حضانت کا حق

میری شادی، جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، میرے مرحوم دوست کی بیوہ سے ہوئی ہے۔ اس اقدام سے میں خوش ہوں ۔ ایک سوال یہ ہے کہ مرحوم کی ایک بچی ہے، جو اب تک اپنی ماں ہی کے ساتھ رہتی تھی، لیکن اب اس کے ددھیال والے اسے لے جانا چاہتے ہیں ۔ یہ صورت حال ماں کے لیے تکلیف دہ ہے۔ وہ فطری طور پر پریشان ہے۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ بچی ماں کے ساتھ ہی رہے۔ مجھے کیا کرنا چاہیے، اس میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب
سب سے پہلے تو شادی پر مبارک باد قبول فرمائیے۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ کی شادی سے مجھے غیر معمولی مسرت ہوئی۔ موجودہ دور میں جب کہ نکاحِ بیوگان کا رواج کم ہوگیا ہے اور بہت سی جوان بیوائیں بیٹھی ہوئی ہیں ، اسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ہمارے بہت سے معاشرتی مسائل حل ہوں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ دونوں کو خوش و خرم رکھے اور دین کی راہ میں ایک دوسرے کا معاون اور مددگار بنائے۔ آپ نے جو مسئلہ دریافت کیا ہے، اس میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ جب تک ماں کی دوسری شادی نہ ہوجائے وہ بچہ کی پرورش کی سب سے زیادہ مستحق ہوگی۔ شادی کے بعد اس کا یہ حق ختم ہوجائے گا۔ ہاں اس کی شادی کسی ایسے شخص سے ہو جو بچہ کے لیے محرم ہو تو اس کا حق باقی رہے گا۔ ماں کے بعد یہ حق نانی (اور پرنانی اور اوپر تک) کو حاصل ہوگا۔ پھر بچہ کی بہن اور خالہ وغیرہ آتی ہیں ۔ اس لحاظ سے موجودہ صورت میں بچی کی ماں کو بچی کی پرورش کا قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ البتہ نانی کو یہ حق حاصل ہے۔ وہ اس کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ اگر آپ حضرات کوشش کریں تو امید ہے کہ لڑکی کے دادا دادی اسے نانی کے حوالہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں ۔ بچہ کی پرورش یا تربیت وغیرہ میں کوتاہی ہو تو کسی شرعی عدالت میں فیصلہ ہوگا کہ ان حالات میں شرعی لحاظ سے اس کی پرورش کا کون مستحق ہے؟ جہاں تک ماں کی تکلیف یا الجھن کا سوال ہے، ہمیں یہ اطمینان رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں بے شمار حکمتیں ہیں ۔ ہمیں ہر حال میں اس کے حکم کو مقدم رکھنا چاہیے۔

Leave a Comment