حضرت علیؓ کی اُمید واریِ خلافت

جماعتِ اسلامی کے ارکان بالعموم موجودہ زمانے کے جمہوری طریقوں پر جو تنقیدیں کرتے ہیں ،ان میں من جملہ اور باتوں کے ایک بات یہ بھی کہاکرتے ہیں کہ جو شخص خود کسی منصب یا عہدے کا امید وار ہو یا اس کا دعوے دار بنے،اسلام کی رُو سے وہ اس کا مستحق نہیں ہے کہ اسے منتخب کیا جائے۔اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ جو خلافت کے اُمید وار یا دعوے دار تھے،اس کے متعلق کیا کہا جائے گا؟
جواب
حضرت علیؓکی اُمید واری و دعوے داری کا قصّہ دراصل ایک بڑے قصے کا جزو ہے، جس کی بِنا بعض مخصوص روایات پر قائم ہے۔اس جز کو کل سے الگ کرکے تنہا اسی پر بحث کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔اگر آپ اس جز کو مانتے ہیں تو اس پورے قصے کو ماننا پڑے گا جس کا جز یہ ہے اور پھر اس پر بحث کرنی ہوگی۔ اس قصے کی روایات بہت مشہور ہیں ۔یعقوبی نے اپنی تاریخ میں سقیفۂ بنی ساعدہ کے بعد کے واقعات کا جو نقشہ پیش کیاہے،اور ابن قتیبہ نے اپنی الإمامۃ والسیاسۃ میں جو نقشہ کھینچا ہے، اور ایسے ہی دوسرے لوگ جو روایات اس سلسلے میں بیان کرتے ہیں ،وہ سب آپ کے سامنے موجود ہیں ۔ اگر آپ اس تاریخ کو باور کرتے ہیں توپھر آپ کو محمد رسول اللّٰہﷺ مبلغ ِقرآن،د اعی اسلام، مزکّیِ نفوس، کی شخصیت پر اور ان کی تعلیم وتربیت کے تمام اثرات پر خطِ نسخ کھینچ دینا پڑے گا اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس پاکیزہ ترین انسان کی۲۳ سالہ تبلیغ وہدایت سے جو جماعت تیار ہوئی تھی، اور اس کی قیادت میں جس جماعت نے بدرواُحد اور احزاب وحنین کے معرکے سرکرکے اسلام کا جھنڈا دنیا میں بلند کیا تھا،اس کے اخلاق، اُ س کے خیالات،اس کے مقاصد، اس کے ارادے، اس کی خواہشات اور اس کے طور طریق عام دنیا پرستوں سے ذرّہ برابر بھی مختلف نہ تھے۔ اس تاریخ میں ہمارے سامنے کچھ اس طرح کا نقشہ آتا ہے کہ ایک حوصلہ مند شخص نے کئی سال کی جاں فشانی سے لڑ بھڑ کر ایک ملک فتح کیا تھا اور اپنے زورِ بازو سے ایک سلطنت قائم کرلی تھی۔پھر قضاے الٰہی سے اس نے وفات پائی۔ اس کی آنکھ بند ہوتے ہی اس کے رفیقوں اور ساتھیوں نے،جو سب کے سب اسی کے بناے ہوئے آدمی تھے، اور جن پر وہ تمام عمر اعتماد کرتا رہا، یکایک آنکھیں پھیر لیں ۔ ابھی اس کے گھر والے اس کی تجہیز وتکفین ہی میں مشغول تھے کہ اس کے ساتھیوں کویہ فکر پڑ گئی کہ کسی طرح تختِ شاہی پر قبضہ کرلیں ۔چنانچہ وہ جمع ہوئے اور پہلے آپس میں جھگڑا کرتے رہے۔ہر ایک چاہتا تھا کہ یہ لقمۂ تر میرے منہ میں آئے۔آخر بڑی ردّوکد کے بعد انھوں نے اپنے میں سے ایک کو بادشاہی کے لیے منتخب کرلیا۔ یہ کارروائی جب مکمل ہوگئی تو بانیِ سلطنت کے خاندان والوں کو اس کی خبر پہنچی اور ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔مرحوم کا بیٹا تو تھا نہیں ، ایک داماد تھا۔وہ بپھر گیا کہ میرے ہوتے اور کون وارثِ تاج و تخت ہوسکتا ہے۔ بیٹی بھی پیچ وتاب کھانے لگی کہ جو سلطنت اس کے باپ نے برسوں کی جاں فشانی سے قائم کی تھی، اس پر دوسروں کو قبضہ کرلینے کا کیا حق ہے۔پہلے توخاندان والے آپس میں سر جوڑ کر مشورے کرتے رہے۔ پھر انھوں نے مرحوم بادشاہ کے پرانے پرانے ساتھیوں کو اس کے احسانات یاد دلا دلا کر اپیل کرنے شروع کیے، اورپبلک میں اپنے حق کا مطالبہ کیا۔