہ قرار پائے اور ایمانیات میں داخل ہو اور لوگوں کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے اور نہ ماننے والوں کے ایمان میں نقص ثابت کیا جانے لگے؟ یہ عقیدہ اگر واقعی اسلامی عقائد میں شامل ہوتا تو اﷲ تعالیٰ اپنی کتاب میں اس کی تصریح فرماتا کہ میرے رسول کو حاضر وناظر تسلیم کرو۔حضورﷺ خود یہ دعویٰ فرماتے اور اسے ماننے کی دعوت دیتے کہ میں ہر جگہ موجود ہوں اور قیامت تک حاضر وناظر رہوں گا۔ صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین میں یہ عقیدہ عام طور پر شائع وذائع ہوتا اور عقائد اسلام کی کتابوں میں اسے ثبت کیا جاتا۔ آپ نے بعض حضرات کو مشرک کہنے یا نہ کہنے کا جو ذکر فرمایا ہے ،اس کے بارے میں میری راے شاید آپ کو معلوم نہیں ہے۔میں ان مسائل میں ان کے خیالات کو تأویل کی غلطی سمجھتا ہوں ،اور اسے غلط کہنے میں تأمل نہیں کرتا۔ مگر مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ انھیں مشرک کہا جائے اور مشرکین عرب سے تشبیہ دی جائے۔میں ان کے بارے میں یہ گمان نہیں رکھتا کہ وہ شر ک کو شرک جانتے ہوئے اس کے قائل ہوسکتے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ توحید ہی کو اصل دین مانتے ہیں اور اسی پر اعتقاد رکھتے ہیں ۔ اس لیے انھیں مشرک کہنا زیادتی ہے۔ البتہ انھوں نے بعض آیات اور احادیث کی تأویل کرنے میں سخت غلطی کی ہے اور میں یہی امید رکھتا ہوں کہ اگر ضد دلانے والی باتیں نہ کی جائیں بلکہ معقول طریقے سے دلیل کے ساتھ سمجھایا جائے تو وہ جان بوجھ کر کسی گمراہی پر اصرار نہ کریں گے۔ (ترجمان القرآن،مارچ۱۹۶۲ء)

Leave a Comment