حدیث میں بارہ اماموں کا ذکر

میرا سوال صحیح بخاری، کتاب الفتن،باب الاستخلاف کی ایک حدیث سے متعلق ہے۔ حدیث یہ ہے : عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا، فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا. فَقَالَ أَبِي: إِنَّهُ قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ۔({ FR 1538 }) اس حدیث میں جن بارہ امرا کا ذکر ہے وہ کون لوگ ہیں ؟ اہل تَشَیُّع میں سے اثناعشری حضرات ان سے مراد اپنے بارہ امام لیتے ہیں ۔کیا ان کا یہ استدلال آپ کے نزدیک صحیح ہے؟
جواب
بخاری کی جس حدیث کے بارے میں آپ نے سوال کیا ہے،یہ حدیث کتا ب الفتن میں نہیں بلکہ کتاب الاحکام میں ہے، اور اس کا اندراج باب الاستخلاف میں نہیں بلکہ اس کے بعد کے ایک باب میں ہے جو بلا ترجمہ درج ہوا ہے،یعنی اس پر کوئی عنوان نہیں ہے۔بخاری میں یہ روایت بہت مختصر ہے۔ لیکن مسلم، ابودائود، ترمذی اور طبرانی وغیرہ میں اسی مضمون کی متعدد روایات موجود ہیں جو پوری تفصیل بیان کرتی ہیں اور ان سے اصل مفہوم کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ بارہ خلفا یا امرا (الفاظ مختلف ہیں ) کے دور تک اسلام زبردست اور طاقت ور رہے گا،امت ایک نظام میں مجتمع رہے گی اور کسی کی عداوت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔مسلمانوں کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف امرا پر اس پیشین گوئی کا اطلاق کیا جاسکتا ہے، اور بعض لوگوں نے اس کی کوشش بھی کی ہے۔ لیکن بہرحال ان تفصیلات سے یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان بارہ امرا یا خلفا سے مراد ائمۂ اثنا عشرنہیں ہوسکتے کیوں کہ ان کے ہاتھ میں حکومت نہیں رہی۔ (ترجمان القرآن ، نومبر ۱۹۵۶ء)

Leave a Comment