مرحوم کا داما د اس کی بیٹی کو دارالسلطنت کے محلوں میں لیے پھرتا رہا اور ایک ایک بااثر قبیلے میں اسے لے گیا تاکہ شاید اسی کی فریاد سے لوگوں کے دل پگھل جائیں ۔مرحوم بادشاہ کی قبر کو بھی خطاب کرکے دہائیاں دیں کہ شاید یہی اپیل کارگر ہوجائے۔ مگر کسی نے سن کر نہ دی۔آخر بے چارہ تھک ہارکر بیٹھ رہا، اور جب مرحوم کی بیٹی بھی،جو اس کے دعوے کی اصل بنیاد تھی،دنیا سے رخصت ہوگئی،تو اس غریب نے جاکر بادلِ ناخواستہ غاصبِ تخت کی اطاعت قبول کرلی۔ مگر دل میں وہ برابر پیچ وتاب کھاتا رہا اور وقتاًفوقتاً اپنے اس پیچ وتاب کا اظہار بھی کسی نہ کسی طرح کرتا رہا۔ کیا واقعی یہی تصویر ہے محمد ﷺ اور ان کے اہل بیت ؓ اور ان کے اصحابِ کبارؓ کی؟کیا اﷲ کے رسولؐ کی یہی پوزیشن تھی کہ وہ دنیا کے عام بانیانِ سلطنت کی طرح ایک سلطنت کا بانی تھا؟کیا پیغمبر خدا کی۲۳سالہ تعلیم،صحبت اور تربیت سے یہی اخلاق، یہی سیرتیں اور یہی کردار تیار ہوئے تھے؟آخر اس نقشے کو کیا مناسبت ہے قرآن اور اس کی پاکیزہ تعلیمات سے؟ محمدﷺ کی زندگی سے اور آپؐ کی ان بلند ترین اخلاقی ہدایات سے جو ذخیرۂ حدیث میں بھری پڑی ہیں ؟ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے ان سوانح حیات سے جن میں (اس ایک قصے کے سوا) دنیا طلبی کا کوئی شائبہ تک نظر نہیں آتا؟ ابوبکرؓو عمرؓ کی ان زندگیوں سے جن کا کوئی رنگ بھی دنیا کے بھوکے لوگوں کے رنگ ڈھنگ سے نہیں ملتا؟ اور صحابہ کرامؓ کی ان سیرتوں سے جن کے مجموعے میں اس داستاں کے کھینچے ہوئے نقشے کو رکھ کر دیکھا جائے تو کسی طرف سے بھی اس کا جوڑ ان کے ساتھ بیٹھتانظر نہیں آتا؟ پھر اگراس گروہ کی تاریخ کا پورا مستند ذخیرہ ہمارے سامنے اس کے اخلاق، اس کی سیرت، اس کی ذہنیت اور اس کے نفسیات کا کچھ اور نقشہ پیش کرتا ہے اور صرف یہ ایک مجموعۂ روایات اس کے بالکل برعکس ایک اورہی نقشہ پیش کررہا ہے تو آخر عقل کیا کہتی ہے؟ کیا یہ کہ سمندر میں اتفاقاً آگ لگی گئی تھی ؟یا یہ کہ سمندر میں پانی تھا ہی نہیں ، آگ ہی آگ تھی ؟یا یہ کہ آگ لگنے کا قصہ جھوٹا ہے،جب تمام شہادتیں اس کی تصدیق کرتی ہیں کہ وہ سمندر تھا تو وہاں پانی کے سوا کچھ نہ ہوسکتا تھا! تاہم اگر کسی کاجی چاہتا ہے کہ اس قصے کو باور کرے تو ہم اسے روک نہیں سکتے۔تاریخ کے صفحات تو بہرحال اس سے آلودہ ہی ہیں ۔ مگر پھر ساتھ ہی یہ ماننا پڑے گا کہ خاکم بدہن رسالت کا دعویٰ محض ایک ڈھونگ تھا،قرآن شاعرانہ لفاظی کے سوا کچھ نہ تھا،اور تقدس کی ساری داستانیں خالص ریا کاری کی داستانیں تھیں ۔اصل میں تو ایک شخص نے ان چالوں سے دنیا کو پھانسا تھا تاکہ اپنی ایک سلطنت بناے‘ اور اس قسم کے دنیا طلب مکاروں کے گرد جیسے لوگ جمع ہوا کرتے ہیں ویسے ہی لوگ اس کے گرد بھی جمع ہوگئے تھے اور تقدس کے اس ظاہری پردے میں دراصل وہ جن مقاصد کے لیے کام کررہا تھا،اُ ن کا راز آخر کار اس کے اپنے گھروالوں نے فاش کرکے رکھ دیا۔ معاذ اﷲ، ثم معاذ اﷲ۔ اس کے مقابلے میں تاریخ کچھ اور روایات بھی پیش کرتی ہے۔ ذرا ان کو بھی دیکھ لیجیے۔ علامہ ابو جعفر ابن جریر طبری پوری سند کے ساتھ یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن زیدؓ سے نبی ﷺ کی وفات کے واقعات پوچھے گئے تھے۔