حیاتِ برزخ اور سماعِ موتیٰ

تفہیم القرآن کا مطالعہ کررہا ہوں ۔ الحمد ﷲ بہت اچھے طریقے سے مضامین قرآن مجید دل نشین ہوجاتے ہیں ۔لیکن بعض مواقع پر کچھ اشکال محسوس ہوئے ہیں ۔ ان کو پیش خدمت کیے دیتا ہوں ، براہِ کرم ان کاحل تجویزفرما کر مرحمت فرمائیں ۔ یہ چند معروضات اس لیے ارسال کررہا ہوں کہ میں نے آپ کی تصنیفات میں سے رسائل ومسائل حصہ اوّل ودوم اور تفہیمات حصہ اوّل و دوم کو بہ نظر غائر دیکھا ہے۔ ان میں آپ نے جن آیات اور احادیث پر قلم اٹھایا ہے،ان کے مفاہیم کو دلائل سے واضح فرمایا ہے۔بنا بریں میں امید کرتا ہوں کہ میری پیش کی ہوئی گزارشات کو بھی دلائل سے بیان فرما کر میری تشفی فرمائیں گے۔ فَكَفٰى بِاللہِ شَہِيْدًۢا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ({ FR 2250 }) (یونس:۲۹) کی تفسیر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:’’یعنی وہ تمام فرشتے اور وہ تمام جن وارواح، اسلاف واجداد، انبیا (؊) اولیا، شہدا وغیرہ جن کو خدائی صفات میں شریک ٹھیرا کر وہ حقوق انھیں ادا کیے گئے جو دراصل خدا کے حقوق تھے،وہا ں اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجا لارہے ہو۔ تمھاری کوئی دعا، کوئی التجا، کوئی پکار او ر فریاد، کوئی نذرونیاز، کوئی چڑھاوے کی چیز، کوئی تعریف ومدح اور ہمارے نام کی جاپ اور کوئی سجدہ ریزی وآستانہ بوسی ودرگاہگردی ہم تک نہیں پہنچی۔‘‘ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جتنے لوگ مرچکے ہیں ،خواہ وہ انبیا؊ ہوں یا اولیاے کرام ہوں ، وغیرہ، ان کے مزاروں اور قبروں پر جاکر لوگ چیخیں چلائیں اور حاجات کے لیے پکاریں ،وہ اس سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں اور کچھ نہیں سنتے، اور اس مضمون پر بہت سی آیات دلالت کرتی ہیں ۔ مثلاً سورۂ النحل فَاَلْقَوْا اِلَيْہِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ ({ FR 2251 }) (النحل:۸۶) میں بھی آپ نے تصریح فرمائی ہے۔ اور اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی({ FR 2252 }) (النمل:۸۰) وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ ({ FR 2253 }) (فاطر:۲۲) اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاءَكُمْ ({ FR 2254 }) (فاطر:۱۴) وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَہٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕہِمْ غٰفِلُوْنَ({ FR 2255 }) (الاحقاف:۵) لیکن جب حدیث کی طرف نظر پڑتی ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مردے سنتے ہیں اور زیارت کرنے والے کو پہچان لیتے ہیں اور سلام کا جواب بھی دیتے ہیں ۔ یہاں پہنچ کر ذہن قلق واضطراب کا شکار ہوجاتا ہے اور کوئی صحیح مطلب برآری نہیں کرسکتا اور نہ کوئی صحیح تأویل سمجھ میں آتی ہے ۔ لہٰذا اس مضمون کی چند حدیثیں پیش خدمت کرتا ہوں ،براہِ کرم ان حدیثوں کا مطلب بیان فرما کر عقدہ کشائی فرما ویں ۔ (۱)مقتولین بدر سے حضور ﷺکا اَلَیْسَ قَدْ وَ جَدتُّمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًا({ FR 2087 }) فرمانا اور حضرت عمر ؓ کا یہ کہنا : ’’يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا ({ FR 1944 }) اور حضورﷺکا ارشاد فرمانا: مَا اَنْتُمْ بِاَسْمَعَ لِمَا اَقُولُ مِنْھُمْ صاف دلالت کرتاہے کہ مردے سنتے ہیں ۔ اس حدیث کی تأویل جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے،اس کی رو سے حضرت عمرؓ کے سوال اور حضورؐ کے جواب میں کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔ (۲) مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُرُّ بِقَبْرِ رَجُلٍ كَانَ يَعْرِفُهُ فِي الدُّنْيَا، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا عَرَفَهُ وَرَدَّ عَلَيْهِ({ FR 1945 }) (۳) فی الصحیحین من قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: إِنَّ العَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ({ FR 1946 }) دوسری چیز جو قابل توضیح ہے وہ یہ ہے کہ سورۂ النحل کی اس آیت وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــًٔـا وَّہُمْ يُخْلَقُوْنَo اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ۝۰ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝۰ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ (النحل:۲۱-۲۰)کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ہے کہ ’’یہاں جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جارہی ہے وہ فرشتے یا جن یا شیاطین یا لکڑی پتھر کی مورتیاں نہیں بلکہ اصحاب قبور ہیں ۔‘‘ اور کچھ آگے چل کر تحریرفرماتے ہیں کہ ’’لامحالہ اس آیت میں وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ سے مراد انبیا،اولیا،شہدا، صالحین اور دوسرے غیر معمولی انسان ہی ہیں …الخ۔‘‘ اب عرض یہ ہے کہ سورۂ البقرہ میں اﷲ تعالیٰ نے شہدا کو موتیٰ کہنے کی نہی فرمائی ہے۔ ارشاد موجود ہے: وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ۝۰ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ (البقرہ:۱۵۴) اسی سورت میں اﷲ تعالیٰ نے شہدا کو اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَاءٍ کیوں کہا؟ بظاہر آپ کی تشریح کے لحاظ سے ان دونوں آیتوں میں تضاد معلوم ہوتا ہے۔ اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَاءٍ کے عموم میں آپ نے انبیا ؊ کو بھی داخل کیا ہے، حالاں کہ بہت سی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیا؊ قبروں میں جسد عنصری کے ساتھ زندہ ہیں ، وہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں ،سلام سنتے ہیں اور اس کا جواب بھی دیتے ہیں ۔ (۱)اَلْاَنْبِیَائُ اَحْیائٌ فِیْ قُبُوْرِ ھِمْ یُصَلُّونَ۔({ FR 1947 }) (۲) مَرْرْتُ بِمُوْسٰی لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِہٖ وَھُوَقَائِمٌ یُصَلّیِ فِیْ قَبَرہٖ۔({ FR 1948 }) (۳) مَنْ صلّٰی عَلیَّ عَنْدَ قَبْرِیْ سَمِعُتہُ وَمَنْ صَلّٰی عَلیَّ نَائِیًا اُبْلٍغْتُہ۔({ FR 1949 }) حتیٰ کہ بعض بزرگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بعد از وفات حضورﷺ[حضور نہیں بلکہ حضرت زید بن خارجہ انصاریؓ] کے ہونٹوں میں حرکت ہوئی اور جنازہ میں کلام فرمایا کہ بئرأریس وما بئر اریس ؟({ FR 2256 }) سوف تعلمون[یہ اضافہ ہے] اور قبر میں کلام فرمایا جس کو بعض اصحاب نے سنا۔ یہ تو وفات کے فوری بعد کی بات تھی کہ روح نے جسم کوکلیتاً نہیں چھوڑا تھا لیکن بعد میں تاحشر بھی روح کا وہی تعلق بدن سے قائم رہے گا۔ خیر بزرگوں کے اقوال کو چھوڑیے۔ مذکورہ بالا حدیثیں آپ کی تفسیر کے خلاف پڑتی ہیں ، براہِ کرم ان کی تشریح کیجیے۔
جواب
