حدیث امامت قریش سے مستنبط ہونے والے اصول

وہ اُصول کیا ہے جو نبی ﷺ کے اس فرمان : اَلْاَئِمّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ سے آپ مستنبط کرتے ہیں اور اس کا انطباق آپ کے نزدیک کن امور پر کس طرح ہو گا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اگر آپ امورِ ذیل کی وضاحت بھی کر دیں تو مناسب ہو گا: (الف) حکمت ِ عملی اور قاعدہ أھون البلیتین سے آپ کی کیا مراد ہے؟ (ب) کیا یہ قاعدہ دو ناگزیر برائیوں کی طرح دو ناگزیر بھلائیوں اور دو واجب الاطاعت احکام کے درمیان بھی استعمال ہو سکتا ہے؟
جواب
س سے جو اصول مستنبط ہوتے ہیں وہ مختصراً یہ ہیں : اولاً: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی جن لوگوں کو قائم کرنا اور چلانا ہو انھیں آنکھیں بند کرکے حالات کا لحاظ کیے بغیر پورا کا پورا نسخۂ اسلام یک بارگی استعمال نہ کر ڈالنا چاہیے بلکہ عقل اور بینائی سے کام لے کر زمان و مکان کے حالات کو ایک مومن کی فراست اور فقیہ کی بصیرت و تدبّر کے ساتھ ٹھیک ٹھیک جانچنا چاہیے۔ جن احکام اور اصولوں کے نفاذ کے لیے حالات سازگار ہوں انھیں نافذ کرنا چاہیے اور جن کے لیے حالات سازگار نہ ہوں ان کو مؤخر رکھ کر پہلے وہ تدابیر اختیار کرنی چاہییں جن سے ان کے نفاذ کے لیے فضا موافق ہو سکے۔ اسی چیز کا نام حکمت یا حکمت ِ عملی ہے جس کی ایک نہیں بیسیوں مثالیں شارع کے اقوال اور طرزِ عمل میں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت دین بدّھوئوں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ ثانیاً: اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب زمان و مکان کے حالات کی وجہ سے اسلام کے دو احکام یا اصولوں یا مقاصد کے درمیان عملاً تضاد واقع ہو جائے یعنی دونوں پر بیک وقت عمل کرنا ممکن نہ رہے تو دیکھنا چاہیے کہ شریعت کی نگاہ میں اہم تر چیز کون سی ہے اور پھر جو چیز اہم تر ہو اس کی خاطر شرعی نقطۂ نظر سے کم تر اہمیّت رکھنے والی چیز کو اس وقت تک ترک کر دینا چاہیے جب تک دونوں پر ایک ساتھ عمل کرنا ممکن نہ ہو جائے لیکن اسی حد تک ایسا کرنا چاہیے جس حد تک یہ ناگزیر ہو۔ نبیﷺ نے خلافت اسلامیہ کے استحکام کو اصولِ مساوات کے قیام پر ترجیح دی کیونکہ خلافت کے استحکام پر پورے اسلامی نظام زندگی کا قیام و نفاذ موقوف تھا۔ اور یہ کل اسلام کی نگاہ میں ایک جز کی بہ نسبت عظیم تر اہمیت رکھتا تھا لیکن آپ نے اس مقصد کے لیے اصولِ مساوات کو بالکلیہ نہیں بلکہ اس کے صرف اس حصّے کو معطل رکھا جو منصب خلافت سے متعلق تھا، کیونکہ صرف اسی حد تک اس کا تعطُّل ناگزیر تھا۔ یہ ایک مثال ہے قاعدہ اختیار اھون البلیتین کی۔ اس سے وہ موقع و محل بھی معلوم ہو جاتا ہے جس میں یہ قاعدہ جاری ہو گا اور اس کے حدود و شرائط پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ ثالثا ً: اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جہاں قبائلیت اور برادریوں کے تعصبات یا دوسری گروہی عصبیتیں زندہ و متحرک ہوں ، وہاں ان سے براہِ راست تصادم کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ جہاں جس قبیلے یا برادری یا گروہ کا زور ہو وہاں اسی کے نیک لوگوں کو آگے لانا چاہیے تاکہ زور آور گروہ کی طاقت اسلامی نظام کے نفاذ کی مزاحم بننے کے بجاے اس کی مددگار بنائی جا سکے اور بالآخر نیک لوگوں کی کار فرمائی سے وہ حالات پیدا ہو سکیں جن میں ہر مسلمان مجرد اپنی دینی و اخلاقی اور ذہنی صلاحیت کی بنا پر بلا لحاظ نسل و نسب و وطن سربراہی کے مقام پر آ سکے۔ یہ بھی اسی حکمت کا ایک شعبہ ہے جسے حکمت ِ عملی کے نام سے یاد کرنے کا گناہ مجھ سے سرزد ہو ا ہے۔ یہ اصول جو نبی ﷺ کے اس قول و عمل سے میں نے مستنبط کیے ہیں اگر ان میں کوئی قباحت کسی کو نظر آتی ہو تو وہ دلیل کے ساتھ اس کی نشان دہی کرے۔ رہا اس پر کسی کا یہ اعتراض کہ اس نوع کے تصرفات کرنے کا حق صرف شارع کو پہنچتا تھا۔ دوسرا کوئی اس کا مجاز نہیں ہو سکتا، تو میں صاف عرض کروں گا کہ یہ بات اگر مان لی جائے تو فقہ اسلامی کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے۔ کیونکہ اس کا تو سارا نشووارتقا ہی اس بنیاد پر ہوا ہے کہ شارع کے زمانے میں جو حوادث اور معاملات پیش آئے تھے ان میں شارع کے احکام اور تصرفات اور طرزِ عمل کا گہرا مطالعہ کرکے وہ اصول اخذ کیے جائیں جو شارع کے بعد پیش آنے والے حوادث و معاملات پر منطبق ہو سکتے ہیں ۔ اس کا دروازہ بند ہو جائے تو پھر فقہ اسلامی صرف انھی حوادث و معاملات کے لیے رہ جائے گی جو شارع کے زمانے میں پیش آئے تھے۔ بعد کے نئے حالات میں ہم بالکل بے بس ہوں گے۔ یہ آپ کے ] سوال نمبر۵۱۱ [ کا جواب ہے۔ اب میں آپ کے اس سوال کی ایک ایک شق پر الگ الگ کچھ عرض کروں گا۔ حکمت ِ عملی کیا ہے؟ الف: حکمت ِ عملی کی تشریح میں اوپر کر چکا ہوں ۔ مختصراً اس سے مراد یہ ہے کہ دین کی اقامت اور احکامِ شرعیہ کی تنفیذمیں ان حالات پر نگاہِ رکھی جائے جن کے اندر ہم کام کر رہے ہوں ۔ اور حالات کے تغیّر و تبدل سے فتوے اور طرزِ عمل میں ایسا تغیّر و تبدّل کیا جائے جس سے مقاصد شرعیہ ٹھیک ٹھیک حاصل ہو سکیں نہ کہ نا مناسب حالات پر احکام اور اصولوں کے انطباق سے وہ الٹے فوت کر ڈالے جائیں ۔ لیکن یہ حکمت بے قید نہیں ہے ، بلکہ اس کے لیے تفقہ فی الدین اور مزاجِ شریعت پر گہری نظر درکار ہے تاکہ آدمی شارع کے منشا سے قریب ترین ممکن تدبیر اختیار کر سکے اور اس حکمت کے قابلِ تسلیم یا قابلِ ردّ ہونے کا انحصار اس پر ہے کہ آدمی کسی خاص معاملے میں جب اس کو استعمال کر رہا ہو تو وہ کتاب و سنّت سے اپنے فتوے یا فیصلے یا طرزِ عمل کا ماخذ پیش کرے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ شارع کے کس تصرف پر قیاس، یا کس ارشاد سے استنباط کر رہا ہے۔ اختیار اَھْوَن الْبلَیّتَیْنکا ضابطہ قاعدہ اختیاراَھْوَن الْبلَیّتَیْن یہ ہے کہ جب کبھی آدمی کو ایسے حالات سے سابقہ پیش آئے جن کے اندر دو برائیوں میں سے ایک کو اختیار کرنا ناگزیر ہو جائے تو وہ اس برائی کو اختیار کرے جو شریعت کی نگاہ میں کم بری ہو۔ اسی طرح جب شریعت کی دو قدروں یا دو مقاصد کو بیک وقت حاصل کرنا ممکن نہ ہو، یا دو احکام پر ایک ساتھ عمل نہ ہو سکے تو ان میں سے اس چیز کو اختیار کیا جائے جس کی قدرو اہمیت شریعت کی نگاہ میں زیادہ ہو اور کم تر قدرواہمیّت کی چیز کو زیادہ بیش قیمت چیز پر اس حد تک قربان کیا جائے جس حد تک کہ وہ اس موقع و محل میں واقعی ناگزیر ہو۔ اس قاعدے کے استعمال کی صحت کا انحصار بھی اس پر ہے کہ آدمی جس چیز کو جس چیز پر ترجیح دے رہا ہے اس کے اہم تر ہونے کی دلیل اس کے پاس کتاب و سنّت سے ہو اور وہ یہ ثابت کر سکے کہ اس وقت یہ ترجیح فی الواقع ناگزیر ہے۔ ب: اس قاعدے کے متعلق جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ صرف دو برائیوں ہی کے معاملے میں جاری ہو گا اور دو بھلائیوں یا دو احکام کے معاملے میں جاری نہ ہو گا، وہ ایک غلط بات کہتا ہے۔ اوپر میں خود اسوۂ نبوی سے اس کی ایک مثال دے چکا ہوں ۔ ایک دوسری مثال نبی ﷺ ہی کے عہد کی وہ ہے جو جنگ احزاب کے متصلاً بعد پیش آئی تھی۔ بخاری، مسلم، طَبرَانی، بیہقی، ابن سعد اور ابن اسحاق وغیرہ نے متعدد سندوں سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جنگ احزاب سے فارغ ہوتے ہی حضورﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کو بنی قریظہ کی بستی پر چڑھائی کرنے کا حکم دیا اور بتاکید فرمایا کہ تم میں سے کوئی عصر کی نماز (اور بعض روایات کے مطابق ظہر کی نماز) نہ پڑھے جب تک وہاں نہ پہنچ جائے۔ مگر ان لوگوں کو راستے میں دیر لگ گئی اور نماز کا وقت ختم ہونے لگا۔ اجتماعی طور پر وہ فیصلہ نہ کر سکے کہ آیا وقت پر نماز پڑھنے کے حکمِ عام کو چھوڑیں یا حضورﷺ کے اس حکمِ خاص کو۔ آخرکار بعض لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ نماز پڑھ لیں گے اور پھر آگے جائیں گے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ حضورﷺ تو دراصل یہ چاہتے تھے کہ ہم جلدی جلدی کوچ کرکے وہاں پہنچ جائیں ۔ نہ یہ کہ ہم نماز ہی نہ پڑھیں ۔ اور بعض نے فیصلہ کیا کہ ہم وہاں پہنچنے سے پہلے نماز نہ پڑھیں گے کیونکہ حضورﷺ نے صاف الفاظ میں یہی حکم دیا ہے۔ بعد میں جب حضورﷺ کے سامنے یہ معاملہ رکھا گیا تو آپ نے ان میں سے کسی کے فعل کو بھی غلط نہ کہا۔({ FR 2243 }) اب دیکھ لیجیے یہاں دو واجب الاطاعت احکام میں جب عملاً تضاد واقع ہو گیا تو ان میں سے کسی ایک کو ترک اور دوسرے کو اختیار کرنے کا فیصلہ ہر سپاہی نے اپنی صواب دید کے مطابق بطورِ خود کیا اور یہ کام خود صاحب شریعت ﷺ کی زندگی میں کیا گیا۔ اگر اس طرح کے فیصلے کا ان لوگوں کو حق نہ ہوتا تو حضورﷺ صاف فرما دیتے کہ تم نے دین میں وہ اختیار استعمال کیا ہے جو شرعاً تمھیں حاصل نہ تھا۔({ FR 2244 }) اسی طرح وہ شخص بھی بالکل ایک غلط بات کہتا ہے جو کہتا ہے کہ اس قاعدے کا استعمال شخصی حاجات و مشکلات رفع کرنے کی حد تک تو درست ہے مگر دین کے لیے یا اقامت ِدین کے کام میں اسے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سراسر ایک بے بنیاد دعویٰ ہے جس کے لیے کتاب و سنّت میں کوئی دلیل نہیں ہے اور اس کے خلاف دلائل کثرت سے موجود ہیں ۔ خلافت و امامت سے بڑھ کر اقامت ِدین کا کام اور کون سا ہو سکتا ہے؟ اور آپ ابھی دیکھ چکے ہیں کہ اس کے قیام و استحکام کی خاطر نبی ﷺ نے خود اَھْوَنُ الْبِلِیّتَیْنِ کے قاعدے کو استعمال فرمایا۔ جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر اقامت ِدین کا کام آپ کس کو کہہ سکتے ہیں ؟ اور اس کی جنگی ضروریات کے لیے جہاں ناگزیر ہو وہاں جھوٹ کی اجازت حضورؐ نے خود دی ہے جیسا کہ مسلم اور ترمذی کی مستند احادیث سے ثابت ہے۔ اس چیز سے جس شخص کو انکار ہے اس سے میں پوچھتا ہوں کہ آج اگر آپ ایک حکومت خلافت علی منہاج النبوت کی بنیاد پر قائم کریں تو فرمایئے آپ کی حکومت دشمن ملکوں میں اپنے جاسوس بھیجے گی یا نہیں ؟ اور اگر بھیجے گی تو انھیں بہت سے احکامِ شرعیہ کے معاملے میں ڈھیل دے گی یا نہیں ؟ کیا وہ انھیں اس امر کا پابند بناے گی کہ دشمن کے ملک میں پورے ناپ کی ڈاڑھی رکھیں ۔ تَشَبُّہ بِالْکُفَّار سے بچیں ، کھانے پینے کے معاملے میں تمام شرعی قیود کا لحاظ رکھیں اور اپنا کام بس سیدھے سیدھے حلال و طیب ذرائع ہی سے انجام دیں ؟ فرض کیجیے کسی قوم سے آپ کو لڑائی پیش آتی ہے اور آپ ایسے مواقع پاتے ہیں کہ دشمنوں میں روپیا پھیلا کر پھوٹ ڈلوا سکیں ۔ ان کے کام کے آدمیوں کو توڑ سکیں ، ان کے جنگی راز معلوم کر سکیں اور ان میں اپنا ایک پانچواں کالم پیدا کر سکیں ۔ آپ ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے یا ان سے تنزّہ برتیں گے؟ فرض کیجیے آپ خود اللہ کی راہ میں لڑنے جاتے ہیں اور دشمن کے ہاتھ گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ دشمن آپ سے اسلامی حکومت کے جنگی راز معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ خاموش رہنا ممکن ہے نہ توریہ سے کام چلتا ہے۔ اس حالت میں آپ اپنی فوج اور حکومت کے راز بتا دیں گے یا دشمن کو قصداً جھوٹی اطلاعات دے کر خلافت اسلامیہ کو نقصان اور تباہی سے بچانے کی کوشش کریں گے؟ اس کا جواب نفی یا اثبات جس میں بھی ہو صاف صاف ہونا چاہیے تاکہ آپ کا صحیح موقف معلوم ہو سکے۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ خلافت علیٰ منہاج النبوت کا کام اور قتال فی سبیل اللہ بھی آپ کے ہاں ’’اِقامت دین‘‘ میں شمار ہوتا ہے یا نہیں ؟ (ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۵۹ء)

Leave a Comment