اس سلسلے میں انھوں نے بیان کیا: كَانَ عَلِيٌّ فِي بَيْتِهِ إِذْ أُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: قَدْ جَلَسَ أَبُو بَكْرٍ لِلْبَيْعَةِ، فَخَرَجَ فِي قَمِيصٍ مَا عَلَيْهِ إِزَارٌ وَلا رِدَاءٌ، عَجِلاً، كَرَاهِيَّةَ أَنْ يُبْطِئَ عَنْهَا، حَتَّى بَايَعَهُ ثُمَّ جَلَسَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ إِلَى ثَوْبِهِ فَأَتَاهُ فَتَجَلَّلَهُ، وَلَزِمَ مَجْلِسَهُ۔({ FR 1682 }) ’’علی بن ابی طالبؓ اپنے گھرمیں تھے کہ ایک شخص نے ان کو جاکر خبر دی کہ ابوبکرؓ بیعت لینے کے لیے بیٹھے ہیں ۔ یہ سن کر وہ چادر اور ازار کے بغیر نرے قمیص ہی میں نکل کھڑے ہوئے،اتنی دیر کرنی بھی انھوں نے پسند نہ کی کہ کپڑے پہن لیں ۔پہلے جاکر بیعت کی،پھر گھر سے کپڑے منگائے اورپہن کرمجلس میں بیٹھے۔‘‘ بیہقی کی روایت اس سے تھوڑی مختلف ہے۔وہ ابوسعید خدریؓ سے روایت کرتے ہیں کہ: فَلَمَّا قَعَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , فَسَأَلَ عَنْهُ , فَقَامَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَوْا بِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنَهُ , أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ فَبَایَعَہُ , ثُمَّ لَمْ يَرَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , فَسَأَلَ عَنْهُ , حَتَّى جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ: ابْنَ عَمَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَحَوَارِيَّهُ, أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهُ فَبَايَعَاهُ۔({ FR 1683 }) ’’پھر ابوبکرؓ منبر پر چڑھے اور حاضرینِ مجلس پر نظر ڈالی۔دیکھا کہ زبیر موجود نہیں ہیں ۔ان کو بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ جب وہ آئے تو فرمایا:میں کہہ رہا تھا کہ رسول اﷲ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی اور حضورؐ کے حواری کہاں ہیں ۔کیا تم مسلمانوں کی جماعت سے الگ رہنا چاہتے تھے؟انھوں نے جواب دیا:اے جانشینِ رسولؐ! معاف فرمایے،پھر اُٹھے اور بیعت کی۔پھر ابوبکرؓ نے مجمع پر دوبارہ نظر ڈالی اوردیکھا کہ علیؓ نہیں ہیں ۔انھیں بلانے کے لیے بھی آدمی بھیجا۔جب وہ آگئے تو فرمایا:میں کہہ رہا تھاکہ رسول اﷲؐ کے چچا زاد بھائی۱ور دامادکہاں رہ گئے، کیا تم مسلمانوں کی جماعت سے الگ رہنا چاہتے تھے؟ انھوں نے بھی فرمایا کہ اے جانشینِ رسولؐ!معاف فرمایے۔ پھر بیعت کی۔‘‘ ان دونوں روایتوں میں بظاہر جو تھوڑا سا اختلاف نظر آتا ہے وہ محض تفصیل کا فرق ہے، ورنہ دراصل دونوں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں ۔ پھر اس کی مزیدتائید حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی اس روایت سے ہوتی ہے جو موسیٰ بن عقبہ نے عمدہ سند کے ساتھ اپنے مغازی میں نقل کی ہے: خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ، وَاعْتَذَرَ إِلَى النَّاسِ وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ حَرِيصًا عَلَى الْإِمَارَةِ يَوْمًا وَلَا لَيْلَةً، وَلَا سَأَلْتُهَا اللَّهَ فِي سِرٍّ وَلَا عَلَانِيَةٍ. فَقَبِلَ الْمُهَاجِرُونَ مَقَالَتَهُ، وَقَالَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ: مَا غَضِبْنَا إِلَّا لِأَنَّا أُخِّرْنَا عَنِ الْمَشُورَةِ، وَإِنَّا نَرَى أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَحَقُّ النَّاسِ بِهَا، إِنَّهُ لَصَاحِبُ الْغَارِ وَإِنَّا لَنَعْرِفُ شَرَفَهُ وَخَبَرَهُ، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ بِالنَّاسِ وَهُوَ حَيٌّ. إِسْنَادٌ جَيِّدٌ۔