آپ نے جس اشکال کا ذکر کیاہے وہ بظاہر تو بہت پیچیدہ معلوم ہوتا ہے، لیکن تھوڑا سا غور کرنے پر ساری پیچیدگی رفع ہوجاتی ہے۔موت کے متعلق یہ بات تو عقل عام اور مشاہدے سے معلوم ومعروف ہے کہ وہ جسم اور روح کے درمیان اس تعلق کے انقطاع کا نام ہے جو عرف عام میں زندگی کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس معنی میں عام انسانوں کی طرح انبیا،اولیااور شہدا سب نے وفات پائی ہے، اور خودشریعت بھی ان کو دفن کرنے کی اجازت دیتی ہے، ان کا ترکہ تقسیم کرتی ہے (یاانبیا کے معاملے میں تقسیم ترکہ کو منع کرتی ہے)، ان کی بیوائوں کے نکاح ثانی کو جائز رکھتی ہے(یا انبیا کی حد تک اس کو حرام کرتی ہے،نہ اس بِنا پر کہ ان کے شوہرزندہ ہیں بلکہ اس بِنا پر کہ ان کی حیثیت اُمت کے لیے بمنزلۂ مادرہے) اور ان کے لیے موت یا قتل یا وفات کے الفاظ استعمال کرتی ہے۔اب لامحالہ جو زندگی ان کے لیے ثابت ہے وہ زندگی کے معروف معنی سے مختلف ہے۔اس حقیقت کو نگاہ میں رکھ کر جب آپ قرآن اور حدیث کے بیانات پر غورکریں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اس زندگی سے مراد بہرحال برزخی زندگی ہی ہے،خواہ اس کے مدارج ہر ایک گروہ کے لیے کتنے ہی الگ ہوں ، اور وہ موت جس کا ان کے حق میں انکار کیا گیا ہے،وہ موت بمعنی فنا اور عدم ہے نہ کہ موت بمعنی معروف۔ اس برزخی زندگی کی نوعیت، جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا، ہر ایک گروہ کے حق میں الگ ہے۔ ایک زندگی کفار وفجار کی ہے، مگر وہ حوالاتیوں کی سی زندگی ہے جس میں ان کے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔ انعام و اکرام کا کوئی پہلو اس میں نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ ان کو بھی سنواتا ہے مگر کوئی خوش خبری نہیں بلکہ اس طرح کی باتیں جیسی کہ مقتولین بدر کو نبیﷺ کی زبان مبارک سے سنوائیں تاکہ ان کے الم میں اور اضافہ ہو۔ ان میں سے اگر کچھ لوگ دنیا میں پوجے جاتے ہوں تو اﷲ تعالیٰ اس کی سماعت کا کوئی موقع ان کو نہیں دیتا کہ اس سے وہ راحت پاسکیں ۔ بخلاف اس کے انبیا اور اولیا اور شہدا وصالحین کی زندگی عالی قدر مہمانوں کی سی زندگی ہے جو فیصلۂ آخرت سے پہلے ہی میزبانی کے نعائم سے سرفراز ہورہے ہیں ۔اﷲ تعالیٰ ان کے لیے راحت اور لطف کے سامان فراہم کررہا ہے اور تکلیف دینے والی ہر چیز سے ان کو محفوظ رکھ رہا ہے۔ انھیں جو کچھ سننے کا موقع دیا جاتا ہے ،وہ اہل دنیا کے سلام و درودہیں ،نہ کہ وہ مشرکانہ باتیں جو جہلا ان کے بارے میں کرتے ہیں ،کیوں کہ وہ ان کو رنج پہنچانے والی ہوں گی نہ کہ خوش کرنے والی۔ظاہر بات ہے کہ جن بزرگوں نے اپنی ساری عمر شرک کو مٹانے کی کوشش میں کھپا دی،وہ اگر یہ سنیں گے کہ آج خود انھی کو حاجت روائی ومشکل کشائی کے لیے پکارا جارہا ہے تو اس سے بڑھ کر ان کے لیے رنج دہ کوئی دوسری بات نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ یہ باتیں ان کو سنا کر ان کا عیش ہرگز منغض نہ فرمائے گا۔ اس تشریح کے بعد مجھے امید ہے کہ آپ کو آیات قرآنی اور حدیث نبویﷺ کے درمیان کوئی تعارض محسوس نہ ہو گا۔ دونوں جگہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف پہلو بیان ہوئے ہیں ، مگر چوں کہ ان کی درمیانی کڑی کہیں تصریحات میں مذکور نہیں ہے اس لیے بظاہر ان میں تعارض نظر آتا ہے۔ تمام بیانات کو جمع کرکے بغور پڑھا جائے تو درمیانی کڑی انھی کے بین السطور سے مل جاتی ہے اور ظاہری تعارض رفع ہوجاتا ہے۔ (ترجمان القرآن، مارچ ۱۹۵۶ء)

Leave a Comment