({ FR 1684 }) ’’پھر ابوبکرؓ نے(بیعت کے بعد)خطبہ دیا اور اپنی معذرت پیش کرتے ہوئے فرمایا ’’میرے دل میں ایک دن یا ایک رات کے لیے بھی امارت کی ہوس نہ تھی،اور نہ میں نے کبھی خفیہ یا علانیہ اس کی خواہش کی۔‘‘ سب مہاجرین نے حضرت ابوبکرؓ کی اس تقریر کو خاموشی سے سنا۔البتہ علیؓ اور زبیرؓ نے اتنا کہاکہ ہم کو شکایت صرف اس بات کی ہے کہ ہمیں مشور ے میں شریک نہیں کیا گیا، ورنہ ہم بھی ابوبکر ؓکو سب سے زیادہ مستحق سمجھتے ہیں ۔ وہ رسول اﷲ ﷺ کے رفیق ِ غار ہیں ، ان کے شرف اور ان کی تجربہ کاری کا ہمیں اعتراف ہے اور رسول اﷲﷺ نے اپنی زندگی میں انھی کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کیا تھا۔‘‘[اس کی سند عمدہ ہے] پھر علامہ ابن کثیر البدایہ والنھایہ میں اپنی یہ تحقیق پیش کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ حضرت فاطمہؓ کے پاسِ خاطر سے چھ مہینے تک خانہ نشین رہے‘ کیوں کہ وہ تقسیم میراث کے معاملے میں حضرت ابوبکرؓ سے ناراض ہوگئی تھیں ، اور حضرت علیؓ نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ نبی کریمﷺ کی وفات سے جو داغ ان کے دل کو لگا ہے،اس پرکسی ادنیٰ وجۂ ملال کا بھی اضافہ ہو۔ بعد میں جب حضرت فاطمہؓ کا انتقال ہوگیا تو حضرت علیؓ نے دوبارہ حاضر ہوکر حضرت ابوبکرؓ سے بیعت کی تجدید کی اور معاملات میں حصہ لینا شروع کیا۔ علامہ ابن عبدالبرؒ ’’استیعاب‘‘ میں حضرت عبداﷲ بن مبارکؒ کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکرؓ کے لیے بیعتِ خلافت ہوچکی، تو جناب ابوسفیان حضرت علیؓ کے پاس آئے اور کہا: ’’یہ کیا ہوا؟قریش کے قبیلوں میں سے سب سے چھوٹے قبیلے نے تمھارے مقابلے میں اس منصب پر غلبہ پالیا؟ اے علیؓ! اگر تم چاہو تو خدا کی قسم، میں اس وادی کو سواروں اور پیادوں سے بھر دوں ‘‘ اس پر حضرت علیؓ نے جواب دیا:مَا زِلْتَ عَدُ وًّا لِلإِسْلامِ وَأَهْلِهِ، فَمَا ضَرَّ ذَلِكَ الإِسْلامَ وَأَهْلَهُ شَيْئًا، وَإِنَّا رَأَيْنَا أَبَا بَكْرٍ لَهَا أهلا({ FR 1685 }) ’’تم ساری عمر اسلام اور اہل اسلام کی دشمنی کرتے رہے، مگر تمھاری دشمنی سے اسلام اور اہلِ اسلام کا کچھ بھی نہ بگڑ سکا۔ ہم ابوبکرؓ کو اس منصب کا اہل سمجھتے ہیں ۔‘‘ ہم خواہ مخواہ کسی کے ساتھ بحث ومناظر ے میں نہیں اُلجھنا چاہتے۔ہم نے یہ دونوں تصویریں پیش کردی ہیں ۔اب ہر صاحبِ عقل کو خود سوچنا چاہیے کہ ان میں سے کون سی تصویر مبلغِ قرآن ﷺ اور آپؐ کے اہل بیت واصحاب کبار کی سیرتوں سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ اگر پہلی تصویر پر کسی کا دل ریجھتا ہو تو ریجھے، مگر اس کے ساتھ ایک اُمید واری ودعوے داری کا مسئلہ ہی نہیں ، پورے دین وایمان کا مسئلہ حل طلب ہوجائے گا۔ اور اگرکوئی اس دوسری تصویر کو قبول کرے تو اس میں سرے سے اس واقعے کا کوئی وجود ہی نہیں ہے کہ حضرت علیؓ منصب خلافت کے اُمید وار یا دعوے دار تھے۔ (ترجمان القرآن،اپریل ۱۹۴۶ء)

Leave a Comment